میرے کپتان…یہ وقت بھی آنیوالاہے

70

ہم ملک کے جس حصے میں رہتے ہیں یہاں خانہ بدوشوں کاآناجانالگارہتاہے اس لئے ان کے طورطریقوں،عادات اورخیالات سے اگر زیادہ نہیں توسومیں 80فیصدہم ضرور واقف ہیں۔موسم سرمامیں یہ گرم اورگرمامیں یہ سرد وپہاڑی علاقوں کارخ کرتے ہیں۔ان کا کوئی مالک ہوتاہے اورنہ ہی ان کاکوئی ٹھکانہ ۔جہاں موسم اچھااورحالات سازگار لگے یہ وہیں خیمہ وتمبو لگا کر اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں۔یہ کھاتے بھی ہیں اورپیتے بھی ۔یہ ہماری جیسی بلکہ ہم سے بھی اچھی زندگی گزارتے ہیں لیکن پھربھی ان کاکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا۔کراچی سے کشمیراورچترال سے پنجاب تک سفرکے دوران ان کااگرکسی کے ساتھ کوئی تعلق قائم ہوبھی جائے تووہ محض وقتی ہوتاہے۔ان کا تعلق اورکام فقط موسم اور حالات تک ہوتاہے۔ جب موسم بدل اور حالات ناموافق ہو جائیں توپھریہ نہ کسی کے ہوتے ہیں اورنہ ہی پھران کاکسی کے ساتھ کوئی تعلق باقی رہتا ہے۔ موسم بدلنے اورحالات کی کایاپلٹنے پریہ ٹھکانہ بدلنے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگاتے ۔آپ کواگریقین نہیں آتاتوآپ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھاکردیکھ لیں۔موسم گزرنے اورٹھکانہ بدلنے کے بعدیہ نہ پرانے والے موسم کویادکرتے ہیں اورنہ ہی پرانے ٹھکانے وحالات کایہ کوئی ذکرکرتے ہیں۔ویسے تویہ سال میں ایک دوبارہی نظرآتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر آپ باریک بینی سے مطالعہ کریں تواس میں صفحے صفحے پریہ آپ کوملیں گے۔سیاسی تاریخ کاکوئی دن اورکوئی صفحہ ان سے خالی نہیں۔مسلم لیگ ن سے لیکر پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف سے لیکر جماعت اسلامی اوراے این پی سے لیکرجے یوآئی تک ہرجگہ آج بھی ان کی گونج ہے۔آج بھی ملک کی سیاست میں ان کی کوئی کمی نہیں۔ملک میں اس وقت ایسی کوئی پارٹی اورجماعت نہیں جہاں ان کے خیمے اور تمبو نصب نہ ہوں۔یہ ہروقت اچھے موسم اور سازگار حالات کی تاک اورانتظارمیں بیٹھے رہتے ہیں۔ نظر ان کی بہت تیزاورسونگھنے کی حس ان کی بے مثال ہوتی ہے۔ کہاں بریانی پک رہی ہے اور کہاں دال کوابال دیا جا رہا ہے۔؟یہ ان سے بہتر کون جانے۔؟ خوشبو کی ایک چھوٹی سی مہک یا لہراٹھتے ہی یہ اپنا بوریا بستر خیمے اور تمبو سمیت گول کر کے اسی جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثرنے موجودہ دورمیں حکمران پارٹی تحریک انصاف کو بہتر اور اعلیٰ چراگاہ تصور کر کے پڑائو ڈالا ہوا ہے۔ ان کے زیراستعمال وہ خیمے یا تمبو جوکبھی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی،جے یوآئی ،اے این پی اورجماعت اسلامی کی چھتری تلے نصب ہواکرتے تھے وہی خیمے اورتمبوآج پی ٹی آئی کی چھتری تلے جا بجا نظر آ رہے ہیں۔ان خیموں اور تمبوئوں کی چمک ودھمک کودیکھ کرپچھلے تین سال سے تحریک انصاف کے چیئرمین ووزیراعظم عمران خان پھولے نہیں سمارہے ۔ عمران خان یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان خیموں اورتمبوئوں کی یہ شان وشوکت،میٹھی خوشبواورچاندنی کہیں ادھرہی ہمیشہ رہے گی لیکن شائد عمران خان کو سیاسی خانہ بدوشوں کی تاریخ، اصلیت ،عادات اوراطوارکا علم نہیں۔وزیراعظم یہ نہیں جانتے کہ خانہ بدوش سیاسی ہوں یاسماجی ۔ان کا کوئی مستقل شہر۔کوئی گائوں ۔کوئی علاقہ اورکوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔وزیراعظم صاحب اگرخانہ بدوشوں کی تاریخ سے ذرہ بھی واقف ہوتے تووہ تین سال سے کبھی اس طرح غلط فہمی اورخوش فہمی کاشکارنہ ہوتے۔نوازشریف اورآصف علی زرداری کوبھی کسی زمانے میں ان خانہ بدوشوں پربڑانازتھا۔سابق صدپرویزمشرف بھی ایک وقت ان کی بڑی تعریفیں کر کے خوبیاں بیان کرتے تھے۔پرویزمشرف کے دورمیں توان کے لئے مسلم لیگ ق کے نام سے باقاعدہ ایک بستی بھی قائم کردی گئی تھی لیکن پھر دنیا نے دیکھاکہ موسم بدلنے اورحالات بگڑنے پر پھر انہوں نے اس بستی کا کیا حشر نشر کیا۔ جس طرح ان کے آنے کاپتہ نہیں چلتااسی طرح ان کے نودوگیارہ ہونے کی بھی پھرکسی کوکوئی خبرنہیں ہوتی۔ اسی لئے ان کے بارے میں یہ کہاجاتاہے کہ یہ آج ہمارے مہمان ہیں کل آپ ان کے میزبان ہوں گے۔ آج یہ وزیراعظم عمران خان کو،،مائی باپ،،کانام بھی دیتے ہیں ،ٹی وی ٹاک شو،اخبارات اور سوشل میڈیا پر عمران خان کو ایک مسیحا اور ایماندار لیڈر کے طور پر بھی پیش کررہے ہیںلیکن آپ دیکھیں گے۔جس دن عمران خان اس ملک کے وزیراعظم نہ رہے اورتحریک انصاف اقتدار میں نہ رہی اس دن عمران خان سے بڑاکوئی دشمن اورپی ٹی آئی سے بری کوئی پارٹی ان کے ہاں نہیں ہو گی۔ اسی عمران خان جس کو یہ آج ’’مائی باپ‘‘ مسیحااورایماندارکہتے ہوئے نہیں تھکتے یہ پھر اسی عمران خان کوسیاسی نابالغ،لٹیروں کا سربراہ، چوروں کاکپتان اورنہ جانے کیا کچھ کہیں گے۔ ان کے ہاں ’’مائی باپ‘‘ ایماندار، مسیحا اور بہادر صرف اور صرف وقت کا حکمران ہوتا ہے۔ یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔جوشخص طاقت سے فارغ اوراقتدارسے باہرہو یہ اس کو گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ان کے لئے ایک دن اورسودن کی دوستی برابرہے۔ میاں نواشریف، آصف علی زرداری، پرویز مشرف، اسفند یار ولی، سراج الحق اور مولانافضل الرحمن اگر ان کے نہیں ہوئے تو وزیراعظم عمران خان پھرکس باغ اور کھیت کی مولی ہیں کہ یہ ان کے ہو جائیں گے۔؟آپ لکھ کے رکھ لیں ۔جس دن عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی اس دن مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جے یو آئی، جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیوں اور جماعتوں سے اڑان بھر کر تحریک انصاف میں آنے والے ان ایمانداروں کااپناسیاسی ایمان بھی پھرباقی نہیں رہے گا۔2018کے الیکشن کے لئے پی ٹی آئی ٹکٹس کے لئے اپنے سرپھاڑنے اور خون خشک کرنے والے یہ عوامی خدمتگارپھرپی ٹی آئی ٹکٹس کوہاتھ لگانابھی پسندنہیں کریں گے۔کپتان کے وفاداربننے والے یہی ایماندارپھراسی چور نوازشریف اور ڈاکو زرداری کے بغل میں دکھائی دیں گے۔ آج یہ عمران خان کے سر کی قسمیں کھا کر نوازشریف اورآصف زرداری کوگالیاں دے رہے ہیں لیکن کل یہی لوگ نوازشریف اورزرداری کے سرکی قسمیں کھاکر اسی عمران خان کوہرمسئلے اوربیماری کی جڑقراردینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ان کی بے وفائی،عہدشکنی اوررات گئی بات گئی والی دوستی کی کہانی یاکہانیاں پرانی بہت پرانی ہیں۔یہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نوازشریف اورآصف علی زرداری جیسے سیاسی استادوں کوبھی ایک نہیں کئی باربلکہ باربار ماموں بناچکے ہیں۔اقتدارکے نشے میں آج توعمران خان کی آنکھیں بندہیں لیکن جب اقتدارہاتھ سے نکلنے کے بعدکپتان کی آنکھیں کھلیں گی توآپ یقین کریں اس وقت پھرنہ ہوگابانس اور نہ بجے گی بانسری۔ان خانہ بدوشوں کی خاطراپنے کئی وفاداراورایماندارساتھیوں کودیوارسے لگانے اور ملکی سیاست میںانتقام کی خطرناک آگ بھڑکانے سے وزیراعظم نے اپنااورپارٹی کا کتنا نقصان کیا۔؟ اقتدارکے نشے میں مدہوش وزیراعظم کوبہرحال یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ ان کے آس پاس یا اردگرد خانہ بدوشوں کے یہ جو خیمے اور تمبو نصب ہیں ۔آج نہیں توکل یہ ضرورمکینوں سمیت ہوامیں اڑیں گے اورخان ہزارکوششوں کے باوجود ’’خانہ بدوشوں‘‘ کی اس بستی اوران میں موجودعظیم ہستیوں کوبچانہیں پائیں گے کیونکہ یہ ’’خانہ بدوش‘‘ نہ تیرے ہیں نہ ان کے۔ یہ نہ پہلے کسی کے کہنے پر رکے ہیں نہ آئندہ رکیں گے۔ انہیں ہر حال میں جانا ہوتا ہے اور جانے والا کبھی رکتا نہیں۔ میرے کپتان یہ وقت آج نہیں توکل آنے والاہے آپ لاکھ چاہیں بھی اس کوروک نہیں سکتے۔

تبصرے بند ہیں.