"معاملہ محض گھڑی کا نہیں۔۔”

23

اہل علم، اہل فکر اور اہل نظر کے لئے یہ معاملہ صرف ایک گھڑی کا نہیں ہونا چاہئے کہ ایک وزیراعظم نے توشہ خانے سے ایک گھڑی بلکہ بہت سارے تحفے اس طرح لئے جیسے کوئی بروکر ، ایجنٹ، سٹے باز یا دلال کوئی شے ادھر سے لیتا ہے اور دوسری طرف اس کا سودا کر کے اپنا منافع کھرا کر لیتا ہے۔ تحفہ بیچنا اپنی جگہ پر شرم والی بات ہے مگریہاں تو ایک نہیں بہت ساری بے شرمیاں ہیں۔عمران خان نے بطور وزیراعظم توشہ خانے سے تحفے لینے کے لئے بیس فیصد ادائیگی کے قانون کو پچاس فیصد میں بدلا اور پھر خود ہی اسے توڑ ڈالا یعنی سعودی ولی عہد کی تحفہ کی گئی قیمتی گھڑی کی صرف بیس فیصد ادائیگی کی۔ یہ قول و فعل کے تضاد کی بدترین مثال ہے کہ عمران خان بہت دیر تک اس قانون کو بدلنے کا کریڈٹ لیتے رہے۔ سورة صف کی دوسری اور تیسری آیت میں ایسے ہی معاملات کے بارے حکم ہے کہ اے ایمان والو، تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک سخت برا ہے کہ وہ تم وہ بات کہو جو تم نہیں کرتے ہو۔ بہت سارے تحائف ایسے ہیں جو توشہ خانہ سے لئے گئے اور ان کی پرانے دور کے قانون کے مطابق بیس فیصد قیمت بھی ادا نہیں کی گئی یعنی یہ صریحا چوری ہوئی، وزیراعظم ہونے کی بنیاد پر سینہ زوری ہوئی۔
میں نے کہا، معاملہ صرف گھڑی کا نہیں، جناب عمران خان اس سے پہلے بھی کسی شاندار اور قابل تقلید اخلاقیات کے حامل شخص نہیں رہے۔ شادیاں اور اولادیں ان کا ذاتی مسئلہ ہیں مگر مغرب بھی اس پر قائل ہے کہ سیاستدانوں کی ذاتی زندگی بھی صاف شفاف ہونی چاہئے جنہوں نے قوم کی قیادت کرنی ہے، چلیں، آپ امریکی عدالت سے لے کر ان کی شادی کے معاملات اور ریحام خان کی کتاب میں درج سکینڈلز کو ’ ذاتی معاملات‘ کہتے ہوئے نظرانداز بھی کر دیں تو وہ سیاست میں جھوٹ اور یوٹرن کو حکمت اور فراست کانام دینے والے ہیں۔ شخصی معاملات سے باہر نکلتے ہوئے مالی معاملات کو ہی دیکھ لیجئے تو بے شمار سوالات ہیں جیسے ایک بنیاد ی سوال کہ جب سے انہوں نے کرکٹ چھوڑی ہے اس کے بعد سے ان کا ذریعہ معاش کیا ہے۔ اس وقت ایک اپر مڈل کلاس گھرانہ بھی لاکھوں روپے مہینے کے اخراجات کر رہا ہے جبکہ ان کی کئی سو کینال سے اوپر کی رہائش گاہ کے انتظامی اخراجات سے ان کی نقل وحرکت سمیت دیگر خرچوں کے لئے ماہانہ کئی ملین روپے درکار ہیںاور سادہ سوال ہے کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں کیونکہ وہ کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرتے۔ کیا ان کا گزارا زکواة، عطیات اور ممنوعہ فارن فنڈنگ پر ہے۔ شخصیت اور معاش کے معاملات سے نکل کر سیاست میں آجائیں، ہمارے تمام سیاستدان جھوٹ بھی بولتے ہیں اور پالیسیوں پر یوٹرن بھی لیتے ہیں مگر وہ اس خامی اور مجبوری کو کسی خوبی اور کمال کے طو رپر پیش نہیں کرتے۔ خانصاحب فکری مغالطوں اور دانشوارانہ گمراہیوں کا بدترین استعمال کرتے ہیں جیسے فوج کی سیاست میں مداخلت۔ دنیا بھر کے ریاستی نظاموں میں فوج ملکی دفاع کے لئے ہوتی ہے اور اندرونی سیاسی معاملات میں غیر جانبدار مگر یہ خانصاحب ہی ہیں جنہوں نے فوج کی غیرجانبداری کو بھی گالی بنا کے پیش کیا ہے۔ اسے غیر جانبدار ہونے پر جانور کہا ہے۔ حق ، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے فوج کی غیر آئینی مداخلت کی وجہ سے اپنا آدھا ملک کھویا، یہاں آمریتیں قائم ہوئیں۔
جی ہاں، میں نے کہا کہ معاملہ صرف گھڑی کا نہیں کہ گھڑی تو ایک شے ہے، عین ممکن ہے کہ کوئی مغالطہ لگا ہو اور کسی نے ایسی رائے دی ہو کہ غلطی ہو گئی ہو، اسے انہوں نے ایک درست عمل اور اپنا حق سمجھا ہو مگر بات صرف ایک گھڑی تک تو محدود نہیں۔ خانصاحب کی روش اسی وقت نظر آتی ہے جب وہ آج سے چار برس پہلے اگست کے تیسرے ہفتے میں اقتدار سنبھالتے ہیں اور نومبرگزرنے سے پہلے ہی دو گھڑیاں توشہ خانے سے لے کراسی روز ( یعنی کسی بروکر، ایجنٹ، سٹے باز یا دلال کی طرح) مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ گھڑیاں ستر لاکھ روپوں میں بیچی جاتی ہیں جبکہ قومی خزانے میں صرف ساڑھے دس لاکھ روپوں کے لگ بھگ رقم جمع کروائی جاتی ہے۔ یہ تو پنجابی محاورے چوراں دے کپڑے دے ڈانگاں دے گز سے بھی بری صورتحال ہے۔ عمران خان، جو اپنے مخالفین کو شہزاد اکبر کی سربراہی میں نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمات میں پھنسانے کی خصوصی کمال رکھتے رہے، خود اس وقت جواب نہیں دے پا رہے کہ سعودی ولی عہد سے لی گئی گھڑی جس کی مالیت پونے دو ارب تھی اور جو مبینہ طور پر صرف اٹھائیس کروڑ روپوں میں بیچی گئی جبکہ بتائے صرف پانچ کروڑ دس لاکھ روپے گئے۔ یہ گھڑی کسٹم ہوئے بغیر ملک سے باہر کیسے گئی اور کیا پیسے ملک میں آئے؟ سابق وزیراعظم کے حواریوں کے پاس ایک بہت ہی بودا دفاع ہے کہ ان کے پاس ایک ایسی دکان کی رسید ہے جو بند ہوچکی ہے اور وہ رسید بھی ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ عجیب وغریب بات ہے۔ آپ اس وقت کسی شاپنگ مال میں چلے جائیے، دو، چار ہزارکی شرٹ بیچنے والا بھی آپ کو ہاتھ کی لکھی رسید نہیں دے گا چہ جائیکہ کروڑوں روپوں کی خرید و فروخت ہو رہی ہو۔
ساری باتیں ایک طرف، میں نے کہا کہ معاملہ صرف گھڑی کا نہیں ہے، تمہید کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی تاکہ معاملات کو واضح کیا جاسکے سویہ معاملہ اس سوچ کا ہے جس کے ساتھ عمران خان ، ایوان وزیراعظم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے حواری ہمیں بتا اور دکھا رہے تھے کہ ان کی قمیضوں میں دو، دو سوراخ ہیں اور وہ اپنے ایماندار ہیں کہ اپنے مہمانوں کو چائے اور بسکٹ تک نہیں پوچھتے۔ عمران خان خود بھی یہ کہہ رہے تھے کہ ان کا تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا مگر درحقیقت وہ صرف توشہ خانے سے کروڑوں روپوں کی دیہاڑیاں لگا رہے تھے اوریہ معاملہ تو صرف توشہ خانے کا ہے۔ ابھی تو ایسے سینکڑوںمعاملات ہوں گے جو اس سوچ ، فکر اور مصروفیت کے حامل وزیراعظم ، اس کی کابینہ اور پسندیدہ بیوروکریسی کے پاس گئے ہوں گے جیسے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور بہت کچھ۔ اس شخص نے اگر صرف مشہور واقعے کے مطابق صرف لہریں گننے سے کروڑوںروپوں کی دیہاڑیاں لگا لی ہیں جو ان معاملات میں کتنا مال بنایا گیا ہو گا جہاں کمیشن اور کرپشن کی باتیں عام ہوتی ہیں۔ گھڑی نے صرف موصوف کی فطرت اور عادت کو آشکار کیا ہے جس کے بارے ان کی شخصی زندگی سے لے کر مالی اور سیاسی معاملات تک بے شمارتباہ کن تضادات ریکارڈ پر ہیں۔ میری رائے میں عمران خان کی شخصیت کے یہ رجحانات ثابت ہونے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ جہاں ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی ہے وہاں شوکت خانم ہسپتال کا قیام سے لے کر اب تک ریکارڈ قبضے میں لے کر اس کو ملنے والے عطیات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے۔ اوپر بیان کئے ہوئے تمام دلائل کی روشنی میں گمان ہے کہ یہ ادارہ جنوبی ایشیاءمیں زکوة ، صدقات اور عطیات کی لوٹ مار ہی نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا مرکز ثابت ہوگا۔ اگر آپ فارغ بیٹھے ہوئے ہیں تو اس ہسپتال کے چارجز،دنیابھر سے ملنے والے عطیات کے بعد کینسر کے علاج کی مفت سہولیات بارے ضرور کسی سے پوچھئیے گا، یہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔

تبصرے بند ہیں.