افغان طالبان نے عالمی طاقتوں کو الٹی میٹم دیدیا

204

کابل :ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ہم 1996 والا کابل نہیں چاہتے ،مذاکرا ت ہی مسئلے کا واحد حل ہیں ،لیکن اب بھی مذاکرات کے مثبت نتائج نظر نہیں آ رہے ،اگر ملٹری آپریشن کیساتھ مذاکرات کی بات کی جائے گی تو ری ایکشن ضرور آئے گا ۔

خطے کی بدلتی صورتحال اور ہر گزرتے دن کیساتھ افغانستان میں بڑھتی افرا تفری کےبعد ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین کا کہنا ہے جب  اشرف غنی نے کہاہم ملٹری آپریشن کریں گے تو ہم نے بھی علاقوں پر قبضہ شروع کردیا، ہم نے  ابھی تک 5  صوبوں پر قبضہ کیا ہے ،سہیل شاہین نے کہا اگر یہ ملٹری آپریشن جاری رکھیں گے تو ممکن ہے ہم مزید صوبے حاصل کر لینگے ۔

سہیل شاہین نے عالمی طاقتوں کو  الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا اگر افغان فورسز ملٹری آپریشن جاری رکھیں گی تو ہم ری ایکشن دینگے ۔

واضح رہے اس وقت کابل انتظامیہ کی  ملک پر رِٹ مسلسل کمزور ہونے لگی ہے ،قندھار کے بعد مزار شریف میں بھی بھارتی قونصل خانہ بند کردیا گیاہے ، طالبان  نے 4 دنوں میں ساتواں دارالحکومت گرفت میں لے لیا،طالبان کا فراہ شہر پر مکمل قبضہ ہو چکا ، گونر ہاؤس سمیت تمام تنصیبات اور دفاتر پر بھی کنٹرول افغان طالبان کر چکے ہیں ۔

تبصرے بند ہیں.