مضبوط فوج، کمزور معیشت اور قومی سلامتی

5

شیخ عبداللہ عزام، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ہمارے استاد تھے جنرل ضیاءالحق کا دور حکمرانی تھا اسّی کی دہائی تھی افغانستان میں مجاہدینِ افغانستان، اشتراکی افواج کے خلاف سینہ سپر تھے کہ اپنے وطن کو اشتراکیوں سے آزاد کرا سکیں۔ جنرل ضیاءالحق پورے ایمان و یقین کے ساتھ اشتراکی قبضے کے خلاف، اپنے وطن کی آزادی کے لئے لڑنے والے افغان مجاہدین کے حامی و نصرت کنندہ بنے ہوئے تھے ریاست پاکستان کی پالیسی تھی کہ افغانوں کا جہاد، حق و سچ پر مبنی ہے اور بطور مسلمان ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم اس کی حمایت کریں اور بطور پاکستانی، اشتراکیوں کو ڈیورنڈ لائن سے پرے دھکیلنے والوں کی حمایت کرنا ، ہمارا قومی فریضہ ہے کیونکہ اگر اشتراکی افغانستان پر قابض ہو جاتے ہیں تو ان کا اگلا نشانہ لاریب پاکستان ہی ہو گا۔ اور یہ بات تاریخی اعتبار سے درست بھی تھی کیونکہ روسی گزرے 500 سال سے ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے۔ ماسکووی گاﺅں سے اٹھ کر قذافی و لوٹ مار کے ذریعے روسی، عظیم الشان سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے اس لئے انہیں افغانستان میں روکنا نہ صرف ہمارے اپنے مفاد میں تھا بلکہ مسلم ممالک کو روسیوں کے ہاتھ صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچانا ہمارا دینی فریضہ تھا۔ بہرحال اشتراکی افواج 9 سال تک یہاں لڑتے لڑتے، افغانوں کے خلاف لڑتے بھڑتے، نڈھال ہو گئے اور پھر انہیں یہاں سے نکلنا پڑا۔ ان کی 500 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ انہوں نے کسی متصل ملک پر حملہ کیا ہو اور اسے اپنے اندر ضم کئے بغیر وہاں سے واپس لوٹ گئے ہوں، افغانستان میں ایسا ہوا اور وہ یہاں سے ایسے نکلے کہ اس کے بعد ان کی عظیم الشان ریاست کا شیرازہ بکھر گیا عظیم اشتراکی ریاست 15 ٹکڑوں میں بٹ کر عالمی منظر سے غائب ہو گئی۔ شیخ عبداللہ عزام نے افغان مجاہدین کو ایک موثر اور مستحکم ”اتحاد مجاہدین افغانستان“ کے پرچم تلے اکٹھا کیا تھا اور انہیں ایک طاقتورگوریلا جنگی مشینری میں تبدیل کر دیا تھا ریاست پاکستان نے مجاہدین کو محاذ جنگ میں روٹی اور گولی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ 60/70 لاکھ مہاجرین کو یہاں پاکستان میں پناہ دی بالآخر اشتراکی افواج شکست کھا کر یہاں سے واپس لوٹ گئیں اور ایسی لوٹیں کہ پھر اشتراکی ریاست کی عظمت کا سورج ہی غروب ہو گیا۔
شیخ عبداللہ عزامؒ ایک جید و بالغ نظر عالم و استاد بھی تھے ہم ان سے بحث و مباحثہ بھی کیا کرتے تھے تصوف کے حوالے سے فلسفہ وحدت الوجود پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محی الدین ابنِ عربی کے فلسفہ وحدت الوجود میں علم کے جواہرات بھی ہیں اور پتھر و روڑے بھی ہیں ان کا فلسفہ اعلیٰ پائے کا ہے لیکن وہ عین شریعت محمدیﷺ کے مطابق نہیں ہے بلکہ کئی مقامات پر اس سے متصادم ہے۔ یہ بات عالم اور صحیح الفہم شخص تو جان سکتا ہے لیکن ایک عام شخص کے لئے اس فلسفے سے دور رہنا اور اجتناب کرنا ہی ضروری ہے تاکہ اس کے بھٹکنے کے امکانات کا قلع قمع ہو سکے۔
عمران خان فنِ تقریر میں یدطولیٰ رکھتے ہیں وہ ریاست مدینہ کی تشریح بھی بڑے ولولے سے کرتے رہے ہیں اور مغرب کے بارے میں بھی اپنے افکار عالیہ کے درست اور صحیح ہونے پر اصرار کرتے ہیں ان کی جذباتی تقاریر میں جو علمی اور فکری تضادات پائے جاتے ہیں اسے عام سامع نہ تو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی عام تجزیہ نگار، ان پر سیرحاصل گفتگو کر سکتا ہے۔ مثلاً انہوں نے گزشتہ روز (بروز جمعرات) شانگلہ کے مقام پر اپنے خطاب میں سوویت یونین کے انہدام پر بات کی اور کہا کہ وہ معاشی طو رپر کمزور ہو گیا تھا اس لئے اسے طاقتور فوج بھی اکٹھا نہیں رکھ سکی۔ بادی النظر میں یہ بات درست ہے لیکن یہ جزوی سچ ہے مکمل حقیقت نہیں ہے تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ معاشی استحکام اور طاقتور فوج کی موجودگی میں بھی ملک کو شکست ہو گی۔ عراق اور لیبیا کی تباہی و بربادی کی مثالیں دیکھ لیں۔ عراقی افواج خطے کی بہترین فورس شمار کی جاتی تھیں جدید اسلحے سے لیس تھیں عراقی معیشت بھی ٹھیک ٹھاک تھی، صدام حسین کی حکومت بھی طاقتور و توانا تھی لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود عراق کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ لیبیا ایک فلاحی مملکت تھی کرنل قذافی بڑی شجاعت کے ساتھ ملک چلا رہے تھے خوشحالی تھی جتنی فوج ہونی چاہئے تھی اتنی موجود تھی اس کے باوجود ملک تباہ و برباد ہو گیا۔
پاکستان کی مثال دیکھ لیں۔ کیا سانحہ مشرقی پاکستان اس لئے رونما ہوا کہ ہماری معیشت کمزور تھی؟ ہرگز نہیں۔ سقوط ڈھاکہ ہماری فوجی شکست یا عسکری کمزوری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مشرقی پاکستان میں حالات ایک عرصے سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے عوام، بنگالی بتدریج مغربی پاکستانیوں سے بلکہ پاکستان کے مقتدر طبقات کی پالیسیوں کے باعث متنفر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ یہی نفرت انہیں سیاسی بغاوت کی طرف لے جاتی رہی ہم نے ان کے سیاسی حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ شیخ مجیب الرحمن نے 70 ءکے عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر لی تھی لیکن ہم اسے اقتدار منتقل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے بلکہ فوجی ایکشن شروع کر دیا۔ پھر اس میں بھارت سرکار بمع توپ و تفنگ شامل ہو گئی اور بالآخر سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوگیا۔ معاشی کمزوری کے بغیر ایک منظم فوج بھی ملکی سالمیت کی ضامن نہیں بن سکی۔
تاریخ اقوام عالم میں بھی ایسی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ مستحکم معیشت اور مضبوط فوج کی موجودگی کے باوجود، نظام کی کمزوریاں اسے لے بیٹھتی ہیں۔ سوویت یونین ایک غیرفطری فکری بنیادوں پر قائم کی گئی ریاست تھی جبرواستبداد کے ذریعے 15 ریاستوں کو جوڑ کر ایک غیرفطری نظام تشکیل دیا گیا تھا۔ ان 15 ریاستوں میں روس ایک ریاست تھی جو 32 چھوٹی موٹی مملکتوں کا مجموعہ تھی۔ غیض و غضب کی بنیادوں پر قائم اس نظام کا خاتمہ ہونا ہی تھا بالکل ایسے جیسے پاکستان کے دو بازوﺅں کے درمیان بھارت کی موجودگی ایک ایسا عامل تھا جس نے 1971 کے سانحہ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مملکت پاکستان کی تخلیق ایک اعتبار سے غیرفطری جغرافیائی وحدت تھی جسے ایک روز ختم ہونا ہی تھا سو وہ 1971 میں ختم ہو گئی۔ اسی طرح سوویت یونین کا قیام ایک غیرفطری فکروعمل کا نتیجہ تھا جو ختم ہونا تھا اور ہو گیا۔
عمران خان باتیں تو بہت کرتے ہیں ریاست مدینہ اور فلاحی مملکت کے قیام کی باتیں بلندآہنگ میں کرتے ہیں لیکن ان کی باتوں میں سطحیت پائی جاتی ہے وہ لوگوں کو ابھارنے کے لئے بعض دفعہ تاریخی حقائق کے متعلق دروغ گوئی سے بھی کام لیتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود اتنی مری مکی نہیں ہے کہ پاکستان تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے، 300 ارب ڈالر پر مشتمل قومی معیشت سے 6 ہزار ارب تک کے ٹیکس اکٹھے کئے گئے ہیں آئندہ سال ٹیکس جمع کرنے کا یہ تخمینہ 7ہزار ارب تک ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ہم گندم، ڈیری پراڈکٹس، ترشاوہ پھل اور ایسی ہی نقدآور فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ 230 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں 60 فیصد نوجوانوں کی موجودگی ہمیں دنیا کے بڑے اہم اور قابل ذکر ممالک کی صف میں کھڑا کرتی ہے اس لئے عمران خان جس ناامیدی اور تباہی کی باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے بیمار اور شکست خوردہ ذہن کی تخلیق کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
پاکستان زندہ باد

تبصرے بند ہیں.