پاک ایران تعلقات کی بحالی۔۔۔۔۔۔خوش آئند پیش رفت!

14

پچھلے ہفتے کے دوران پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں بگاڑ کی جو انتہائی صورتِ حال سامنے آئی تھی، اس میں بہتری کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ ایران کی طرف سے پاکستان کے اندر میزائل داغے گئے تو اسے پاکستان کی خود مختاری، آزادی اور اقتدارِ اعلیٰ کے منافی سمجھ کر پاکستان کی طرف سے سخت ردِعمل سامنے آیا اور پاکستان نے آپریشن ”مرگ برسر مچار“ پر عمل کر کے اس کا بھر پور اور دو ٹوک جواب دیا۔ تاہم اس صورتِ حال کا نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے منقطع ہونے کی نوبت تک پہنچنے کی افسوس ناک صورت میں سامنے آیا۔ مقامِ شکر ہے کہ دونوں ممالک نے صورتِ حال کی نزاکت اور حساسیت کا خیال کرتے ہوئے سفارتی سطح پر رابطے کیے جن کے نتیجے میں ایران کی طرف سے پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کی پیش کش سامنے آئی۔ پاکستان نے بھی اس کا مثبت جواب دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے سفیروں کا اسی ہفتے کے دوران جہاں اپنے اپنے تعیناتی کے مقامات پر واپس جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے وہاں اگلے ہفتے کے شروع میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے پاکستان کے دورے کا شیڈول بھی سامنے آ چکا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلامیہ کے مطابق نگران وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی جنہیں ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کا مشن سونپا گیا ہے کی دعوت پر ایرانی وزیرِ خارجہ حسین عامر عبدا لہیان 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس دوران دونوں ممالک میں اعلیٰ سطح پر وفود کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا جس سے معمول کے تعلقات کی بحالی اور انہیں بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ہمسایہ برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کے حوالے سے یہ پیش رفت یقینا حوصلہ افزا سمجھی جا سکتی ہے تاہم یہ سوال بہر کیف اپنی جگہ موجود ہے کہ دونوں ممالک جو ایک دوسرے کے ہمسایہ ہونے کے ساتھ برادر اسلامی ملک بھی کہے اور سمجھے جاتے ہیں اور جن کے درمیان گہرے تاریخی، تہذیبی اور مذہبی حوالے بھی پائے جاتے ہیں، آخر تعلقات کی خرابی کی اس نہج پر کیوں پہنچے کہ دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی نوبت آ گئی۔ یقینا یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں پچھلے ہفتے کے دوران پیش آنے والے اہم حالات و واقعات کے تذکرے کے ساتھ پاک ایران باہمی تعلقات کی تاریخ بالخصوص حالیہ برسوں میں ایران اور ایرانیوں کی پاکستان کے بارے میںسوچ اور اندازِ فکر و عمل کا اجمالی سا جائزہ لینا ہو گا۔

پہلے پچھلے ہفتے کے واقعات کی طرف آتے ہیں۔ 16 جنوری کی رات کو ایران کی طرف سے پاکستانی علاقے پنجگور پر میزائل داغنا بلا شبہ اشتعال انگیز کارروائی اور پاکستان کی داخلی خود مختاری، سا لمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کو چیلنج کیے جانے کے مترادف تھا۔ پاکستان کی طرف سے اینٹ کا جواب پتھر کی صورت میں فوراً اس کا جواب آنا ضروری تھا۔ لیکن پاکستان نے انتہائی حد تک صبر و تحمل سے کام لیا اور زبانی کلامی احتجاج کرتے ہوئے یہ توقع رکھی کہ ایران اپنے جارحانہ اقدام کا دفاع کرنے کے بجائے اس پر معذرت کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرے گا۔ بد قسمتی سے ایسا نہ ہوا ، اس کے بجائے ایرانی حکومت کے ذمہ داران نے پاکستان کے احتجاج کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے الٹی سیدھی توجیحات ہی نہ کرنا شروع کر دیں بلکہ اپنے جارحانہ اقدام کو جائز بھی ٹھہرانا شروع کر دیا۔ اس پر اگلے 48 گھنٹوں کے اندر پاکستان کو مجبوراً ”آپریشن مرگ بر سر مچار“ بروئے کار لانا پڑا۔ جس کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان کے علاقے سراوان میں بلوچ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی پاکستانیوں نے وسیع پیمانے پر تائید اورحمایت کی، تاہم یہ سب کچھ پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے پریشانی اور تذبذب کا باعث بھی بنا کہ ایران جو ہمارا ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے اس کو کیا پڑی تھی کہ اس نے پاکستان پر میزائل داغ کر پاکستان کی علاقائی سا لمیت، خود مختاری اور اقتدارِ اعلیٰ کو زک پہنچانے کی کوشش ہی نہ کی بلکہ اُلٹا ہم پر ”تڑیاں“ بھی لگاتا رہا۔ اسی تذبذب اور پریشانی کے شکار میرے ایک کرم فرما نے جو سبزی اور پھل کی دکان چلاتے ہیں اور جن کی دکان سے میں روزمرہ کی خریداری کرتا ہوں مجھ سے بھی سوال کیا اور میں نے انہیں جو جواب دیا اس کا میں حوالہ دینا چاہوں گا کہ اس سے صورتِ حال کو سمجھنے اور جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔

میرے کرم فرما نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ سر جی یہ سب کیا ہے؟ ہم تو یہی جانتے، سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان اور ایران قریبی ہمسائے ہونے کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے گہرے تاریخی، تہذیبی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ آخر یہ کیا ہوا کہ ایران نے ہماری علاقائی خود مختاری اور آزادی کو پامال کرتے ہوئے ہم پر میزائل داغ دیے اور مجبوراً ہمیں اس کے خلاف ضروری فوجی کارروائی کرنا پڑی۔ آخر ہمارے قریبی تعلقات اور برادر اسلامی ملک ہونے کا رشتہ کیا ہوا؟ میں نے انہیں جوجواب دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پاکستان کی برادر اسلامی ممالک بالخصوص ایران اور افغانستان جیسے ہمسایہ اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ، کچھ اس طرح کا تھا ۔ یہ درست ہے کہ ایران اور پاکستان جغرافیائی طور پر ہمسایہ ملک ہیں اور اس کے ساتھ برادر اسلامی ملک بھی ہیں لیکن ان کے ساتھ برادر اسلامی ملک ہونے کا رشتہ یک طرفہ ہی سمجھ لیجیے کہ پاکستان تو ایران کو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہوئے اس کی شکر رنجیوں اور بعض اوقات اس کی چھوٹی موٹی زیادتیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہی نہیں رہا ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ اس کے معاملات میں اس کی معاونت اور اس کے موقف کی ہر ممکن تائید اور حمایت کرتا چلا آ رہا ہے لیکن اس کے مقابلے میں ایران کا رویہ یک طرفہ اور اپنے قومی اور مسلکی مفادات کو ہر صورت میں ترجیح دیتے چلا آ رہا ہے۔

سچی بات ہے ایران ہو، افغانستان ہو، شام ہو ، مصر ہو یا کوئی اور اسلامی ملک ہو پاکستان ہمیشہ ان کے لیے پشت پناہ کا کردار اور ہر فورم پر ان کے موقف یا نقطہ نظر ہائے نظر کی تائید اور حمائیت کے راستے پر گامز ن رہا ہے کہ اسلامی بھائی چارے کا تقاضا یہی ہے لیکن بیشتر اسلامی ممالک اسلامی بھائی چارے کے رشتے کو فوقیت دینے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دینے کی راہ پر عمل پیرا رہے ہیں۔ ایران کے حوالے سے تاریخ کو یاد کروں تو کچھ اسی طرح کی صورتِ حال سامنے آتی ہے ۔ پچھلی صدی کے پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں جب ایران پر آریہ محل شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت قائم تھی اور وہ جب بھی پاکستان کے دورے پر تشریف لاتے تو ہمارے قومی اخبارات میں ان کی اور ان کی ملکہ فرح دیبا کی پورے پورے صفحے کی رنگین تصاویر شائع ہوتیں جو ہمارے لیے دلی مسرت کا باعث ہوتیں۔ انہوں نے 1969ء میں ایران میں شہنشاہیت کی 2500 (پچیس سویں) سالگرہ کا جشن منایا تو ہم نے ان کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ستر کے عشرے کے آخری برسوں میں ایران میں شہنشاہیت کا خاتمہ ہوا اور امام خمینی کے اسلامی انقلاب سے ہمکنار ہوا تو ہم نے دل و جان سے اسلامی انقلاب کاخیر مقدم کیا لیکن جواب میں ہمیں کیا ملا اور اب تک مل رہا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا چند دن قبل ایران کی طرف سے ایک مظاہرہ سامنے آ چکاہے۔ سچی بات ہے کہ یہ ہم ہی ہیںجو اسلامی ممالک کے ساتھ اخوت اور بھائی چارے کے رشتے کی پاسداری کرتے رہے ہیں اور شاید اب بھی کرتے ہیں ، ورنہ ہمارے برادر اسلامی ممالک کے نزدیک ان کے قومی مفادات کی اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت ہے۔

تبصرے بند ہیں.