سرخیاں ان کی…؟

7

٭… پاک فوج کے سربراہ کا امریکی نائب وزیرخارجہ کو ٹیلی فون ۔؟
٭ … نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ناممکن لفظ میری لغت میں نہیں ہے۔ بہرحال، فی الحال، ہمارے ذوق عمل کے نتیجے میں کسی مثالی ترقی کی بجائے، ہماری معاشی تنزلی جاری ساری ہے۔ لہٰذا اس قومی المیے کو محسوس کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی مریض معیشت کی آکسیجن امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے جلد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ بلاشبہ، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور عمران خان سے وزیراعظم ہائوس خالی کرانے کے بعد پی ڈی ایم کی تمام اتحادی جماعتوں نے نہ صرف بغلیں بجائیں بلکہ مسرتوں کے ڈھول بھی پیٹے تھے کہ اب وہ دیکھیں نہ صرف مہنگائی مکائیں گے بلکہ آسمان سے ایسے ایسے تارے توڑ کر عوام کی جھولیاں بھریں گے کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ پھر کیا ہوا؟اتحادی جماعتوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ’’blame game‘‘ ایک طرف اور دوسری طرف گیس پٹرول اور نئے نئے ٹیکسوں میں ہوشربا اضافہ شروع کر دیا بلکہ اپنی روایتی ’’IMF Darling‘‘ کو راضی کرنے کے لئے طرح طرح کے ڈانس بھی کئے مگر آئی ایم ایف ان کے تگنی کے ناچ بھی دیکھتا رہا اور ’ڈو مور‘ بھی کہتا رہا۔ میرے بعض ذرائع کے مطابق ہمارے متعدد سینئر بااثر افراد نے بھی اپنی اپنی کوششیں کر دیکھیں۔ جب کسی بھی طرف سے کوئی بھی پیش رفت نہ ہوئی تو آخرکار پاک فوج کے سپہ سالار نے واشنگٹن کی توجہ بلکہ خصوصی توجہ کیلئے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ جسے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے کیونکہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ نے فرمایا تھا۔
پنج رکن اسلام دے،تے چھیواں فریدا ٹک
جے نہ لبھے چھیواں، تے پنجے ای جاندے مک
……………………
٭… فارن فنڈنگ کا فیصلہ۔؟
٭… چینی کمیونسٹ پارٹی کے بانی ماوزے تنگ نے کہا تھا: موت سب کے لیے اٹل ہے۔ لیکن یہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ گزشتہ رات ملک کے ایک نامور ٹی وی تجزیہ نگار اور سینئر صحافی سے دوران گفتگو میرے دوست جوش خطابت میں کہہ گئے کہ تمہارا کپتان کھلاڑی نہیں اناڑی ہے۔ سیاست تو دور کی بات ہے۔ میں نے عرض کیا، جناب والا، یہی تو اس کا مہلک ترین ہتھیار ہے جبکہ اس کی بدولت اس کی طلسماتی سیاست جس پے چاہے، جب چاہے جادو چھڑک دیتی ہے اور جو لوگ
اسے اناڑی یا سیاست سے نابلد سمجھتے ہیں انہیں یہ ادراک کرنا ہو گا کہ اس کا یہ اناڑی پن ہی آج بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو اور سازشیوں کو سونے نہیں دے رہا۔ حالانکہ میں اس حقیقت سے انکاری نہیں ہوں، لیکن مجبور ہوں کہ وہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی طرح انوکھے ہی نظریات کا سیاستدان ہے اور اپنے نظریات پر ڈٹ کر ان پر عمل درآمد کے لیے بضد بھی رہتا ہے۔ حالانکہ متعدد بار، نہایت ادب سے میں ان کی خدمت میں اپنی عقل اور فہم کے مطابق اپیلیں بھی کر چکا ہوں کہ یہ کام ان کے لیے بہتر نہ ہیں؟ کیونکہ بسااوقات معمولی تفریح بھی افراتفری میں بدل جاتی ہے۔ لیکن ان کی شخصیت اس قدر ہمہ گیر اور دلچسپ ہے کہ انہیں سمجھانے والا، اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ بہرحال بات کدھر سے کدھر نکل گئی۔ واپس اپنے ملکی حالات کی طرف پلٹتا ہوا۔ جہاں احساس محرومی اور ڈنڈی مارنے کا عمل
ہمارے معاشرے کو برباد کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمارے الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ پی ٹی آئی کے خلاف دیا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی سے حکومت چھین کر جناب عمران کو زیرو سے ہیرو بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں ملکی سیاست ہی بدل گئی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ میرے سامنے ٹی وی سکرین پر شہ سرخیوں سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ پی ڈی ایم نے اسے ہیرو بنا دیا۔ اب ہمارے الیکشن کمیشن نے ناموافق حالات میں فیصلہ دے کر ہیرو سے سپر ہیرو بنا دیا ہے کیونکہ اب یہ ’’wave‘‘ دریائوں سمندروں کی بجائے گلی محلوں میں ٹھاٹھیں مارے گی اور اتحادی جماعتیں ان کی نذر ہو جائیں گی۔
……………………
٭… ن لیگ کا مستقبل۔؟
٭… بے حد معذرت کے ساتھ جس طرح پی ٹی آئی حکومت کو آخر دم تک یہ حقیقت سمجھ نہ آ سکی کہ بیوروکریٹس اور سرکاری ملازمین اس کے بندے یا میرے بندے نہیں ہوتے، چند ہوتے ہوں گے، مگر زیادہ تر وہ اپنے حلف کے وفادار ہوتے ہیں اور اگر نہ بھی ہوں تو وہ ہماری طرح کے ہی انسان ہوتے ہیں اور باضمیر ہوتے ہیں۔ ان پر اعتماد کئے بغیر سیاسی حکومت یا حکومتیں خود کو کامیاب نہیں کہہ سکتیں۔ لہٰذا اگر آپ ان کو لمحہ بہ لمحہ تقرر وتبادلوں کی پریشان تلواروں تلے رکھیں گے۔ تو خود بھی ناکام ہوں گے اور ان کا مورال بھی ڈائون ہو گا۔ بلاشبہ ہمارے حکمرانوں میں سے جناب شہباز شریف واحد حکمران ہیں جن کے ساتھ بیوروکریسی کا رشتہ مضبوط ہی نہیںبلکہ ان کی کارکردگی بھی بہترین ہوتی ہے جبکہ ہمارے کچھ حکمران انہیں ڈرانے دھمکانے سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو برباد کرتے ہیں بلکہ خود کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ بہرحال ہمارے نئے وزیراعلیٰ جناب پرویز الٰہی کو جو ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ ان کے لئے ایسے جوہری اقدامات اٹھائیں گے کہ جس سے نہ صرف ان کی نیک نامی بلکہ تاریخی کامیابیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ اب رہی بات ن لیگ کی… تو جناب میرا کالم ریکارڈ پر ہے۔ میں نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم میں شمولیت سے ن لیگ اپنا تشخص کھو دے گی جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جونہی نئی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر دی گئی سبسڈی ختم کی، تو اس سے اس کی اپنی ساکھ کو ایسا ناقابل تلافی نقصان ہو گا کہ ازالہ ممکن نہ ہوگا۔ جبکہ جناب زرداری اس کے لئے انہیں کوئی ایسا میکانزم بھی نہیں بنانے دیں گے جس سے نچلے طبقے کو کم از کم کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکے جبکہ ایسے حالات میں دوست ممالک بھی آنکھیں پھیر لیں گے۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ ن لیگ اپنے نقصانات کا ازالہ کرے۔ اور…؟

تبصرے بند ہیں.