پی ٹی آئی کی رحلت؟

3

پاکستان تحریک انصاف بانی رہنما عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بالآخر خصوصی عدالت کی جانب سے سزا سنادی گئی ۔ سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت کی سزا سنادی۔ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی۔ اس سلسلے میں عمران خان اور شاہ محمود عدالت میں موجود تھے۔سماعت کے دوران جج نے کہا کہ آپ کے وکلا حاضر نہیں ہورہے،آپ کو سٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی، اس پر وکلا صفائی نے کہا کہ ہم جرح کرلیتے ہیں۔ دوران سماعت 342 کا سوالنامہ شاہ محمود قریشی اور بانی پی ٹی آئی کو دیا گیا جس پر دونوں ملزمان نے کہا کہ ہمارے وکلا موجود نہیں، ہم کیسے بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جس میں عمران خان نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔عدالت نے عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے اور مختصر سماعت کے بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو 10،10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ختم ہوچکی، پی ٹی آئی اب ایک ”سائیڈ شو“ رہے گی، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دوبارہ مین جماعتیں ہوں گی اور انہی میں مقابلہ ہو گا، ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا
تحریک انصاف کوئی تحریک یا فلاسفی نہیں ہے، پی ٹی آئی میں لوگوں کو بھیجا گیا تھا، پی ٹی آئی بدتمیزی کا ڈرامہ ہے، پی ٹی آئی میں جو لوگ گئے ہیں وہ پیپلزپارٹی میں واپس آنا چاہتے ہیں، وہ الیکشن کے بعدواپس آئیں گے، حیرانی ہوگی اگر لطیف کھوسہ جیت جائے گا، الیکشن میں سب کو سرپرائز مل سکتے ہیں۔آصف زرداری نے کہا کہ 16ماہ کی ذمہ داری ن لیگ پر ہے، کیونکہ وزیراعظم ان کا تھا، میں نے اس لئے وزیراعظم بنایا تھا کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں، ویسے باقی تو سب ٹھیک ہے تاہم سوال یہ ہے کہ سابق آصف علی زرداری نے جو کچھ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا ہے وہ کس قدر دُرست ہے ؟ چلیں حقائق پر کچھ نظر ڈالتے ہیں ۔کسی بھی سیاسی جماعت اور اسکے نظریے کے وجود کو اس کی صف ِ اول کی قیادت یقینی بناتی ہے۔9مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کا شیرازہ بکھر چکا ہے ۔ اس سے قبل جن کے ہاتھ میں اس جماعت کی باگ ڈور تھی ان میں سرفہرست عمران خان اور شاہ محمود قریشی پابند سلاسل اور اس وقت سائفر کیس سمیت

درجنوں دیگر مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔ صف اول کی دیگر شخصیات جو 2018 کے انتخابات میں حکومت بنانے والی تحریک انصاف سے وابستہ تھیں اور اپنے دور میں اہم وزارتوں پر فائز اور اس وقت کے وزیراعظم کے قریب ترین سمجھی جاتی تھیں آج سیاسی میدان سے غائب ہیں۔ ان میں اسد عمر ،شیریں مزاری، فیصل جاوید، عثمان ڈار، شہزاد اکبر، مراد سعید، شفقت محمود، شہباز گل، شوکت ترین، حماد اظہر اور فیصل واوڈا سر فہرست ہیں۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف حکومت کے کئی نام ایسے ہیں جو اس وقت طاقتور تصور کیے جاتے تھے لیکن اب وہ شخصیات یا تو پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکی ہیں یا کسی اور جماعت میں شامل ہو چکی ہیں۔ ان اہم رہنماؤں میں عون چوہدری، علی زیدی، عمران اسماعیل، فرخ حبیب، فردوس عاشق اعوان، عامر کیانی، فواد چوہدری، فیاض چوہان اور دیگر شامل ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے حلقوں میں یہ اُمید کی جارہی تھی کہ تحریک انصاف کے بانی رہنما کی جانب سے ملنے والی کال کے بعد 28جنوری بروز اتوار تحریک انصاف کا جم غفیر سڑکوں پر نکل آئے گا تاہم اگر آپ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا کمپین کو صرف نظر کرتے ہوئے حقائق پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں چند ہزار سے زائد کارکن باہر نہیں نکلے جنہیں بڑی آسانی سے پولیس نے دھر لیا۔ دیگر شہروں میں بھی کچھ اسی ہی صورت حال رہی ۔تاہم کراچی اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی قدرے بہتر شو کرنے میں کامیاب رہی ۔ تحریک انصاف کے دوستوں کا اس حوالے سے خیال ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کا خوف اس کی اصل وجہ ہے۔

تاہم یہ دوست ا سکاجواب دینے سے قاصر رہے کہ آخر ایسا کیوں تھاکہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے کئی سال بعد تک بھی مارشل لاء کی سخت ترین حکومت میں پی پی پی کے کارکن جیلوں، کوڑوں اور ریاستی اداروں کی چیرہ دستیوں کا سامنا کرتے رہے اور انکے پایہ استقلال میں کمی نہ آئی ۔

حقیقت حال تو یہ ہے کہ بلے کا نشان چھن جانے کے بعد الیکشن سمیت ریاستی اداروں کے ریکارڈ سے پی ٹی آئی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ اگر اس کے کچھ اُمیدوار آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی میں پہنچ بھی جائیں تو انہیں اگلے چند روز کے اندر کسی نہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا پڑے گی۔ یوں اگلی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کہیں نہیں ہوگی۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت کی جانب سے سزا کا سنایا جانا پی ٹی آئی کے لیے آسمان سے گرا کھجور پر اٹکا کے مصداق ہے ۔ پی ٹی آئی کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھرتا نظر آتا ہے ۔

تبصرے بند ہیں.