فل کورٹ پر اصرار کیوں؟

13

چھ ججوں نے عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل اور سپریم کورٹ سے کی جو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے وائرل ہوکر منظر عام پر آئی۔ جس نے کچھ شکوک وشبہات کو اس لئے بھی تقویت دی کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اس پر غوروخوض کیلئے پہلے فل کورٹ، پھر ان چھ ججوں سے انفرادی طورپر ان کی شکایت کے حوالے سے آگاہی حاصل کی پھر وزیراعظم کو سپریم کورٹ میں مدعو کرکے مشاورت کی اور ججوں کے خط کی انکوائری کیلئے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم ہوگیا لیکن اس سیدھی سادھی کارروائی پر چیف جسٹس اور قاضی فائز عیسیٰ اورچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے استعفوں کا مطالبہ کردیا دوسرے اس لئے کہ انہوں نے پوری سپریم کورٹ کو ان کے مطالبہ پر انکوائری کمیشن کیوں نہیں بنایا، وکلاء تنظیموں سمیت جب ہرکوئی جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بے داغ کردار کی گواہی دے رہے ہیں تو پی ٹی آئی کیوں معترض ہے وجہ یہ ہے ان کو یقین ہے انکوائری کیلئے فل کورٹ کی صورت میں اس میں شامل دو تین جج ایسے ریمارکس یا اختلافی نوٹ دے سکتے ہیں جس سے پی ٹی آئی کو فیصلے کو متنازع بناکر 9مئی کے حوالے سے فوج پر دباؤ ڈالنے کا موقع مل جائے گا۔

پی ٹی آئی کے حامی کالم نگار بھی بہت بے کل نظر آرہے ہیں اور حوالے دے رہے ہیں کہ حمود الرحمن کمیشن ، میٹنگ پرسنز کمیشن ،سلیم شہزاد کمیشن وغیرہ کی انکوائریوں کیلئے ثمر ہونے کی تاریخ ہے۔ ارے بھائی لوگو، یہ جو عمران حکومت کے دور میں چینی سکینڈل، آٹا سکینڈل ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا سکینڈل ، قرض معافی، براڈشیٹ سیکنڈل ، اور سیالکوٹ واقع پر جو کمیشن بنائے گئے تھے ان کی سفارشات پر عمران حکومت نے کتنا عمل کیا اس میں ذمہ داروں کے خلاف کی کارروائی ہوئی کبھی اس پر بھی انصاف پسندی کا دورہ پڑا ہوتا۔

جہاں تک جسٹس (ر) جیلانی کمیشن کا تعلق ہے اس کے بے ثمر اور بے نتیجہ نہ رہنے کا امکان بلکہ یقین اس لئے ہے کہ معاملہ چھ ججوں کا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ اگر وہ ایجنسیوں کے مبینہ دباؤ کو منظر عام لانے کی جرأت کرسکتے ہیں تو وہ جیلانی کمیشن کی سفارشات کو بے اثر کرنے کے دباؤ کو بھی اگر ایسا ہوا بے نقاب کئے بنا نہیں رہیں گے ۔

چھ ججوں کا خط ایجنسیوں کا نام لے کر دراصل فوج پربراہ راست الزام ہے ۔ اس لئے فوجی قیادت خود بھی چاہے گی کہ کمیشن کی سفارشات صیغہ راز میں نہ رہیں۔ کیونکہ اس صورت میں فوج کے حوالے سے شکوک وشبہات کی گردوغبار اڑانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسرے چھ ججوں کے حوالے سے عوام اس میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ کمیشن کی سفارشات کو منظر عام پر نہ لایا گیا تو شدید عوامی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ یہ جاری رہے گا زیادہ توجہ نہ دی جائے تو بہتر ہے۔

پی ٹی آئی سے تعلق کی برہنہ شہرت رکھنے والے وکلاء سلمان اکرم راجہ، تیمور ملک، عبدالمغیر جعفری، زینب جنجوعہ نے پی ٹی آئی کے حامی 300وکلاء کی جانب سے جسٹس جیلانی کمیشن کے خلاف جو بیان جاری کیا ہے یہ اس کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی مہم کا حصہ ہی ہے۔ حیرت ہے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا تمسخر اڑانے والے یہ وکلاء اچانک ان کے طرفدار بن گئے۔

یہ نہایت غورطلب نکتہ ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ملٹری کورٹس کے 9مئی کے حوالے سے محفوظ فیصلے اپیل کے حق سے مشروط کرکے سنانے کی جو اجازت دی گئی ہے اور 50کے لگ بھگ ملزمان سزایاب ہوچکے ہیں اور ظاہر ہے کچھ خاص لوگوں کے بارے میں محفوظ فیصلے بھی آئے ہیں۔ اس سے قبل چھ ججوں کے خط سے فوج کے خلاف جو متنازعہ فضا جنم لے سکتی ہے یہ ’’خاص لوگوں‘‘ کے محفوظ فیصلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ اور ملزمان خاص کیلئے بچت کی صورت نکل آئے ۔آخر ان چھ ججوں کی حمایت میں پی ٹی آئی کی بھرپور انداز سے ’’اچھل کود‘‘ خالی ازعلت تو نہیں ہے۔

جیلانی کمیشن کے حوالے سے یہ خدشہ کہ اس کی فائنڈنگ کو حکومت لاخفاء میں رکھ کر حقائق کے منافی فیصلہ کرسکتی ہے اس لئے بلاجواز ہے کہ جو جج فوج کے ایک شعبہ کے خلاف الزام کی جرأت کرسکتے ہیں ان میں یہ واضح کرنے کی جرأت کیوں نہیں رہے گی کہ ہم نے کمیشن کو جو ثبوت پیش کئے وہ فیصلے کی بنیاد نہیں بنائے گے معاملہ کسی میرے جیسے عام آدمی کا نہیں بلکہ ہائی کورٹ کے ججوں کا ہے۔
ہرذہن میں سوتے جاگتے خیالات کی یلغار رہتی ہے عجیب سے خیال نے ذہن پر دستک دی کہیں ایجنسیوں نے ان ججوں کے پی ٹی آئی سے رابطوں کی ریکارڈنگ تو نہیں کرلی اور ان چھ ججوں کو اس کا علم ہوگیا۔ اور معاملے کو خلط ملط کرنے کیلئے ایجنسیوں کے حوالے سے الزامی خط تحریر کرنا ضرورت بن گیا ہو، یہ بہرحال حقیقت کا بیان ہے نہ اس کا کوئی ثبوت ہے ذہن میں در آنے والے خیالات کو روکنا انسانی بس سے باہر ہے البتہ ایک عدالتی روایت ہے کہ کسی کو ملزم ٹھہرانے سے قبل یہ دیکھا جاتا ہے کہ عمل یا معاملہ سے فائدہ کس کو ہررہا ہے پی ٹی آئی اس خط کے حوالے سے جس طرح ’’لنگرلنگوٹ‘‘کس پر میدان میں اتری ہے اس سے واضح ہے کہ اس خط کا فائدہ پی ٹی آئی کی جھولی میں گرا ہے، جبکہ ملک میں پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے ہزاروں وکلاء اور دیگر تنظیموں نے اس حوالے سے متانت کا اظہار کیا ہے۔

(ن) لیگ کے مقامی رہنما اور پارٹی سے دیرینہ وابستگی رکھنے والے شوکت ولی جٹ (ن) لیگ کے سرگرم کارکن اور سابق کونسلر ملک اسلم اور عدنان ظفر آرائیں کی جانب سے دی گئی افطار پارٹی میں لے گئے یہ شرکت اس آگاہی کا ذریعہ بنی کہ (ن) لیگ کراچی سے مقامی لیڈر ، ورکرز اور حامی اپنی قیادت سے خاصے مایوس ہیں جس کی بنیاد قیادت کی جانب سے مسلسل بے اعتنائی کا رویہ ہے وہ شکووکناں ہیں کہ الیکشن میں کوئی بڑا لیڈر ان کی انتخابی مہم میں شریک نہیں ہوا۔ بہرحال قیادت کی عملی سپورٹ کے بغیر (ن) لیگ کے لوگوں نے الیکشن لڑا۔ کسی ایک امیدوار کی ضمانت ضبط نہیں ہوئی۔ چلیں الیکشن مہم میں حصہ نہیں لیا الیکشن کے بعد ہارنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اگر میاں نوازشریف میاں شہبازشریف اور مریم نواز کیلئے مصروفیت کے باعث ممکن نہیں تھا تو سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں احسن اقبال ایک دوقابل ذکر لیڈروں کے ہمراہ آتے مسلم لیگ ہاؤس میں ان امیدواروں کو مدعوکرکے نوازشریف کی جانب سے توصیف کا پیغام دیتے ان کے الیکشن لڑنے کے جذبہ کو سراہا جاتا اور یقین دلایا جاتا کہ آئندہ الیکشن میں انہیں ترجیح دی جائے گی اس سے ان کی شکست سے پیدا شدہ افسردگی اور مایوسی کا خاتمہ ہوتا اور اس سے ان کے اندر جنم لینے والا نیا جوش وخروش سندھ میں (ن) لیگ کی مستحکم بنانے کا ذریعہ بنتا۔

تبصرے بند ہیں.