افغان فورسز کے سرنڈر کے اسباب

140

افغانستان میں 350000 فوج افغان سکیورٹی فورس جسے دنیا کے اعلیٰ ترین انسٹرکٹرز نے تربیت اسلحہ اور فوج کی تنخواہ تک کا ذمہ لیا ہوا تھا۔ وہ لڑائی کے وقت پاؤں سر پر رکھ کر کیوں بھاگ کھڑے ہوئے افغانوں کی کیمسٹری یہ ہے کہ وہ بڑے جنگجو ہیں تو پھر یہ لوگ کیوں طالبان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھ سکے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی بھرتی کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔ امریکہ کا مقصد کھربوں ڈالر خرچ کر کے فوج کی بحالی تھا جس میں بیروزگاری کو روزگار فراہم کیا جائے جو لوگ بھرتی ہوئے وہ لڑنے کے لیے نہیں آئے تھے وہ نوکری اور تنخواہ کے لیے فوج میں اپنی دھاڑی لگا رہے تھے۔ انہیں تربیت اور لڑائی سے زیادہ ماہانہ تنخواہ سے دلچسپی تھی۔ جب برطانیہ اور امریکہ نے افغانستان میں فورسز کے لیے مترجم کا کام کرنے والے افغان سویلین کو برطانوی اور امریکی ویزے دینے کی پالیسی شروع کی تو افغان فورسز کے ارکان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بعد طالبان سے زیادہ خطرہ تو فوج کو ہے ہمیں بھی ویزا دیا جائے۔ افغانستان ایسا ملک ہے جہاں کا ہر شہری دوسرے ملک جانا چاہتا ہے یہ صورت حال بہت سنگین ہے۔ اس سے افغان فورسز کے اندر مایوسی پھیلتی گئی۔ طالبان کی پراپیگنڈا وار کی مہم بڑی مضبوط تھی یہ بات افغان فورسز میں پھیلا دی گئی کہ اگر طالبان آ گئے تو سب سے عبرتناک انجام افغان فورسز والوں کا ہو گا انہیں درختوں سے لٹکایا جائے گا اور چوکوں چوراہوں پر پھانسیاں دی جائیں گے اس سے فوج میں مزید بے چینی پھیلتی چلی گئی۔
افغان فورسز نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ نہایت جلد بازی میں یہاں سے بھاگ رہا ہے فوج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا یہ بھی ایک وجہ تھی کہ افغان فورسز کے سامنے بڑا اہم سوال تھا کہ ہم نے طالبان سے مقابلہ کر کے بچانا کس کو ہے یا کس کے لیے لڑنا ہے جب پشت پر امریکہ ہی نہیں ہے اور اشرف غنی کی بدعنوانی کے قصے پہلے ہی بہت مشہور ہیں لہٰذا کوئی اخلاقی ساکھ باقی نہیں تھی نہ کوئی نظام تھا جس کو
بچانے کے لیے افغان فورسز لڑائی جاری رکھتے۔
ایک ملٹری وجہ بھی تھی افغان فورسز کے امریکی اسلحہ ماہرین جا چکے تھے اسلحے کی maintenance اور بیک اپ کا سسٹم موجود ہی نہیں تھا۔ بندوقیں تھیں مگر ان میں گولیاں مہیا کرنے کا سسٹم یا فوج کے کھانے کا سسٹم مفلوج ہو چکا تھا۔ فوج کی لا جسٹک صلاحیت متاثر ہوئی فوجی گاڑیاں غائب ہونا شروع ہو گئیں جب امریکہ بھاگ رہا تھا تو افغان افسروں نے اپنے زیر استعمال ڈبل کیبن گاڑیاں چوری کر لیں۔ ایک اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ افغان فورسز کے آپریشن کے دوران انہیں امریکی Air cover یعنی طیاروں کی مدد حاصل ہوتی تھی مگر اب انہیں نظر آ رہا تھا کہ ایئر کور کے بغیر اور امریکی امداد کے بغیر انہیں تنہا لڑنا ہے۔ انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سیاسی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو ایک کرپٹ نظام کی بقاء کے لیے لڑنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا افغان فورسز نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا انہوں نے لڑنے کی بجائے اپنے گھروں اور اپنی بیوی بچوں میں واپس جانے کا فیصلہ کر لیا جس سے دنیا کا جدید ترین امریکی اسلحہ اور سازو سامان اور گاڑیاں طالبان کے قبضے میں آ گئیں یہ ایسا ہی تھا جیسے آندھی کے دوران آم کے درختوں سے پکے ہوئے آم۔ بیٹھے بٹھائے بغیر کوشش کیے کسی کی جھولی میں آ گریں طالبان کے ساتھ یہی ہوا۔ طالبان نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو خوش آئند قرار دیا اور عام معافی کا اعلان کر دیا۔
اس سلسلے میں امریکی صدر بائیڈن کا ایک بیان قابل ذکر ہے کہ امریکی فوجی اپنا خون نہیں دیں گے کیونکہ جب افغان فورسز لڑنے کے لیے تیار نہیں تو ہم اپنے فوجی کیوں مروائیں۔ یہ ایک انتہائی شکست خوردہ بیان تھا اور یہ تاریخی بیان طالبان کے کابل پر قبضے کی وجہ بنا جس کے بعد طالبان کا بل میں داخل ہو گئے۔ افغان فورسز کے حوصلے ٹوٹ گئے اور وہ سمجھتے تھے کہ امریکہ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا اور عین میدان جنگ میں ہمیں تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔
ایک اہم جنگی وجہ یہ تھی کہ افغان عسکری قیادت کے پاس کوئی جنگی منصوبہ نہیں تھا جو سپاہیوں کو دیا جاتا بغیر حکمت عملی کے وہ کیسے لڑ سکتے تھے۔ نیٹو اور امریکی فورسز کی طرف سے ملٹری فنڈز میں وسیع پیمانے پر ہونے والی کرپشن بھی ایک اہم وجہ تھی فوج کے نام پر جو پیسہ لیا جاتا تھا وہ فوج پر خرچ نہیں ہوتا تھا۔ بہرحال یہ ایک تاریخی سوال ہے جو ایک لمبے عرصے تک امریکیوں کو Haunt کرتا رہے گا کہ وہ افغانستان سے سر پر پاؤں رکھ کر کیوں بھاگے۔
امریکہ نے 20 سال میں 4 امریکی صدود، 3 ٹریلین ڈالر، 2500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بالآخر افغانستان میں طالبان حکومت تبدیل کرکے نئی طالبان حکومت قائم کروا دی ہے "Replace Taliban with Taliban” یہی اس جنگ کا سبق ہے۔ امریکہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

تبصرے بند ہیں.