پارلیمان کی بے توقیری

20

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے مجموعی اراکین کی تعداد 442 بنتی ہے۔ یہ 20/22 کروڑ آبادی کے ملک پاکستان کے نمائندے ہیں جیسے کیسے بھی ہو، جیسا بھی نظام ہو یہ پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت منتخب ہو کر قومی اسمبلی اور سینٹ تک پہنچے ہیں۔ پارلیمان اس ملک کا اعلیٰ ترین ہی نہیں بلکہ مقدس ترین ایوان ہے جس نے کسی بھی ریاست کے لئے مشعل راہ کتاب، آئین تشکیل دیا ہے جس نے اس ملک کو ایک حقیقی آزاد ملک کی شکل دی ہے اور اسی آئین نے 20/22 کروڑ عوام کو عزت اور احترام کا احساس دیا ہے۔ اسی آئین کے تحت بہت سے ادارے تشکیل پائے ہیں جو ملک ریاست کو چلانے کا کام کر رہے ہیں یہی آئین فرد اور اداروں کے تعلقات اور ان کے کنڈکٹ کا تعین کرتا ہے انہیں ریگولیٹ کرتا ہے۔ نظم ریاست و سیاست منظم کرتا ہے آئین ایک مقدس کتاب ہے نشان راہ ہے نشان منزل ہے جس کی تخلیق اس ایوان میں ہوئی ہے جس کا اجلاس گزشتہ سے پیوستہ روز منعقد ہوا اور یہ مشترکہ اجلاس پارلیمانی روایات کا تسلسل تھا جس میں صدر مملکت خطاب فرماتے ہیں یہ خطاب عوامی جذبات و خواہشات کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے اور قومی ضروریات کا بھی عکاس ہوتا ہے۔ اس ایوان میں دو درجن سے قریب قومی، علاقائی، سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ آزاد ممبران بھی ہیں حیران کن بات ہے کہ صدر کا خطاب سننے کے لئے صرف 12 افراد موجود تھے۔ پی ٹی آئی نے تو اعلانیہ بائیکاٹ کر رکھا تھا جبکہ دیگر جماعتوں کے ممبران کی عدم موجودگی حیران کن نہیں بلکہ پریشان کن ہے۔
کیا پاکستان کے عوام کے نمائندوں کے نزدیک پارلیمان بالکل بے وقعت ہو چکی ہے ان کے نزدیک مملکت کے سربراہ صدر مملکت کے خطاب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے رویوں کے حوالے سے تو اس قسم کے ایکشن کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی تو اس ایوان کو نہ ماننے کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے وہ قومی و ریاستی اداروں کو بے وقعت اور بے توقیر کرنے کی پالیسی پر ایک عرصے سے عمل پیرا ہے اس لئے انہوں نے اپنے ہی منتخب کردہ صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کر کے بالکل ایسا ہی کیا جیسا وہ پہلے کر رہے ہیں لیکن دیگر جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں جو اس وقت ملک پر حکمران ہیں ان کی عدم موجودگی مجرمانہ فعل نظر آتی ہے اسی ایوان نے انہیں حق حکمرانی دیا ہے، اسی ایوان نے ان کے حق حکمرانی کی تصدیق کی ہے اسے جائز اور حلال قرار دیا ہے۔ اسی ایوان کے سب سے اہم اجلاس اور مملکت کے سربراہ کے خطاب کا بائیکاٹ کر کے انہوں نے مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ ہمارے ہاں ایک تاثر بڑے منظم طریقے سے پھیلایا گیا ہے کہ ہمارے سیاستدان اس لائق ہی نہیں ہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کر سکیں، حکومت چلا سکیں، جمہوریت، پارلیمانی جمہوریت کے خلاف خاصی سمع خراشی کی جا چکی ہے اور اسے غیر ذمہ دار نظام قرار دینے کی شعوری کاوش کی جا چکی ہیں۔ کیا ہمارے پارلیمانی نمائندوں کا بیان کردہ رویہ بیان کردہ تاثرات کو تقویت دینے کا باعث نہیں بنے گا؟ کیا عوام کے دلوں میں اس ایوان کی بے توقیری اور بے وقعتی کا تاثر گہرا نہیں ہو گا کیا اس کے طرز فکر و عمل کے باعث جمہوریت پر عوام کے ایمان و یقین میں کمی و کمزوری واقع نہیں ہو گی۔ ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث پاکستان کو 40 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا
ہے۔ 90 لاکھ سے زائد شہری خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی عام ہو گی۔ نمو کی شرح گھٹ کر 2 فیصد ہو گی۔ گویا تباہی و بربادی ہمارا مقدر بننے جا رہی ہے ایسے میں ہمارا سیاسی طرز عمل کیا ظاہر کر رہا ہے؟ عمران خان تو ایسے تمام افکار سے بالا ہو کر صرف ایک بات کا پرچار کر رہے ہیں۔ فوری انتخابات جن کے نتیجے میں ان کے خیال کے مطابق انہیں 2/3 اکثریت حاصل ہو جائے گی اور وہ ایک بار پھر حکمران بن جائیں گے۔ بادیئ النظر میں وہ ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں اور ایسا ہی کچھ حاصل کرنے کے متمنی دکھائی دیتے ہیں لیکن ذرا تفصیلاً اور عمیق نظری سے ان کے افکار اور اعمال کا مطالعہ کریں تو دوسری صورت حال سامنے آتی ہے۔ عمران خان صاحب انکار اور افتراق کی پالیسی پر گامزن ہیں انہوں نے دشنام، انکار، افتراق کے ذریعے ایک نسل تیار کی ہے وہ ملک کو بدامنی اور انتشار کی عمیق داریوں میں دھکیلنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دشمن کی پاکستان کے خلاف برپاکردہ ففتھ جنریشن وار کے ایک اہم عامل کے طور پر سرگرم عمل ہیں ان کی اب تک کی حرکات و سکنات اور پالیسیاں کیونکہ معاشرے میں ایسا ہی کچھ پیدا کر رہی ہیں جو اس جنگ کا نتیجہ ہونا چاہئے۔
جہاں تک ان کے حالیہ مطالبے ”فوری انتخابات“ کا تعلق ہے اور وہ اس سلسلے میں آخری حد یعنی لانگ مارچ تک کرنے کا اعلان کر چکے ہیں وہ بھی ایک صریحاً دھوکہ نظر آ رہا ہے ایک طرف فوری انتخاب کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف حکومت کو نہ ماننے، چیف الیکشن کمیشن کو نہ ماننے بلکہ پورے الیکشن کمیشن کو بدلنے جیسے مطالبات، چہ معنی دارد۔ الیکشن حکومت نے کرانے کا اعلان کرنا ہے۔ کیئر ٹیکر حکومت اس نے بنانی ہے۔ الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں انتخابات کرانے ہیں اور وہ ان سب کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ایک طرف انہوں نے اجتماعی طور پر قومی اسمبلی سے استعفے دیئے ہیں۔ دوسری طرف ان کے دس اراکین جن کے استعفے منظور ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ سے کہہ رہے ہیں کہ ان کے استعفیٰ منظور کرنے کا نوٹس معطل کیا جائے۔ ایسے بے شمار تضادات ہیں جو عمران خان اور ان کی پارٹی کے افکار و اعمال پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ دوسری طرف کرپشن اور بے ایمانی کی داستانیں بھی سامنے آ رہی ہیں لیکن عمران خان ڈھٹائی سے دوسروں کو چور چور کہہ پر اپنی غلاظتوں سے توجہ ہٹانے کی کاوشیں کرتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک سمت کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور وہ ہے پارلیمان کی بے توقیری اس میں سب سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طور شامل ہیں۔ اگر ہم نے اس سمت توجہ نہ دی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب عامتہ الناس کا اعتماد بھی پارلیمانی جمہوریت سے اٹھ جائیگا۔

تبصرے بند ہیں.