وِسل بلوئر کرپشن کے خلاف ایک مؤثرجادو

8

ترقی یافتہ معاشروں میں ’’وِسل بلوئر‘‘ بہت اہم چیز ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے شخص کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی وَرک پلیس میں کسی کرپشن یا غلط کاموں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یعنی کسی بھی پبلک آرگنائزیشن کا کوئی بھی ملازم اپنے ادارے میں اپنے ساتھیوں یا سینئرز کی طرف سے کسی کرپشن یا لاقانونیت کو ہوتا دیکھے تو وہ اس سے پارلیمنٹ کے ممبران، عدلیہ یا میڈیا کو آگاہ کرے۔ وِسل بلوئرز کے لیے کسی تربیت یا نیٹ ورک کی نہیں بلکہ صرف درست معلومات، بے غرضی اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح ادارے کا کوئی بھی ملازم یہ فرض ادا کرسکتا ہے۔ وِسل بلوئر کا لفظ سب سے پہلے برطانوی پولیس میں استعمال کیا گیا۔ جب ایک پولیس والا کسی جرم کو ہوتے دیکھتا تو وہ وِسل بجا دیتا۔ اس سے اردگرد موجود دوسرے افراد ہوشیار ہوجاتے۔ وِسل بلوئرز کو سوسائٹی کا باقاعدہ حصہ بنانے اور سرکاری اداروں میں اس کو رواج دینے کا کام سب سے پہلے امریکہ میں شروع کیا گیا۔ سرکاری اداروں میں کرپشن اور لاقانونیت کا پتا لگانے اور اسے ختم کرنے کے لیے وِسل بلوئرز کا نظام بہت مؤثر اور مفید ثابت ہوا جسے امریکی سوسائٹی نے بے حد پسند کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی دنیا کے کئی اور ممالک نے بھی اپنے ہاں وِسل بلوئرز کی حوصلہ افزائی کی۔ وِسل بلوئرز کو اپنے ادارے کے باہر اور وفاقی حکومت سے انعام و اکرام و شاباش ملتی لیکن سب سے بڑا خطرہ ان کی اپنی آرگنائزیشنز کا فوری ردعمل ہوتا۔ انتقام کے طور پر ان کے اپنے محکموں میں وِسل بلوئرز کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتا جس میں ان کے عہدے میں تنزلی، سالانہ خفیہ رپورٹوں کو خراب کرنا، دفتری سہولتیں واپس لینا، جھوٹے مقدمے بنانا اور یہاں تک کہ نوکری سے نکال دینا جیسے اقدامات شامل تھے۔ دنیا کے بعض حصوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اداروں کے اندر کرپشن اور لاقانونیت کی نشاندہی کرنے پر وِسل بلوئرز کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے مگر وِسل بلوئرز کے نظام کے بہترین نتائج اور سوسائٹی کی بہتری کو سامنے رکھتے ہوئے وِسل بلوئرز نے ہرطرح کے خطرات کا سامنا کیا۔ وِسل بلوئرز کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کے تحفظ کے لیے قانون سازی شروع ہوئی۔ پہلی مرتبہ 1912ء میں امریکہ میں ’’Lloyd-La Follette Act‘‘ پاس کیا گیاجس میں وفاقی ملازمین کو معلومات کانگریس تک پہنچانے کے حق کے تحفظ کی گارنٹی دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وِسل بلوئرز کو بھی قاعدے قانون کا پابند کیا گیا کہ اگر کسی وِسل بلوئر کی اطلاع غلط یا ذاتی تعصب پر مبنی ہوئی تو اسے ’’False Claims Act‘‘ کے تحت دیگر سزائوں کے ساتھ ساتھ 6برس کی قید بھی ہوسکتی ہے۔ یوں وِسل بلوئرز ایک مشن کے طور پر کام کرنے لگے۔ وِسل بلوئرز کا نظام ایک فطری عمل ہے کیونکہ انسانی معاشرے میں کچھ لوگ ایسے لازمی ہوتے ہیں جو اپنے اردگرد ہونے والی برائیوں کو اگر روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کی اطلاع بااختیار افراد تک ضرور پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہیں وِسل بلوئرز ہی کہا جاسکتا ہے مگر معاشروں میں ان کے لیے کوئی باقاعدہ قانون یا تحفظ موجود نہیں ہوتا۔ پاکستان میں یہ کام انفرادی سطح پر مختلف شعبوں میں کبھی کبھار نظر آتا ہے۔ جن میں کبھی عدلیہ کے جج صاحبان، کبھی بیوروکریسی کے کچھ افسران یا چھوٹے ملازمین اور کبھی کبھار کوئی سیاسی کارکن وغیرہ شامل ہیں۔ بعض اوقات اس کام کے لیے گمنام خط یا درخواست وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے جس کی ایک مبینہ مثال وزیراعظم لیاقت علی خان کو ملنے والا ایک مبینہ گمنام خط تھا جس میں انہیں راولپنڈی کے دورے سے منع کیا گیا تھا۔ خط ملنے پر بیگم رعنا لیاقت علی خان پریشان ہو گئیں مگر وزیراعظم لیاقت علی خان نے دورہ ملتوی نہ کیا اور قتل ہوگئے۔ حالیہ دور کی مثالوں میں سب سے اہم مثال پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہے جس میں پی ٹی آئی کے اپنے ہی اہم رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کی خفیہ فنڈنگ سے پردہ اٹھایا۔ ان تمام واقعات سے قطع نظر شروع سے ہی پاکستان میں وِسل بلوئرز کی ذمہ داری سب سے زیادہ میڈیا پرسنز نے ادا کی ہے۔ تاہم 21ویں صدی میں پاکستان کے اندر جمہوری سوچ کے بلند ہونے اور سول سوسائٹی کے ترقی یافتہ ہونے سے اداروں کی کرپشن اور لاقانونیت کا زیادہ پتا چلنے لگا ہے لیکن اب بھی وِسل بلوئرز کی فہرست میں میڈیا سب سے آگے ہے اور ردِعمل کا شکار بھی ہوتا ہے۔ وِسل بلوئرز کے ذریعے سرکاری اداروں کی کرپشن اور لاقانونیت پر بہت خوبی اور آسانی سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس لیے کہ ادارے کے اندر کے افراد جتنی بہتر معلومات رکھتے ہیں اتنی بہتر معلومات دور بیٹھے نیب یا اینٹی کرپشن کے لوگ نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا اگر پاکستان میںبھی وِسل بلوئرز کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تو ہمارے سرکاری اداروں میں موجود کرپشن اور لاقانونیت جیسی چڑیلوں اور بھوتوں کو آسانی سے قابو کیا جاسکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.