نقار خانے میں طوطی کی آواز

115

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام آدمی کی زندگی پر آشائش نہیں اس میں تلخیاں ہی تلخیاں ہیں۔ مصائب ہی مصائب ہیں اور غم ہی غم ہیں۔ 
کوئی ان سب سے نجات دلوانے کے لیے آگے نہیں آرہا جو آتا بھی ہے وہ کچھ کر نہیں پاتا یوں کروڑوں لوگ اب تک امید کے سہارے جی رہے ہیں مگر شاید انہیں مستقبل میںبھی اپنے جیون میں آسانیوں اور آسائشوں سے روشناس نہیں ہونا کیونکہ اہل اختیار کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔ اگرچہ وہ سیاست ان کے نام پر کرتے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض بھی ان کے لیے حاصل کرتے ہیں مگر ان پر صرف بہت کم کرتے ہیں ۔ اب وہ قرضہ دھیرے دھیرے بڑھتا ہوا اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کے پھیلاؤ پر قابو پانا آسان نہیں رہا۔ اسی وجہ سے ہی مہنگائی کا طوفان برپا ہے جو مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ 
اشیائے ضروریہ غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ کاروبار سخت متاثرہیں قوت خرید میں کمی خوفناک حد تک آ چکی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا ویسے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کے تناظر میں بڑھائی گئی ہوں۔ ہر دور میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اسی لیے اداروں میں بدعنوانی ہوتی رہی ہے اور آج کرپشن کلچر توانا ہو چکاہے۔ کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا ۔ تھانے ہوں یا پٹوار خانے دھڑلے سے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ بہرحال ’’روشنی ہو نہ سکی دل بھی جلایا میں نے‘‘ وطن کی محبت سے سرشار لوگ دہائی دیتے آئے ہیں کہ اقتدار والو غریب عوام کاخیال کرو انہیں ان کے حقوق دو انہیں غربت کی لکیر سے اوپر لاؤ لوٹ مار کو روکو مگر کسی نے ان کی ایک نہیں سنی لہٰذا اب صورت حال گھمبیر ہو چکی ہے بندہ، بندے کو کھانے دوڑ رہا ہے۔ دھوکا دہی ، سینہ زوری، قبضہ گیری اور حق تلفی عام دکھائی دیتی ہیں مگر قانون خاموش ہے جو طاقتوراور با اثر ہے اس کے لیے کوئی قانون نہیں۔ امیروں اور غریبوں کے درمیان واضح ایک لکیر کھنچی جا چکی ہے۔ امیر طبقہ جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے تسلسل کے ساتھ انہیں (غریبوں) ، بیوقوف بنانے میں مصروف نظر آتا ہے۔ کبھی وہ اپنے اندر سے کسی کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے اور کبھی کسی کو۔ جو وعدے بھی کرتا ہے اور دعوے بھی مگر روش پرانی ہی رہتی ہے۔ اب جناب عمران خان کو دیکھ لیجیے ۔ انہوں نے ایسے ایسے وعدے اور دعوے کیے کہ لگ رہا تھا کہ جونہی وہ اقتدار میں آئیں گے حالات ٹھیک ہو جائیں گے مگر وہ پہلے سے بھی بدتر ہو گئے۔ چلئے ہم مہنگائی کو بھول جاتے ہیں قانون کی بالادستی کے لیے ہی کچھ کیا ہوتا۔ ان تھانوں کچہریوں کے ماحول کو تبدیل کردیاجاتا۔ پٹوار خانوں میں بیٹھے پٹواریوں کو نکیل ڈال دی ہوتی ملاوٹ کرنے والوں، ناجائز منافع خوروں، قبضہ گروپوں کو ان کی نانی یاد کروائی ہوتی اور غنڈوں بدمعاشوں کو اوندھے منہ لٹا کر ان کی خاطر کی ہوتی ایسا کچھ نہیں ہوا لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب ہونے نہیں دیا گیا وگرنہ ریاست کے سامنے کوئی اکڑ فوں نہیں دکھا سکتا۔ 
یہاں ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ تاجر حضرات اتنے شتر بے مہار ہو چکے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لہٰذا اشیاء پر وہ اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں کوئی ان سے بحث بھی کرتا ہے تو وہ آنکھیں دکھاتے ہیں۔ اگر انہیں قانون کا خوف ہو تو وہ کبھی بھی اس طرح نہ کریں اور معاشی حوالے سے جو مصنوعی پن جنم لے چکا ہے وہ بھی نہ لے سکتا پھر یہ جو دہائی دی جا رہی ہے وہ بھی نہ ہوتی مگر چونکہ کرنا کرانا کچھ نہیںلوگوں کو اذیتوں میں مبتلا رکھنا مقصود ہے لہٰذا حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور عوام کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ہم اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ جب تک لوگ خود آگے نہیں آتے اور آ کر عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے گا مگر وہ خود کو اس اہل نہیں سمجھتے اور بڑی بڑی گاڑیاں رکھنے والے نام نہاد سیاستدانوں کو اپنا حقیقی نمائندہ تصورکر کے انہیں ایوان میں بھیج رہے ہیں لہٰذا وہ قرضوں کے انبار تلے دبتے رہیں گے اور چالاک اشرافیہ انہیں اپنے لوگوں کو چہروں کی تبدیلی کے ساتھ بیوقوف بناتی رہے گی۔ اب جب عمران خان کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور عوام کی غالب اکثریت ان سے تنگ آ گئی ہے تو کوئی نیا چہرہ سامنے لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور وہ چہرہ پرانے چہروں میں سے ہی کوئی ایک بتایا جاتا ہے اور وہ آتے ہی کہے گا کہ پچھلی حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا معیشت تباہ کر دی مہنگائی کر دی وغیرہ وغیرہ وہ یہ نہیں بتائے گا کہ اس کے دور میں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں ایسے ہی حالات تھے۔ لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری تھا جس نے قومی خزانے کو خالی کر دیا۔ 
بہرکیف موجودہ حکومت مافیاز سمیت بیورو کریسی کو قابو میں نہیں کر سکی جس کی وجہ سے پورا نظام حیات تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ اب اس کے پاس قریباً دو برس باقی ہیں ان میں اگر وہ کوئی بہترکارکردگی دکھا سکتی ہے تو اسے آئندہ عام انتخابات میں چند نشستیں ملنے کا کہا جا سکتا ہے بصورت دیگر وہ بری طرح سے ہارے گی عین ممکن ہے اس کی ضمانتیں بھی ضبط ہو جائیں کیونکہ عوام انتہائی غصے میں ہے۔ ان ہی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کو نوازرہی ہے جو پہلے ہی مالا مال ہیں اور ان پر ٹیکسوں کی یلغار کیے جا رہی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ غریبوں سے نفرت کرتی ہے انہیں دانستہ مسائل سے دو چار رکھنا چاہتی ہے تا کہ وہ پریشانیوں سے نجات نہ پا سکیں اور اقتدار کے ایوانوں کا رخ کرنے کا نہ سوچ سکیں۔ 
یہ جو غریب لوگوں کے لیے ایک سو بیس ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیاہے، اس سے غریب آدمی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ چار سو روپے کلو گھی تین سو روپے میں بھی خریدنے سے قاصر ہے لہٰذا اگر قیمتیں ایک برس پہلے والی ہوتی ہیں تو اس کو ریلیف سمجھنا چاہیے اور پھر جب پٹرول کو مزید آگ لگے گی تو ہر چیز جھلسے گی لہٰذا عوام کے ساتھ چالاکی کی جا رہی ہے جسے وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ حکومت ایک ہاتھ کچھ دے رہی ہے تو دوسرے ہاتھ واپس بھی لے رہی ہے لہٰذا وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کوئی بھی حکومت آئے وہ انہیں آسائشیں، آسانیاں اور سہولتیں دینے میں مخلص نہیں ہو سکتی کیونکہ اشرافیہ اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تا کہ سب مل کر قومی خزانہ اپنے تصرف میں لانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور عوام سے ٹیکسوں کی شکل میں اسے بھرتے رہیں مگر اس اشرافیہ کو اپنے ذہن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ یہ تکلیف دہ نظام حیات تادیر قائم نہیں رہ سکتا اسے بدلنا ہے آج نہیں تو کل لہٰذا کیا یہ اس کے لیے بہتر نہیں ہو گا کہ وہ عوام کو پچاس ساٹھ فیصد بنیادی حقوق دے کر اپنا ہمنوا بنا لے اور حکمرانی کے مزے ایک طویل عرصے تک لوٹے مگر وہی بات کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.