فیس بُک نے اپنا نام تبدیل کر کے ‘میٹا’ کر دیا

208

کیلی فورنیا: سماجی رابطوں کی مشہور ویب سائٹ فیس بک اپنے نام میں تبدیلی کرتے ہوئے اس کا نام میٹا کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیس بک کے بانی مارک مارک زکر برگ نے اس نام کا اعلان کیا ہے اور فیس بُک کا نام تبدیل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کمپنی کو کچھ مسائل کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔

فیس بُک کی جانب سے نام میں تبدیلی یا ری برانڈنگ سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے میٹا ورس کی اہمیت کو ظاہر کرنا بھی ہے جسے مارک زکربرگ نے انٹرنیٹ کا مستقبل قرار دیا ہے۔

مارک زکربرگ میٹا کے سی ای او اور چیئرمین ہوں گے یعنی مکمل کنٹرول ان کے پاس ہی ہوگا۔ بنیادی طور پر یہ نیا نام کمپنی کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا اظہار کرتا ہے اور مارک زکربرگ کی جانب سے کچھ دن قبل 2021 میں ہی میٹاورس کے لیے 10 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

کمپنی کے کنکٹ نامی ایونٹ کے دوران مارک زکربرگ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے نئے نام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسی کمپنی ہے جو لوگوں کو جوڑنے والی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جبکہ اکٹھے مل کر لوگوں کو ٹیکنالوجی کے مرکز میں لاسکتے ہیں اور اکٹھے مل کر ہم زیادہ بڑی معیشت کو تشکیل دے سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا برانڈ ایک پراڈکٹ (فیس بک) سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے، مگر وقت کے ساتھ توقع ہے کہ ہمیں ایک میٹا ورس کمپنی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

مارک زکربرگ @meta ٹوئٹر اکاؤنٹ اور meta.com کے مالک بھی ہیں جو فیس بک کے ویلکم پیج پر ری ڈائریکٹ کرنا والا یو آر ایل ہے۔

یاد رہے کہ فیس بک کو ان دنوں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سابق خاتون ملازم کے الزامات کی روشنی میں امریکی حکومت اس کی سخت سکروٹنی کر رہی ہے۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے کئی اراکین فیس بک کمپنی کے حکام سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کر رہے تھے اور کانگریس نے ان معاملات کا سخت نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیس بک حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ قیاس آرائیوں یا افواہوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

گزشتہ دنوں فیس بک نے اپنے نئے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم ’ میٹا ورس‘ کے لیے یورپ سے 10 ہزار افراد کو ملازمت دینے کا اعلان کیا تھا۔ ورچوئل ریئلیٹی اور آگمینٹڈ ریئلٹی کے اشتراک سے انٹرنیٹ صارفین کو باہمی طور پر غیر مرئی طور پر مربوط کرنے والا جدید کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز ’ میٹا ورس‘ متعارف کرایا تھا جو ایک ایسی آن لائن دنیا ہے جہاں لوگ ورچوئل ماحول میں وی آر(ورچوئیل ریئلٹی) ہیڈ سیٹ استعمال کرتے ہوئے کھیل، کام اور دوسرے سے کمیونی کیشن کر سکتے ہیں جبکہ یہ نئی بھرتیاں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوں گی۔

فیس بُک کی جانب سے شائع ہونے والے بلاگ کے مطابق اگلے 5 سالوں میں یورپی یونین سے 10 ہزار افراد کو بھرتی کیا جائے گا اور یہ ہائی اسکلڈ ملازمین ’ میٹاورس‘ کی تشکیل میں مدد کریں گے جس میں لوگوں کو ورچوئل اور آگمینٹڈ ریئلٹی کی مدد سے غیر مرئی طور پر ایک دوسرے سے مربوط کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

فیس بک کی اس نئی پراڈکٹ کو پرائیویسی کے تحفظات کا خدشہ ہے۔ اس بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ میٹا ورس جیسے پلیٹ فارمز سے سوشل میڈیا لوگوں کی آن لائن زندگیوں پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کر رہا ہے جبکہ فیس بک کی جانب سے میٹاورس کو موبائل انٹرنیٹ کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.