الوداع قومی اسمبلی

55

پاکستان کی تخلیق کے بعد پندرہویں اور تہتر کے آئین کے تحت بننے والی گیارہویں قومی اسمبلی رخصت ہورہی ہے۔ اس اسمبلی کی خاص بات یہ ہے کہ پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد یہ مسلسل چوتھی قومی اسمبلی ہے جو اپنی مدت پوری کر رہی ہے ورنہ ضیاء الحق کے مارشل لاء میں اور اس کے بعد بننے والی پانچوں اسمبلیوں کو’پری میچور ڈیتھ‘کا سامنا کرنا پڑا۔ میں اس امر کی گواہی نہیں دے سکتا کہ یہ پندرہویں اسمبلی تمام اداروں کی ماں رہی جیسا کہ آئین کہتا ہے، ہاں، یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ماں بھی رہی تو ایسی کہ اپنے ہی بچوں سے پنجابی کے محاورے کے مطابق ’چونڈے پٹواتی‘ رہی۔ ایک بات کی گواہی ضرور دوں گا کہ یہ اسمبلی ماضی کی اسمبلیوں سے کچھ بہتر ضرور رہی۔ہر مرتبہ وزیراعظم کو کبھی ایوان صدر، کبھی فوج اور کبھی عدلیہ گھر بھیجتی تھی مگر اس مرتبہ یہ کام قومی اسمبلی نے خود کیا۔
کیا پندرہویں اسمبلی صاف اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں عوام کی حقیقی نمائندہ اسمبلی تھی تو اس کی گواہی بھی مشکل ہے۔ یوں بھی ہماری نظر میں حق پر وہی ہوتا ہے جو ہمارے حق میں ہو۔ کیا اس سے پہلے جب دو ہزار تیرہ کی اسمبلی بنی تھی تو وہ عمران خان اور ان کے گروہ کی نظر میں عوامی نمائندہ تھی، ہرگز نہیں، وہ کہتے تھے کہ پینتیس پنکچر لگائے گئے ہیں مگر وہ دھاندلی کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے تھے۔ جہاں عدالت نے ان کے دعووں کومسترد کیا تھا وہاں انہوں نے خود بھی اپنے الزامات کو سیاسی بات کہہ کے ہوا میں اڑا دیا تھا۔ اس سے پچھلی اسمبلی کی بھی خاص بات یہ تھی کہ اس میں تمام سیاسی قوتیں اسمبلی کی بقا کے لئے اکٹھی ہو گئی تھیں سوائے اس سیاسی قوت کے جو کٹھ پتلی بن کے اقتدار میں آنا چاہتی تھی۔ اس امر کا دو جمع دو کی طرح فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ نواز شریف کو وزیراعظم بنانے والے اسمبلی نے اگر اپنی زندگی پوری کی تھی تو اس کا کریڈٹ سیاسی قوتوں کے اتحاد کو جاتا ہے یا جنرل راحیل شریف کی قیادت کو، جنہوں نے بار بار کی دعوت اور مواقع کے باوجود مارشل لا لگانے سے گریز کیا تھا۔ جب دھرنے ہو رہے تھے تو پاکستان کی پرانی جماعتوں کو ان سے کچھ کچھ آن دی ریکارڈ اور کچھ کچھ آف دی ریکارڈ شکوے تھے مگر جب ان کی جگہ جنرل قمر جاوید باجوہ آئے تھے تو اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف جو کچھ کیا وہ کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ ان کے بعد جو کچھ ہوا تھا وہ بہت کچھ تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف آج کل اپنی تقریروں میں انکشافات پر انکشافات کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے گورنر ہاؤس میں بہت سارے منصوبوں کا افتتا ح کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جب چین کے صدر نے ریڈ زون میں دھرنوں کی ایکٹیویٹی کی وجہ سے پاکستان آنے سے معذرت کی تھی کیونکہ ان کی سکیورٹی کا مسئلہ تھا اور اس معذرت نے سی پیک کے لئے بھی مسائل پیدا کئے تھے تو شہباز شریف اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پاس بھی گئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ وہ چینی صدر کے دورے کی تنسیخ روکنے کے لئے اپنا کردارادا کریں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت کے آرمی چیف نے چینی حکومت سے بھی رابطہ کیا تھا مگر وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ کیا آرمی چیف نے ان سے بھی رابطہ کیا تھا جو دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ابھی ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم بارہ کہو میں بائی پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر چھکا مارتے مارتے رک گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت سارے سپہ سالاروں سے ملے ہیں اور ان کے سینے میں بہت سارے راز ہیں مگر پھر بتاتے بتاتے رک گئے اور کہا کہ بہت سارے راز ان کے ساتھ ہی قبر میں جائیں گے۔ ویسے وزیراعظم کے پاس جو بہت سارے راز ہیں وہ اب راز نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے۔ واپس اسی اسمبلی کی طرف آتے ہیں جو جا رہی ہے۔ اس مرتبہ ایک اورمختلف کام ہوا ہے کہ پہلے اعلیٰ عدالت اسمبلی یا اسمبلی کے سربراہ کو بھیجا کرتی تھی مگر اس مرتبہ اسی اعلیٰ عدالت نے اسمبلی کو بچایا ہے یعنی عمران خان نے تو اسمبلی توڑنے کی سمری بھیج دی تھی اور صدر علوی نے اس پر عمل بھی کر دیا تھا مگر اسمبلی کو سپریم کورٹ نے بچا لیا۔ اسی اسمبلی کی کارروائی آخری دنوں میں کچھ تہلکہ خیز رہی اورجہاں دھڑا دھڑ قانون سازی کی گئی وہاں آفیشئل سیکرٹ ایکٹ میں تبدیلیوں سمیت کچھ قوانین پر ارکان نے شور بھی مچایا اور اس میں تبدیلیاں بھی کروائیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسمبلی میں جان پید ا ہو رہی ہے ورنہ میں نے صوبائی سے لے کر قومی اسمبلی تک مسودہ ہائے قوانین کے پیش ہونے پر ارکان کو ٹھپے لگاتے ہی دیکھا ہے۔ اسمبلیوں کے حالات بہت برے ہیں۔ وہاں پوچھے جانے والے سوالات کے مہینوں بلکہ برسوں تک جواب نہیں آتے۔ جعلی حاضریاں لگتی ہیں اور بہت سارے ارکان پانچ، پانچ برس تک ایوان میں ایک لفظ تک ادا نہیں کرتے لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہوتی ہے تو ماں جتنی بھی کمزور اور مجبور ہو، وہ ماں ہی ہوتی ہے۔اس کا وجود باعث رحمت ہوتا ہے۔
پندرہویں قومی اسمبلی رخصت ہور ہی ہے مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ سولہویں قومی اسمبلی کب بنے گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت کی طرف سے نئی مردم شماری کے نتائج منظور اور جاری کرنے کے بعدانتخابات میں تین سے نو ماہ تک کی تاخیر کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ تین سے چار ماہ تو الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کے لئے درکار ہوں گے اور پھر اگر یہ حلقہ بندیاں ٹریبونلز کے بعد اپیلٹ کورٹس میں چیلنج ہوگئیں تو اس پر مزید وقت لگ جائے گا۔ الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ کاسیکشن چودہ کہتا ہے کہ الیکشن پلان چار ماہ پہلے دینا ضروری ہے۔ میرے پاس اطلاعات یہی ہیں کہ سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کے درمیان نگران حکومت کی مدت پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ سیاسی قوتیں چاہتی ہیں کہ اضافی مدت تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔ ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ ریاست متحد ہو کے جس معاشی ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں پانچ برس کے لئے ایک آئینی، جمہوری اور مضبوط حکومت موجود ہو جو دوست ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ معاملات کو طے کر سکے۔ دوسری طرف ایک خیال یہ ہے کہ ماں اپنا کردار بخوبی ادا نہیں کرسکی، اس کی اہمیت سے انکار نہیں مگر اس وقت باپ کا ڈنڈا زیادہ ضروری ہے۔ وہ کچھ عرصہ چلے گا تو وگڑے تگڑے ٹھیک ہوں گے۔ جب ایک اولادباپ کی داڑھی نوچنے پر پہنچ جاتی ہے تو پھر ماں بھی اسے نہیں بچا پاتی۔ مجھے لگتا ہے کہ اداروں کو نئی ماں ملنے میں کچھ وقت لگ جائے گاا ور اتنی دیر باپ کا جوتا ہی چلے گا اور خوب چلے گا۔

تبصرے بند ہیں.