محکوم حکومت

263

آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کے بعد بھی عام آدمی کی مشکلات دور ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔ اس بار شرائط ہی اتنی کڑی ہیں کہ پی ٹی آئی کے دور میں جب اس معاہدے پر دستخط ہوگئے تو اس وقت کے گورنر پنجاب چودھری سرور نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اعتراف کیا کہ چھ ارب ڈالر کے قرضے کے عوض ہمارا ( ریاست پاکستان) سب کچھ لکھوا لیا گیا۔  اس عوام دشمن معاہدے کا ذمہ دار صرف پی ٹی آئی کی ہائبرڈ حکومت ٹھہرانا کسی طور پر درست نہیں ۔ ایک پیج بھی برابر کا قصور وار ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک واردات یہ ہوئی جب عمران خان کو یقین ہوگیا کہ ان کی حکومت جانے والی ہے تو انہوں نے ملکی مفاد اور ساکھ کو ٹھڈا مار کر معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع کردیں۔ تیل اور بجلی کے نرخ یوں گرا دئیے جسے آسمان سے ڈالروں کی برسات ہو رہی ہو۔ ویسے تو یہ کوئی راز ہے ہی نہیں۔ اوپر سے شیخ رشید نے ایک ٹی وی پروگرام میں اعتراف کرلیا کہ حکومت جانے سے چار ماہ قبل آئی بی کی رپورٹ آگئی تھی کہ ہماری چھٹی ہونے والی ہے ۔ جس کے بعد عمران خان نے بجلی اور تیل کے نرخ گرا کر آنے والی حکومت کے لیے معاشی بارودی سرنگیں بچھانے کی چال چل دی ۔ اب شہباز شریف حکومت معاشی مشکلات کے گرداب میں پھنس کر غوطے کھا رہی ہے ۔پی ٹی آئی کی ہائبرڈ حکومت معیشت کو اس حال میں چھوڑ گئی کہ آئی ایم ایف سے اسی کی شرائط پر رجوع کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب اسحق ڈار وزیر خرانہ تھے اور کمزور معاشی صورتحال کے باوجود آئی ایم ایف سے مذاکرات کرکے بعض شرائط نرم کرا لیا کرتے تھے۔ خیر یہ مسلمہ اصول ہے کہ جس نے قرضہ دینا ہو وہ شرائط بھی اپنی ہی منواتا ہے اور مانگنے والوں کے پاس اپنی مرضی کرنے کا حق نہیں رہتا ۔ اس تحریر کے وساطت سے عرض ہے کہ پاکستان میں دیگر کئی خرابیوں کی طرح آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی لعنت بھی بابائے مارشل لا جنرل ایوب نے متعارف کرائی ۔ مسلسل زوال کا بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں منہ پر جھوٹ بولنے کا رواج آج اتنا زور پکڑ گیا ہے کہ حکمران اور مقتدر شخصیات تک ایک آدھ گھنٹے کے بعد ہی خود اپنے کہے سے مکر جاتی ہیں ۔ بہر حال ریکارڈ درست رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سچ کو بار بار دھرایا جائے۔ جنرل ایوب نے اپنی جانب سے نیا پاکستان بنانے کے لیے 7 اکتوبر
1958 کو پہلا مارشل لا لگایا تو اس کی ‘‘تعمیر ‘‘کے لیے قرضہ حاصل کرنے آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گئے ۔ آئی ایم ایف نے 8 دسمبر 1958 کو بیل آئوٹ پیکیج کے نام پر ہمیں ڈھائی کروڑ ڈالر کا قرضہ دیا۔ ملک ٹوٹ گیا، پاکستان آدھا رہ گیا مگر اس وقت سے آج تک ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں نکل سکے ۔ جنرل ایوب کے دور سے لے کر آج تک کئی طرح کے تجربات کیے گئے ۔ بہت سوچ سمجھ کر بیس بائیس سال کی محنت کے بعد تیار کیا جانے والا ہائبرڈ نظام سب سے بری طرح پٹا ہے ۔ اس کے بعد مچنے والے گند نے خود خالقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ سفارتی تنہائی کا یہ عالم ہے کہ نئی حکومت بنتے ہی وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب ، امارات ، قطر اور ترکی گئے تو سب نے اپنے انداز میں گلے شکوے کیے ۔ ہماری پوری فوجی قیادت کو چین جانا پڑا ۔ اس کے باوجود چین مطمئن نہیں ۔ پی ٹی آئی کے دور میں نہ صرف سی پیک روکا گیا بلکہ معاہدے کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کرکے عظیم اور آزمودہ دوست کو ناراض کیا گیا ۔ امریکہ اور یورپ میں ہمارا یہ مقام ہے کہ تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نہیں نکال رہا ۔روس سے تعلقات کا یہ عالم ہے کہ رقم ادا کیے جانے کے باوجود میزائل فراہم نہیں کیے جارہے۔ دفاعی حکام خود بتاتے ہیں کہ روسی حکام پر اس حوالے بھارت کا سخت دبائو ہے۔ اسی لیے روس سے ٹینک خریدنے کا خیال ترک کردیا گیا ہے اور تو اور افغانستان کی طالبان حکومت کی پوری توجہ بھارت کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات قائم کرنے پر مرکوز ہے۔ ایک طرف تو یہ حالات ہیں اور دوسری جانب ہائبرڈ حکومت کے بعد ملک پر ’’ محکوم حکومت ‘‘ مسلط کردی گئی ہے ۔ایسی حکومت جو ایک ایماندار اور قابل جج مقبول باقر کو نیب کا چیئرمین نہیں بنا سکی۔ ایم کیو ایم کی نسرین جلیل کو گورنر سندھ لگایا جاسکا نہ کے پی کے اور بلوچستان کے لیے گورنروں کے ناموں کی  ’’منظوری ‘‘ مل سکی۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دو اسمبلیاں چل رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ دوسری جانب پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو ’’ فتح ‘‘ کرکے اپنی الگ منڈلی جما رکھی ہے۔خود ن لیگ کا یہ حال ہے کہ فوجی اور سول آمریتوں کے خلاف جدو جہد کرنے والے پارٹی کے وفادار جاوید لطیف کو وفاقی وزیر بنا کر بھی کوئی محکمہ نہیں دیا جاسکا ۔ کم و بیش پوری حکومت مقدمات کی تاریخیں بھگت رہی ہے جبکہ اپوزیشن میں آکر بھی عمران خان کو پروٹوکول مل رہا ہے، باقاعدہ روٹ لگ رہے ہیں۔ ایک دو نہیں درجنوں مقدمات کی فائلیں تیار ہیں لیکن دائر کرنے کی اجازت ہے نہ گرفتاریاں کرنے کی۔ ریاست کی جانب سے اپنی ہی قوم کے خلاف چھیڑی گئی ففتھ جنریشن وار کے مجاہدین دندناتے پھر رہے ہیں۔ ’’ٹائوٹ میڈیا‘‘ اسی طرح سے جھوٹ اور گالیاں  برسا رہا ہے ۔عدلیہ کے کردار پر آج بھی سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ ستم ظریفی ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاج کرنے کی صلاحیت اور سکت کا پول بھی کھل چکا۔خود عمران خان کی گفتگو سے طنطنہ اور دھمکیاں ہی نہیں اعتماد بھی ختم ہوچکا ہے ۔ ان کے تمام ساتھیوں کے چہروں پر پریشانی اور اندیشے جھلک رہے ہیں ۔ جو ریٹائر افسر پی ٹی آئی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تھے۔ ان میں چند ایک کی مراعات میں کمی کی گئی تو باقی سب کے ہوش ٹھکانے آگئے ۔ آخر کوئی تو ہے جو نئی حکومت کو قدم جمانے کا موقع نہیں دے رہا۔ اگر ہماری قسمت میں ہائبرڈ کے بعد محکوم حکومت لکھ دی گئی ہے جان لیجئے ہماری سمت درست ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ۔

تبصرے بند ہیں.