الیکشن 24ء مائنس ون، نیا فارمولا

30

کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ”محو حیرت ہوں سیاست کیا سے کیا ہو جائے گی“ ملک میں چل کیا رہا ہے؟ ملک چل کیوں رہا؟ عوام پریشان، سیاسی حلقے افراتفری کا شکار، ایک سینئر تجزیہ کار نے غلط نہیں کہا کہ 1971ء کے بعد ملک شدید ترین بحران سے دوچار ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقہ بندیوں کا اعلان کر کے واضح کر دیا کہ عام انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں گے۔ اس اعلان کے تحت قومی اسمبلی کی ان سیٹوں کی کل تعداد 342 سے کم کر کے 336 کر دی گئیں۔ اندرون سندھ سے بھی کچھ سیٹیں کم کی گئی ہیں۔ جن پر پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اب صرف انتخابی شیڈول کا انتظار ہے جس کے بعد انتخابی مہم میں تیزی آئے گی لیکن اسلام آباد سمیت ملک بھر میں الیکشن کے انعقاد کے بارے میں افواہیں بدستور، گردش کر رہی ہیں، نگرانوں کے کان میں کسی نے پھونک دیا کہ ڈٹ کے کام کرتے رہو، وہ ڈٹ کے کام کرنے لگے۔ نگران وزیر اعظم آرمی چیف کے ہمراہ یو اے ای گئے اور کم و بیش 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز پر دستخط کر کے لوٹے، بڑی کامیابی، امید افزا پیش رفت تاہم ان کی واپسی سے قبل کسی نے اڑا دی کہ الیکشن ابھی نہیں ہونگے، وجہ؟ لوگ کہتے ہیں کہ خان کے معاملات دسمبر جنوری تک قابو میں آنے کا یقین نہیں، سپریم کورٹ نے الیکشن کی تاریخ لاک کر کے افواہیں پھیلانے کے بجائے صرف بیگم سے بات کرنے کو کہا تھا جلیل القدر صحافیوں کو شاید گھر جانے کی فرصت نہ ملی۔ انہوں نے افواہوں کی آڑ میں بات گلی گلی پھیلا دی نئی بحث چھڑ گئی مقصد ڈھکا چھپا نہ رہا۔ عوام کو کنفیوژن میں مبتلا کیا جائے اور پی ٹی آئی سے مفاہمت کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے کس نے انہیں اس راہ پر لگایا، کس کو الزام دیں، فتنہ سے نجات کے بجائے بحرانوں کو ہوا دی گئی۔ مستقبل کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ معافی تلافی ففٹی ففٹی یعنی خان معافی پر تیار ایک ریٹائرڈ جنرل کے ذریعے معافی نامہ بھیجا جواب نا منظور، نو مرسی نو ریلیف، خان کے خلاف سنگین مقدمات، سزاؤں کی بازگشت، جھولی میں چھید، لیڈر فرار، مخلص کارکن مایوس، بزدل ساتھی روپوش، بادیئ النظر میں پی ٹی آئی کے لیے جگہ تنگ پڑنے کے امکانات خان کو ادراک ہو چکا کہ وہ انتخابی لہر سے مائنس ہو چکے، مقدمات مسلسل پیچھا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ طویل سزائیں، نوشتہ دیوار، ایسے میں ”مبلغین مفاہمت“ میدان میں اترے اور موتیوں جیسے الفاظ سے تحریک انصاف کو سمجھایا گیا کہ وہ فوری طور پر انتخابات کے لیے اپنی پالیسی وضع کریں اپنے صلاح پسند لیڈروں کو مقتدرہ اور دوسری سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر کے خان اور تحریک کے لیے راستہ کھولیں۔ ”آزمودہ جماعت پر اچانک نظر کرم کیوں؟ جادو کی اس ”جپھی“ کو ممکن بنانے کے لیے اوپر تلے تجاویز پیش کی گئیں۔ ان تجاویز کو خان نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔ عملدرآمد کی بھی ہدایت کر دی، مگر مشکل آن پڑی کہ صلح پسند لیڈر ناپید ہو گئے۔ کون تھے کہاں گئے، کچھ اللہ کو پیارے ہو گئے جو بچ گئے انہیں جہانگیر ترین نے گلے لگا لیا 9 مئی کے بعد امن و شانتی کا علم بلند کرنے والے اپنی کھالیں بچانے کے لیے ”پریس کانفرنسیں“ کر کے خان سے علیحدہ ہو گئے۔ ”چلہ کشی“ سے پہلے ان کے بیانات بھی جلتی پر تیل کا کام کرتے تھے سب نے چار سال بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور سانحہ 9 مئی کے بعد گنگا کے دوسرے کنارے پہنچ کر غسل کی تیاری کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کو مائنس ون کے باوجود راستہ ملنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا، قحط الرجال کے باعث نو وارد وکلا ہی آگے آگے گویا ”حسن کی سرکار میں کالے کوٹ ہی آگے بڑھے“ خان نے ہر ایک سے عالم وجد میں گفتگو کی سب نے اپنے اپنے مطلب نکالے ”کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا“ وکلا بیرسٹر گوہر علی کو کیئر ٹیکر چیئرمین بنانے کے مسئلہ پر تقسیم ہو گئے۔ علی ظفر، شیر افضل مروت نے ان کا نام لیا۔ لطیف کھوسہ، شعیب شاہین اور دیگر  نے مخالفت کی۔ تاہم اس پر اتفاق کہ شریف آدمی ہیں پیپلز پارٹی سے ادھر آئے سیاست دان ویسے نہیں ہیں۔ انٹرا پارٹی الیکشن ہو گئے اکبر ایس بابر اور دیگر بانی ارکان کو اعتراض تائید کنندہ نہ پیش کنندہ امیدوار نہ ووٹر پورے الیکشن میں 15 منٹ لگے۔ پتا نہیں الیکشن کمیشن ان انتخابات کو قبول کرے گا یا انہیں عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ اس عرصہ میں شیڈول کا اعلان ہو گیا تو امیدوار کہاں سے درآمد ہوں گے اور ان کی درخواستوں پر دستخط کون کرے گا سب کچھ غیر یقینی، اسی کشمکش میں بلے کے نشان کو خطرہ ہو گا۔ پارٹی میں بغاوت پھوٹ پڑی بات سیاسی کارکنوں کے بجائے وکیلوں تک آ پہنچی حامد خان نے بھی نووارد چیئرمین کی مخالفت کی۔ پارٹی خان کے ہاتھ سے نکل کر کن ہاتھوں میں چلی گئی اللہ خیر کرے گا۔ کپتان کے لیے بری خبریں ہیں۔ سائفر کیس، القادر ٹرسٹ یا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل ہی میں ہو رہی ہے۔ آئندہ تین ہفتوں بعد جو کچھ ہونے والا ہے اس کا خان کو بھی ادراک ہے۔ اسی لیے وہ بادل ناخواستہ ایک اور وسیم اکرم پلس لانے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ شنید ہے کہ درود شریف پڑھ کر خان کی حمایت کرنے والے علی محمد خان کی زیر قیادت ایک معتدل گروپ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ ”اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا“ خان بھی پارٹی کی طرح کئی حصوں میں تقسیم ہیں۔ بات گھر کی دہلیز تک آپہنچی ہے۔ محمد حنیف نامی شہری کی جانب سے عدت میں شدت کے خلاف درخواست واپس لیتے ہی نہ جانے غلام فرید مانیکا (سابق شوہر بشریٰ بی بی) کی غیرت 6 سال بعد کیسے جاگ اٹھی کہ انہوں نے عدالت میں اپنی سابقہ بیوی اور خان میں مبینہ ناجائز تعلقات کے خلاف درخواست دائر کر دی، اپنا بیان ریکارڈ کرایا اپنے اسی ملازم لطیف کا بیان بھی سامنے لائے جس نے خان کو گھر سے نکال دیا تھا۔ انہوں نے اپنی سالی مریم وٹو پر بھی الزام لگایا کہ اس نے بشریٰ بی بی کو خان سے متعارف کرایا اور مبینہ طور پر اس کا تعلق (بقول مانیکا) یہودی لابی سے ہے اس درخواست کے بعد عدت میں شدت کا کیس بحال ہو گیا۔ اسلامی حدود آرڈی نینس کے تحت سزا سنگین (عذاب الٰہی کو دعوت مشرف دور میں بالرضا کی آڑ میں سزا ختم کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تھی) بالرضا کے قانون کے تحت پنڈی والوں کی زبان میں ڈھولا (محبوب) شاید بچ جائے لیکن رولا (شور) برقرار رہے گا۔ ایک خاتون ہاجرہ پانیزئی نے بھی خان سے اپنے تعلقات پلس کا اعتراف کیا ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران مزید آڈیو ویڈیوز آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قرآنی حکم ”تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے“ ریت کا بت بنا کر اس کی پرستش کرنے والوں کو احساس ہو جانا چاہیے کہ غالب کے پرزے اُڑنا شروع ہو گئے ہیں، مارکیٹ میں نئے فارمولے جگہ پا رہے ہیں، کراچی کے ایک سینئر صحافی نے کہا کہ مخلوط حکومت بنے گی مگر وزیر اعظم کہیں اور سے آئے گا اسے پذیرائی نہ مل سکی دوسرا فارمولا فلوٹ ہوا کہ اندرونی اور بیرونی دوستوں کی تجویز پر طے پایا ہے کہ آئندہ 5 سال کے لیے ایک وسیع البنیاد قومی حکومت قائم کی جائے گی جو پارٹی جیتے گی اس کا وزیر اعظم ہو گا اس میں مائنس عمران پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں شامل ہوں گے۔ وزیر اعظم کے لیے تین نام دیے جائیں گے ایک پر اتفاق ہو گا۔ کابینہ 30 وزراء پر مشتمل ہو گی۔ سول ملٹری تعلقات طے پا چکے اصل مقصد ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی بحالی ہو گا۔ شور شرابہ، التوا کی خبریں، معافی تلافی کی ناکام کوششیں، گھوڑے کے آگے تانگہ باندھنے کی تدبیریں سب کچھ بجا لیکن ن لیگ کیوں مطمئن ہے میاں نواز شریف ایک مقدمہ میں بری ہو گئے۔ معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا، دوسرا مقدمہ بھی نمٹ جائے گا۔ امیدواروں کی جانب سے 4 ہزار درخواستیں موصول ہو گئیں، انتخابی مہم کے لیے 7 ارب جمع ہو گئے، پیپلز پارٹی سے رسہ کشی جاری مگر اتحاد کی امیدیں بقول شاعر ”جب تک رہے گا رسہ، رسہ کشی رہے گی، کب تک رہے گا رسہ، یہ عرض پھر کریں گے“۔

تبصرے بند ہیں.