پاکستان میں ‘بھارتی خفیہ ایجنسی را’ کا نیٹ ورک بے نقاب، سابق ایجنٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

152

اسلام آباد : سابق بھارتی ایجنٹ نے پاکستان میں خفیہ ایجنسی را کا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا اور انکشاف کیا را نے پاکستان میں بم دھماکے کرنے کیلئے بھیجا تھا جبکہ را اب بھی پاکستان میں سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

 

بھارتی خفیہ ایجنسی را کا پاکستان میں نیٹ ورک سابق ایجنٹ نے بے نقاب کر دیا اور بھارتی چینل پر را کے ایک ایجنٹ ڈینیئل نے انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ میں نے پاکستان میں را کی طرف سے جاسوسی کی اور پکڑا گیا۔

 

ڈینیئل نے انکشاف کیا کہ را نے پاکستان میں بم دھماکے کرنے کیلئے بھیجا تھا اور جاسوسی کیلئے لوگ صرف بھارت بھیجتاہے پاکستان ایسا نہیں کرتا۔

 

را ایجنٹ نے بتایا کہ بھارت کیلئے جاسوسی پر پاکستان میں 4 سال قید کاٹی اور پاکستان کی قید میں بھارتی باشندہ راجو بھی ’را‘ کا ایجنٹ ہے۔ ڈینیئل کا کہنا تھا کہ وطن واپسی پر بھارتی حکومت نے 15 ہزار دے کر فارغ کر دیا جبکہ را اب بھی پاکستان میں سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

 یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کی توثیق بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

تبصرے بند ہیں.