اچھا بُرا وفاقی بجٹ

44

نئے مالی سال کا پہلا وفاقی بجٹ وفاقی وزیر خزانہ نے اس قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جس کے وہ رکن ہی نہیں ہیں، موجودہ قومی اسمبلی کو ایک یہ ”اعزاز“ بھی حاصل ہے اس کا ایک رکن ایسا نہیں جو وزیر خزانہ بننے کا اہل ہو، اور”پہلا بجٹ“ میں نے اس لئے کہا کہ اب سال میں بجٹ کے کئی کئی ”آفٹر شاکس“ آتے رہتے ہیں، پچھلے سال بجٹ اسحاق ڈار نے پیش کیا تھا، وہ کئی بار وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور جو خزانے کی حالت ہے یہ بات بتانے کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے، اس بار پوری کوشش کے باوجود وہ وزیر خزانہ نہیں بنے، اب انہیں وزارت خارجہ سے نوازا اور شہبازا گیا ہے، ”قومی سمدھی“ ہونے کا جو ”اعزاز“ انہیں حاصل ہے یہ واحد اہلیت ہے جس کی بنیاد پر ان کا وزیر ہونا ضروری ہے، یہ تو ممکن ہے نواز شریف کی وزارت عظمی کے بغیر نون لیگ کی حکومت چل جائے یہ ممکن نہیں ہے اسحاق ڈار کو وزیر بنائے بغیر نون لیگ کی حکومت چل جائے، وزارت خزانہ کی اچھی خاصی سمجھ بوجھ اسحاق ڈار کو آگئی تھی، جس کے بعد قوم کی مالی حالت مزید پتلی ان کی مزید موٹی ہوتی گئی، ہمیں یقین ہے خزانے کی تباہی کے بعد خارجہ کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ بھی انہیں آ ہی جائے گی، میری نظر میں اس بجٹ کی سب سے بڑی خوبی یا خوشخبری یہ ہے اس میں سرکاری افسران و ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر نہیں بڑھائی گئی، جس کا قوی امکان تھا، میں حیران ہوں حکومت نے یہ اقدام اس کے باوجود کیوں نہیں کیا کہ یہ قومی مفاد میں نہیں تھا؟ اب نئے لوگوں کو سسٹم سنبھالنا چاہئے،ہم بڈھے طوطوں بلکہ بڈھے گدھوں نے اس ملک اور سسٹم کی جتنی تباہی کرنی تھی کر لی، اس سے زیادہ تباہی چونکہ ہو ہی نہیں سکتی چنانچہ ہم سے نجات ہی بہتر ہے، عام تاثر تھا حکومت ایک دو طاقتوروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر شاید دو تین برس بڑھا دے، مگر ہماری حکومتیں ایک دو یا چند طاقتور شخصیات کو فائدہ پہنچانے کے لئے سب کو فائدہ پہنچانے کی محتاج نہیں ہوتیں، ان کے پاس اپنی طاقتور پسندیدہ شخصیات کو فائدہ پہنچانے کے کئی راستے ہوتے ہیں، اس کے لئے قومی اسمبلی میں مشترکہ قرار دادبھی لائی جا سکتی ہے، جیسے یہ راستہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے کر بھی کھولا گیا تھا، البتہ اسی رستے سے کسی چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینے کی روایت بھی اگر زندہ کر دی گئی ہوتی ستیاناس سسٹم کا سوا ستیا ناس بلکہ پورا ستیا ناس ہو چکا ہوتا، اس مْلک کی ترقی اس وقت شروع ہوگی جب ایسے ”گھناؤنے کاروبار“ مکمل طور پر بند کر دئیے جائیں گے، ہمارے ملک میں کوئی نیا ٹیلنٹ اس لئے پیدا نہیں ہو رہا کہ وہ پرانا ”ٹیلنٹ“ ہماری جان ہی نہیں چھوڑ رہا جس کی وجہ سے تباہی ہوئی، ہمارا کوئی جنرل ہمارا کوئی جج ہمارا کوئی افسر تو ایسا ہو جسے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی اور پرکشش عہدے کی پیشکش کی جائے وہ یہ فرمائے”میں اپنی آزادی مزید کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں“، میں اب ایک اور طرح کی خوبصورت زندگی گزارنا چاہتا ہوں، اپنی اولاد اور اس کی اولاد کو وقت دینا چاہتا ہوں، مجھے اب پارکوں میں جا کر درختوں کی چھاؤں تلے بیٹھنا ہے، پرندوں اور پھولوں سے باتیں کرنی ہیں، چمکتے ہوئے جگنو اڑتی ہوئی تتلیاں دیکھنی ہیں، مجھے اپنی اجڑی ہوئی لائبریریاں آباد کرنی ہیں، مجھے اعلی تعلیمی اداروں میں جا کے مختلف اہم موضوعات پر بلا معاوضہ لیکچرز دینے ہیں، مجھے اچھا میوزک سننا ہے، اچھی فلمیں دیکھنی ہیں، اپنے مخلص دوستوں کی محفلیں آباد کرنی ہیں، یا یہ کہ دوران سروس میں اپنا گھر نہیں بنا سکا تھا اب مجھے اپنا گھر بنانا ہے، یقین کریں اس طرح کی روایات جس روز زندہ ہو گئیں یہ ملک تنزلیوں سے فوری طور پر ترقی کے راستے پر چل نکلے گا، اس وفاقی بجٹ کی دوسری اچھی بات یہ ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کچھ بہتر اضافہ کیا گیا ہے جو نون لیگ کی روایت نہیں ہے، ہم یہ توقع کر رہے تھے صرف پانچ دس فی صد اضافہ ہی ہوگا، بلکہ سچ پوچھیں مجھے لگ رہا تھا اضافے کے بجائے کمی کر دی جائے گی، البتہ ایک واردات یہ ڈالی گئی پچیس اور بائیس فی صد اضافہ کر کے اْس پر ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا جس کے بعد اضافے کی خوشی کافی حد تک ماند پڑ گئی، یہ میں ان سرکاری افسران و ملازمین کی خوشی ماند پڑنے کی بات کر رہا ہوں جو صرف تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں وہ سرکاری افسران یا ملازمین جنہیں صرف ”اوپر کی کمائی“ راس ہوتی ہے انہیں اپنی تنخواہوں میں اضافے یا کمی کی کوئی پروا ہی نہیں ہوتی، وہ اپنی حرام کی کمائی ”حلال“ کرنے کے لئے اپنی تنخواہیں وغیرہ زکوٰۃ یا صدقے خیرات میں دے دیتے ہیں، بجٹ میں کفایت شعاری کی کوئی پالیسی متعارف نہیں کروائی گئی جو تباہ شدہ قومی خزانے کا ایک بنیادی تقاضا تھا، کفایت شعاری کے لئے جو کمیٹی بنی تھی اس نے حکومت کو ایک ٹریلین روپے کی بچت کے اقدامات تجویز کئے تھے، جس پر عمل درآمد کی کوئی پالیسی نہیں دی گئی، دفاعی اداروں کے لئے اربوں روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ صحت کے لئے ”ھوالشافی“، تعلیم کے لئے ”رب زدنی علما“ اور خوراک کے لئے”واللہ خیر الرازقین“ کے وظیفے مختص کرنا ہی کافی سمجھا گیا ہے، نان فائلرز کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو ہماری اسٹیبلشمنٹ اپنے پالتو سیاستدانوں یا سیاسی حکومتوں سے کرتی ہیں، ویسے میں سوچ رہا تھا جس طرح ہماری کچھ”نیک پاک ایجنسیاں“ ہر بندے کی فائل کھولے بیٹھی ہیں ملک میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ بچے جو”نان فائلر“ رہ جائے، ایک اور اچھا کام اس بجٹ میں یہ ہوا ایک سال سے تمام خالی آسامیاں ختم کر دی گئی، ظاہر ہے اگر ایک سال سے تھوک کے حساب سے موجود ان خالی آسامیوں کے بغیر کام چل رہا تھا اس کا مطلب تھا ان کی ضرورت ہی نہیں ہے، اس پالیسی کا دائرہ مزید وسیع ہونا چاہئے، بے شمار بھری ہوئی آسامیاں بھی ایسی ہیں جن پر براجمان ”زکوٹے جن“ ٹکے کا کام نہیں کرتے، وہ قومی خزانے پر مسلسل ایک بوجھ ہیں اور ہر محکمے ہر شعبے میں ہیں، ان آسامیوں کو بھی ختم کر دیں، یہ خبربھی گردش کر رہی ہے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے شکایت کی ہے بجٹ کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، شہباز شریف نے یقینا کہا ہوگا ”ہمیں کون سا لیا گیا ہے جو ہم آپ کو لیتے“، کامیاب بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو مبارکباد دی ہے، جواباً وزیر خزانہ کو بھی وزیراعظم کو اس بات پر مبارکباد دینی چاہئے کہ آپ کو اس بجٹ میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا تو آپ نے اپنی اس ”بے اختیاری“ پر کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا، یہی وہ ”بے اختیاری“ ہے جس کی بنیاد پر آپ کے تاحیات وزیراعظم رہنے کے اچھے خاصے چانسز ہیں،

”ساہنوں لگ گئی بے اختیاری“

تبصرے بند ہیں.