صف ماتم اور سیاسی تفریق

24

تحریک انصاف کے زمانہ اقتدار میں پے در پے غلط فیصلوں کے بعد زمانہ زوال میں کچھ درست فیصلے کرنا سیکھے ہیں، 9 مئی کے بعد ایک مرحلے پر یوں نظر آیا کہ مرغی اپنے چوزوں کو لیے اِدھر اُدھر منہ مار رہی ہے، کٹکٹا رہی ہے جبکہ بلی دیوار پر آنکھیں بند کیے لیٹی دھوپ کے مزے لے رہی تھی۔ مرغی کا شور کم نہ ہوا تو بلی نے جھپٹا مارا کچھ چوزے منہ میں دبائے اور یہ جا وہ جا۔ دوسرے حملے میں مرغی قابو آ گئی چوزے اِدھر اُدھر بھاگ گئے کچھ کچھ دیر بعد وہ اوٹ سے چھوٹی چھوٹی گردنیں نکال کر جائزہ لیتے اور پھر چھپ جاتے۔ سیانے چوزوں نے ایک اور خالہ مرغی کے پروں میں پناہ لے لی، یوں وہ محفوظ ہو گئے۔ اب انکی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ انٹرا پارٹی الیکشن کا موقع آیا تو اپنی فیکٹری کی تیار کردہ چیزوں کے ساتھ درآمدی مال بھی ٹھکانے لگا دیا گیا۔ بیرسٹر گوہر علی خان بلا مقابلہ پارٹی چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں جبکہ یاسمین راشد، علی امین گنڈا پور، حلیم عادل شیخ اور منیر احمد بلوچ اپنے اپنے صوبے کے صدر بنا دیئے گئے ہیں۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے موقع پر دلچسپ مناظر دیکھنے میں آئے۔ گلیاں تو سنجیاں تھیں ہی مرزا یار بھی دور دور تک نظر نہ آیا۔ بس نتیجہ آیا تو معلوم ہوا کون کون منتخب ہو گیا ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن ہر سیاسی جماعت میں اسی طرح ہوتے ہیں، پارٹی چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوتا ہے کوئی اسکے مقابل آنے کی جرأت نہیں کر سکتا اگر کوئی دیوانہ مقابلے کا سوچ لے تو پھر پارٹی میں اسکا نام نشان نہیں ملتا۔ پی ٹی آئی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سابق چیئرمین کی نااہلی کے بعد خاندان سے باہر یہ عہدہ جانے دیا۔ یاد پڑتا ہے جناب نواز شریف نااہل ہوئے تو شہباز شریف کے سر پر یہ تاج سجا دیا گیا جبکہ مریم نواز کو سینئر نائب صدر کا عہدہ عطا ہوا۔ آصف علی زرداری صاحب نے بلاول بھٹو کو پارٹی چیئرمین بنا دیا، پوری پارٹی میں کوئی اس قابل نظر آیا نہ کسی نے مقابل کھڑے ہونے کی جرأت کی یوں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی مثالیں دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی نظر آتی ہیں، جھرلو انتخابات کا پہلا مرحلہ انٹرا پارٹی الیکشن سے شروع ہوتا ہے اور جنرل الیکشن تک جاتا ہے جن کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت جیت گئی ہے۔ اس جیت پر قوم خدا کا شکر بجا لاتی ہے، ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ جیتنے والے کی کم عمری کی دعائیں ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہیں تا کہ الیکشن کا انعقاد جلد ہو، پانچ برس تک انتظار نہ کرنا پڑے۔

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں نیازی خاندان پس پردہ بہت متحرک تھا۔ دوسری پارٹیوں سے مستعار افراد خاصے پُر امید تھے، بانی ارکان کا خیال تھا کہ قرعہ ان کے ہی نام نکلے گا جبکہ ناراض کزنز اس نازک موقع پر سابق چیئرمین کے سات خون معاف کر کے اسکے پسینے کے ساتھ اپنا خون بہانے کیلے تیار ہو چکے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ موسم سرما شروع ہو چکا ہے۔ سابق چیئرمین کو آئندہ کئی ماہ تک پسینہ آنے کا دور دور تک امکان نہیں پھر جب پسینہ آنے کا موسم آئے گا تو انتخابات ہو چکے ہونگے۔ کیا خبر اس وقت تریاق ڈھونڈا جا رہا ہو یا نیازی پلیٹ لیٹس کی گنتی شروع ہو چکی ہو۔ بہر حال اس پُر کشش عہدے کے امیدوار بہت سے تھے جن میں پنکی پیرنی صاحبہ جو سیاسی شادی کے بعد پُر امید ہونے سے بچنے کیلئے مختلف تدبیریں کرتی رہیں، اس معاملے میں بہت پُر جوش اور پُر امید نظر آئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے اب جوتیوں میں دال بٹے گی لیکن میرا خیال ہے ایسا نہیں ہو گا۔ جس پارٹی کا بانی اور سابق چیئرمین تمام عمر دال سے دور رہا ہو اور جیل پہنچ کر بھی مٹن روسٹ اور دیسی گھی میں تیار کردہ دیسی مرغ سے شغف کر رہا ہو، وہاں دال کا کیا دخل۔ یہ چھوٹے موٹے کام تو غریب غربا سیاسی جماعتوں میں ہوتے ہیں، پی ٹی آئی ایک امیر جماعت ہے اسکے پاس دولت کی کمی نہیں ہے اسکے درجن بھر سے زائد ممنوعہ فنڈنگ سے لبریز بنک اکاؤنٹس سامنے آ چکے ہیں، اسکے وکلا تحریری طور پر بتا چکے ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ سے فائدہ اٹھایا گیا، پارٹی اور پارٹی راہنماؤں کو اس معاملے میں رعایت دی جائے جبکہ رقوم بے شک ضبط کر لی جائیں۔ پنکی پیرنی کے علاوہ کچھ خواتین نے بھی اپنا پورا زور لگایا لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔ ناکامی کامیابی میں بدل سکتی تھی لیکن وہ ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بجائے کسی اور جگہ کا زور لگاتی رہیں اور ناکام ٹھہریں، بعض خواتین اپنے اس مقصد میں اس لیے نا کام ہوئیں کہ انہوں نے پارٹی جوائن کرتے ہی بوائے کٹ کرا لیا تھا یوں بوقت ضرورت انکی چوٹی سرے سے موجود ہی نہ تھی، وہ صرف ایڑی کا زور لگاتی رہیں لیکن ظاہر ہے ایڑی میں وہ طاقت کہاں ہوتی ہے جو ایسے کاموں کیلئے ضروری خیال کی جاتی ہے۔

بھائی کی چیئرمینی ختم ہونے کے بعد باجی گروپ کا خیال تھا کہ نئی ’چیئر ویمنی‘ اب ان کے گھر کی لونڈی بن جائے گی پھر وہ اپنی باقی عمر اس سے وہی سلوک کریں گی جو بھائی صاحب تمام عمر اپنی ہم عمر اور کم عمر خواتین کے ساتھ کرتے رہے ہیں لیکن انکی قسمت نے یاوری نہ کی۔ یوں بھی مروجہ فیشن کے مطابق سترا بہترا چیئرمین تو ہو سکتا ہے چیئرپرسن نہیں ہو سکتی۔ یہ استثنیٰ بے نظیر بھٹو کو تھا جنکے باپ نے اسکی قیمت ادا کی، اب کسی اور باپ نے ایڈوانس میں یہ قیمت ادا کر دی تو پھر اسکی بیٹی بھی بآسانی پارٹی چیئر پرسن بن جائے گی۔ فی الحال تو ایک چچا جان بھتیجی کی راہ میں روڑا بنے بیٹھے ہیں آجکل انکی اداکاری عروج پر ہے، گذشتہ برسوں وہ گلوکاری کی دھاک بٹھاتے نظر آئے پرانا کھلاڑی ہونے کے ناتے نیا جا لائے ہیں۔ انٹرا پارٹی الیکشن ہونے اور نیا پارٹی چیئرمین آنے کے بعد جیل میں موجود مختلف شخصیات کا ضمیر جاگنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ توبہ تائب کرنے کیلئے بے تاب نظر آئیں گے اور قوم کے علم میں اضافہ کرینگے کہ انکا 9 مئی کے واقعات اور اسکے تمام زنانہ اور مردانہ کرداروں سے کوئی تعلق نہیں، وہ اس فعل کی تہہ دل سے مذمت کرتے ہیں اور ان تمام واقعات کا ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ پارٹی کے سابق چیئرمین کو قرار دیتے ہیں۔ جیل میں موجود آنٹی گروپ میں کئی آنٹیاں بھی اس عہدے کی امیدوار تھیں کچھ کو اپنے زمانہئ آزادی کی کارکردگی پر بہت ناز تھا، انکا خیال تھا کہ جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے انکی سروسز کو یاد رکھا جائے گا اور اس بات کا احساس کیا جائے گا کہ انہوں تمام عمر پارٹی سے کچھ لیا نہیں بلکہ پارٹی کو بہت کچھ دیا ہے۔ نئے پارٹی چیئرمین کے منتخب ہونے کے اعلان کو آنٹی گروپ نے نہایت رنج و الم کے ساتھ سنا۔ انہوں نے اپنی معافی کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں اور ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دانشور گروپ اسے جناب اعتزاز احسن کی عظیم کامیابی قرار دے رہا ہے، پارٹی میں صف ماتم بچھی ہے، ایک دوسرے سے تعزیت جاری ہے۔

تبصرے بند ہیں.