جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ

91

دنیا میں چند حقیقتیں بلا تفریق نسل، رنگ اور مذہب ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ نیکی بدی، حق باطل، خیر شر، سچ اور جھوٹ و منافقت او ریہ رہیں گی جب تک دنیا رہے گی۔ یہ خصوصیات یا صفات انسانوں کی فطرت، تربیت ، سیاق و سباق اور ماحول کی وجہ سے ہوا کرتی ہیں کہیں منفی اور کہیں مثبت فطرتیں برتر ہوا کرتی ہیں۔ جن ممالک میں نظام کمزور ہوتا ہے یا قانون کی عدم حکمرانی ہے وہاں افراد کے کردار ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ایسے میں مثبت کردار کے انسانوں کی آزمائشیں اور ذمہ داریاں بڑھ جایا کرتی ہیں۔ وہ اپنی نیک فطرت کے برعکس نہیں چل سکتے، حساسیت، آ گہی اور نیکی ان کو کبھی نہیں تھکا سکتی۔ ان کی زندگی میں جہد مسلسل اور کٹھن حالات کا آنا لازمی بات ہے۔ ایسی معاشرت میں ایسے لوگ انسان دوستی، غریب پروری، انسان سازی، کردار سازی کا رول ماڈل ہوا کرتے ہیں۔ کئی دنوں سے چاہ رہا تھا کہ جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ پر کچھ لکھوں۔ اس مخمصے میں الجھا ہوا تھا کہ کیا عنوان دوں (کسٹم کا ایدھی) تو کئی سال پہلے لکھ چکا اس کے بعد تو ڈاکٹر صاحب انسانی خدمات کے حوالے سے فخر پاکستان، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز کے ایوارڈ لے چکے بلکہ انسانی خدمات کے حوالے سے اب ڈاکٹر صاحب ایک بین الاقوامی شخصیت بن چکے ہیں لہٰذا میں نے سوچا کہ اب تو نام ہی کافی ہے۔ 
قدرت کے کارخانے میں ہر قسم کے انسان پائے جاتے ہیں ۔ جب وہ چلے جاتے ہیں تو ان کا تذکرہ باقی رہتا ہے وہ تذکرہ اگر اچھا ہے تو تاریخ اور انسانیت کا اثاثہ ہے اور اگر برا ہے تو وہ روگ اور داغ ہے ۔روگ اور داغ اپنا اثر زیادہ دیر قائم نہیں رکھتے بھلے تعداد میں زیادہ بھی ہوں مگر مٹ جایا کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس نیکی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ تاریخی حوالہ سے زیادہ دور اور دیر کی بات نہیں طاعون کی بیماری میں میو برادران کی قریہ قریہ نگر نگر انسانی خدمات تاریخ میں ناقابل فراموش سنہرا باب ہیں۔ سر گنگا رام ، گلاب دیوی ،گوجرانوالہ کے بابو عطا محمد جیسے مثبت لوگوں کی نشانیاں آج بھی موجود ہیں۔ مثبت اور قابل تقلید کردار لکھنے پر آؤں تو ایک کالم نہیں کئی کتابیں درکار ہیں۔ 
لہٰذا عنوان ہی جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سرگودھا کے معروف تعلیمی ادارے کے پرنسپل ضرب المثل ہستی جناب محمد بشیر صاحب کے بیٹے ہیں۔ جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی ایسی شاندار تربیت کہ نائٹ کلبوں کے درمیان عبادت گاہ کی تعمیر ہو جیسے، بلاشبہ ایف بی آر میں بہت نیک سیرت لوگ آئے اور ہیں بھی جنہوں نے درخشندہ مثالیں اور تاریخ رقم کی ۔ ڈاکٹر صاحب 27 سال پہلے اسسٹنٹ کلکٹر کسٹم ملتان تعینات ہوئے۔ وہاں پر کسٹم ہاؤس میں محکمہ کی ڈسپنسری کو اپ گریڈ کیا اور باقاعدہ بیمار لوگوں کا علاج شروع کر دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب فیصل آباد تعینات کر دیئے گئے فیصل آباد میں بھی کسٹم ڈرائی پورٹ کی ڈسپنری کو اپ گریڈ کیا اور دنوں میں ایک باقاعدہ دواخانہ بن گیا۔ ڈاکٹر صاحب 97، 96 میں لاہور اے ایف یو ایئر پورٹ پر تعینات کر دیئے گئے۔ لاہور کے لیے نیا نام تھا اور لاہور میں اس وقت بیگیج ، امپورٹ ، ایکسپورٹ و دیگر شعبے ایک ہی ڈپٹی کلکٹر کے پاس ہوا کرتے تھے۔ پھیرے بازی، سمگلنگ کے عادی لوگ حیران تھے حتیٰ کہ کسٹم ملازمین اور ایجنٹوں کو یقین نہ آئے کہ کوئی حقیقی دیانت دار شخص اس اہم سٹیشن پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے لوگوں کو اپنے حسن سلوک، اخلاق اور اعلیٰ کردار کی بدولت ٹیکس دوست بنایا، پھیرے باز امپورٹ کرنے پر آمادہ ہوئے اور ایسے کہ فی کلو کے حساب سے پھیرے بازی بیگیج کے نام پر سمگلنگ بند ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے لوگوں کی رہنمائی کی اور انسان دوستی، حب الوطنی، ٹیکس دوستی سکھائی یہ ان کے کردار کی بدولت تھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے کسٹم ہاؤس کی ڈسپنسری کو اپ گریڈ کیا اور پھردیکھتے ہی دیکھتے کسٹم کالونی علامہ اقبال ٹاؤن میں باقاعدہ کلینک بنایا جس میں لوگوں کا مفت علاج ہوتا۔ پھر کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور باقاعدہ این جی او رجسٹرڈ ہو گئی۔ اس کی جگہ تنگ پڑنے پر اس کو بڑھایا گیا اور باقاعدہ اضافی جگہ پر ایک بہت بڑا ہسپتال بنا دیا گیا جس میں امراض چشم اور دیگر ماہرین بھی آتے ہیں تقریباً 200 افراد کا روزانہ مفت علاج اور لیبارٹری ٹیسٹ بھی ضرورت پڑنے پر ہوتا ہے۔ 2005ء کا قیامت خیز زلزلہ ہو، 2008ء کا زلزلہ زیارت ہو، 2013ء سوات کے آئی ڈی پیز کی بحالی،ترکی میں روہنگین مسلمانوں کی مدد ہو، کہیں سیلاب زدگان ہوں، کشمیر کے مصیبت زدگان ہوں یا حالیہ افغانستان کے مستحقین ہوں، ریلیف گڈز کی تقسیم ہو یا بیماریوں اور مستحقین کی مدد ہو ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم سب سے پہلے وہاں پہنچی اور فوج کے شانہ بشانہ کام کیا فوج کے شانہ بشانہ کام کیا۔ حکومت کے دیگر ادارے بہت بعد میں شامل ہوئے ۔ڈاکٹر صاحب نے زلزلہ زدگان کو سیکڑوں گھر، تھر میں سینکڑوں کنوئیں، ہینڈ پمپ، کپڑے، ٹینٹ، مساجد، نقد مالی امداد دی جیسے یہ ایک NGO نہیں بلکہ ایک ریاست ہو۔ اس وقت 45 سے زائد کسٹم ہیلتھ کیئر کی ڈسپنسریاں اور کلینک ملک کے طول و ارض میں کام کر رہے ہیں۔ لوگوں کا مفت علاج اور مدد کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں صرف ایک جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ ہیں جنہوں نے انسانی خدمات کے حوالے سے سرکاری نوکری میں ہوتے ہوئے اپنے وطن کے دو اعلیٰ ترین اعزازات حاصل کیے۔ ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز جبکہ فخر پاکستان کا لقب لاکھوں غریبوں ، لاچاروں، بیماروں نے دے دیا۔ جہاں بھی انسانیت نے پکارا ڈاکٹر صاحب نے انسانی خدمات کو اپنا نصب العین بنائے رکھا۔ بہت سے ایسے شعبوں میں بلا تفریق عام انسانوں اور خصوصاً مسلمانوں کی خدمت کی جن کا ظاہر کرنا بھی مناسب نہیں۔ اسلام آباد اور لاہور میں دو ہسپتال ، ملک بھر میں 45 کلینک، ڈینگی اور کرونا وائرس کے ہزاروں مریضوں کا مفت علاج۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ذمہ داریوں میں دیانت داری کے ساتھ ان تھک کام کیا۔واحد سرکاری آفیسر ہیں جو تین مرتبہ صدر پاکستان کے رو برو حلف اور اعزاز کے لیے کھڑے ہوئے لوگوں نے دیکھا اور دعائیں دیں۔ابھی ان کا بطور سینئر آفیسر ایف بی آر میں اچھی خاصی مدت باقی تھی کہ ریٹائرمنٹ لے لی جبکہ موجودہ حکومت نے الحمد للہ ایک ہی کام غیر متنازع کیا جو ڈاکٹر صاحب کو وفاقی محتسب ٹیکس بنا دیا۔ چند ماہ پہلے ڈاکٹر صاحب خوفناک روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہو گئے۔ اس ایک حادثہ میں ڈاکٹر صاحب تین مرتبہ موت کی وادی سے باہر آئے ۔ایک ایکسیڈنٹ ، دوسرا وینٹی لیٹر کاجل جانا اور آکسیجن کا ختم ہو جانا تیسرا دل کا بند ہوجانااور اس پر بہت زیادہ بہہ جانے سے خون کی کمی پیدا ہو جانا مگر قربان جاؤں اللہ کی شان اور مہربانی پر جو موت میں سے زندگی اور زندگی کو موت میں بھی بدلتی ہے۔ 
آج ڈاکٹر صاحب بطور وفاقی محتسب ٹیکس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب درجنوں کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب ’’اللہ ، کعبہ اور بندہ ‘‘میں نے اپنے ایک دوست جسٹس صاحب کو تحفہ کی انہوں نے پڑھی اور دس روز بعد حج کے لیے جا رہے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک زندگی میں ڈاکٹر صاحب نے کئی زندگیوں جتنی انسانیت کی خدمت کی جو جاری ہے۔ سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کچھ کردکھایا۔ یقینا یہ اللہ کی خاص کرم نوازی اور والدین کے ساتھ دکھی انسانیت کی دعائیں ہیں ۔ اللہ کریم ڈاکٹر صاحب کو سلامتی اور عافیت میں رکھے۔ ڈاکٹر صاحب کے زہد و تقویٰ، پرہیز گاری اور روحانیت پر پھر کبھی کہوں گا۔

تبصرے بند ہیں.