گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را …!

162

دسمبر ستم گر آیا ہے تو نصف صدی قبل کے مشرقی پاکستان جسے 16،دسمبر 1947ء کو متحدہ پاکستان سے الگ کر دیا گیا تھا کی یادیں بھی تازہ ہونے لگی ہیں۔ذہن کے نہاں خانے میں موجودہ اپنی تلخ وشیریں یادوں کو کریدتے ہوئے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے کچھ بنگالی راہنمائوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ متحدہ پاکستان کی 1962کی قومی اسمبلی کے اجلاس راولپنڈی لال کڑتی میں واقع ایوب ہال جہاں بعد میں نیشنل ڈیفنس کالج قائم رہا اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے دفاتر بھی قائم رہے میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ اس اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تو صدر ایوب خان کی حکومت کی خواہش کے برعکس مولوی تمیز الدین کو جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا سپیکر چن لیا گیا۔ چھوٹے قد اور منحنی جسم والے مولوی تمیز الدین فی الواقع بڑی پروقار، جری اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے ۔ اس سے قبل وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے بھی سپیکر رہے تھے ۔ مولوی تمیز الدین زیادہ عرصہ 1962والی قومی اسمبلی کے سپیکر کے فرائض سر انجام نہ دے سکے کہ انہیں داعی اجل کو لبیک کہنا پڑا۔ ان کی جگہ مشرقی پاکستان سے ہی تعلق رکھنے والے لانبے قد اور بھاری بھرکم جسم والے اے کے فضل القادر چوہدری کوقومی اسمبلی کے سپیکر کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ وہ صدر ایوب کی کابینہ میں شامل تھے ۔ صدر ایوب کی کابینہ میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے خان عبدالصبور خان اور عبدالمنعم خان بھی کافی عرصہ تک وزیر رہے۔ عبدالمنعم خان کو بعد میں مشرقی پاکستان کا گورنر بنا دیا گیا تھا۔
شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق ہی وہ شخصیت تھے جنھوں نے 22مارچ 1940کو مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ منٹو پارک لاہور میں قرارداد لاہور جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا تھا پیش کی تھی وہ اس وقت متحدہ بنگال کے وزیر اعظم تھے۔ اس قرارداد کے مسودے کی تیاری میں بنگال سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور اہم راہنما حسین شہید سہروردی نے بھی حصہ لیا تھا۔ حسین شہید سہروردی جو پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے ،نے قیام پاکستان کے بعد عوامی لیگ کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی تھی اس میں تحریک پاکستان کے بہت سارے اہم راہنما شامل تھے ۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان اس کے اہم رہنما سمجھے جاتے تھے شیخ مجیب الرحمان اپنے آپ کو سہروردی صاحب کا سچا پیروکار قرار دیتا تھا۔ سہروردی کی وفات کے بعد اس نے عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی تو جلد ہی اس کے اصلی عزائم سامنے آگئے۔ بھارت سے اس کے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں تھے ۔ اس نے فروری 1966میں لاہور میں سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل پارٹیز جمہوری کانفرنس میں اپنے چھ نکات پیش کرکے ایک تہلکہ مچا دیا۔ بلاشبہ شیخ مجیب الرحمان کے یہ چھ نکات پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا ایک طرح کا چارٹر تھے۔
نورالامین ایک اور اہم بنگالی رہنما تھے وہ مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ بھی رہے ۔ 1971کے انتہائی پر آشوب ایام میں جب مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت اور شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور اس کی مسلح ذیلی تنظیم مکتی با ہنی کی طرف سے علیٰحدگی اور بغاوت کی تحریک پورے جوبن پر تھی متحدہ پاکستان کے پہلے اور آخری نائب صدر بھی رہے۔ 1972میں راولپنڈی ہارلے سٹریٹ میں انتہائی کس مپرسی کے عالم میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ ان کی میت کو غسل دینے کے لیے جو چند افراد وہاں موجود تھے راقم بھی ان میں شامل تھا۔ خواجہ ناظم الدین، خواجہ شہاب الدین اور خواجہ خیر الدین ڈھاکہ کے نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ تینوں بھائی بڑے مخلص ، سچے ، سادہ منش ، نیک نام اور پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرنے والی شخصیات تھیں۔ یہ اپنے آپ کو پہلے مسلمان، پاکستانی اور پھر بنگالی سمجھتے تھے۔ پاکستان قائم ہوا تو خواجہ ناظم الدین مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ ستمبر 1948میں قائد اعظم کی وفات پر انھوں نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھالا۔ اکتوبر 1951میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد وہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1952میں ان کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا لیکن پاکستان سے ان کی محبت اور لگائو میں کوئی فرق نہ آیا۔ ان کے بھائی خواجہ شہاب الدین صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر اطلاعات تھے۔ فروری 1969میں صدر ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک زورو ں پر تھی تو صدر ایوب خان نے حزب اختلاف کے راہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ خواجہ شہاب الدین صدر ایوب خان کی مذکراتی ٹیم کا اہم رکن تھے لیکن ان کی کوششیں بارآور نہ ہو سکیں اور گول میز کانفرنس ناکام ہوگئی۔
مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کئی اہم راہنمائوں کا ذکر ہوا ۔ ابوالقاسم کا تعلق مسلم لیگ کونسل سے تھا۔ یہ 1962کی قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر تھے ۔ مولانا اکرم خان تحریک پاکستان میں پیش پیش رہے ۔ اپنا اخبار "آزاد”نکالا کرتے تھے ۔ پاکستان سے محبت ان کے خون میں رچی بسی تھی ۔ مولانا عبدالحمید بھاشانی بڑی سرگرم شخصیت تھے اکثر یو ٹرن لینا ان کا شیوہ تھا اور ذاتی منفعت کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار رہتے تھے۔ گھیرائو ، جلائو اور پاکستان کو "شلام علیکم ـ” کے نعرے سب سے پہلے انھوں نے ہی بلند کیے۔ نذر الاسلام بنگالی زبان کے مشہور شاعر تھے ان کی شاعری میں مسلم بنگلہ کی ترجمانی اور عکاسی ملتی ہے ۔ عبداللہ لال میاں صدر ایوب خان کے دور میں قومی اسمبلی میں سرکاری پارٹی کے چیف وہپ تھے۔ راولپنڈی والوں پر ان کا یہ احسان ہمیشہ رہے گا کہ گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹائون ان کی کوششوں سے قائم ہوا۔ تفضل حسین مانک میاں ڈھاکہ کے مشہور اخبار نویس تھے جو روزنامہ اتفاق نکالا کرتے تھے۔ عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمان کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔ عبدالجبار خان 1964والی قومی اسمبلی کے سپیکر تھے صدر ایوب خان مارچ 1969میں حکومت سے علیحدہ ہوئے تو آئین کے تحت اقتدار انہیں سونپا جانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے مارشل لاء لگا دیا گیا۔ مولوی فرید احمد ایک اور اہم بنگالی راہنما تھے جن کا تعلق چوہدری محمد علی کی جماعت "نظام اسلام پارٹی "سے تھا۔ 1971میں بنگلہ دیش کے قیام پر انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ۔ مکی با ہنی کے غنڈوں نے بنگلہ دیش زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا تو انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو ترجیح دی اس پر انھیں قید ہی میں بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔ اے کے فضل القادر چوہدری جن کا پہلے ذکر آچکا ہے انہیں بھی بنگلہ دیش کے قیام کے بعد قید میں ہی شہید کیا گیا۔ ابھی ایک دو سال قبل فضل القادر چوہدری کے بیٹے صلاح الدین چوہدری کے خلاف بھی حسینہ واجد کی حکومت نے غداری کے الزام میں مقدمہ چلا کر انہیں پھانسی پر لٹکایا ہے۔ پروفیسر غلام اعظم جماعت اسلامی کے امیر تھے جن کی سرپرستی میں "البدر ” اور "الشمس” جیسی متحدہ پاکستان کی حامی تنظیمیں قائم ہوئیں جنھوں نے مکتی باہنی کے غنڈوں اور مسلح باغیوں کا جان توڑ مقابلہ کیا۔ پروفیسر غلام اعظم کو اس کی یہ سزا ملی کہ حسینہ واجد کی حکومت نے انہیں جیل میں ڈال کر غداری کے الزام میں 74سال قید کی سزا سنائی اور کچھ ہی عرصہ پہلے جیل میں ہی ان کا انتقال ہوا۔
متحدہ پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالی راہنما ئوں کا ذکر مزید طویل ہو سکتا ہے لیکن نصف صدی سے زائد عرصے سے بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں قائم 117 کیمپوں میں نظر بندی کی زندگی گزارنے والے محصور پاکستانیوں (بہاری اور غیر بنگالی جو قیامِ پاکستان کے بعدمشرقی پاکستان میںمہاجر بن کر آباد ہوئے)کے ذکر پر اس کو ختم کرتے ہیں۔ یہ محصور غیر بنگالی آج تک اپنے آپ کو پاکستانی کہلاتے ہیں۔ کاش ہمارے ہاں کوئی ایسی حکومت آئے جوان محصور پاکستانیوں کے معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنا پر دیکھے اور ان کی پاکستان میںآباد کاری کے لئے انتظامات کرے کہ یہ ہماری اخلاقی اور قانونی ذِمہ داری بھی بنتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.