ہمارا کشمیر: ہم کیا کر رہے ہیں؟

20

ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر فی الاصل کھو چکے ہیں۔ مودی سرکار نے جمہوری طریقے سے، اپنے ملک میں رائج جمہوریت کے ذریعے، ایکٹ آف پارلیمان کے ذریعے اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو ختم کر کے اسے بھارتی یونین میں ضم کر لیا ہے گویا انہوں نے عملاً یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر اب مسئلہ نہیں ہے، تنازع نہیں ہے۔ پاکستان و بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر ختم کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے، عالمی رائے عامہ کا تو اس کی حیثیت کیا ہے۔ مسئلہ فلسطین پر، اقوام عالم نے وضاحت کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ یروشلم تینوں مذاہب (اسلام، عیسائیت، یہودیت) کے لیے مقدس جگہ ہے، اس لیے یہ تینوں اقوام یعنی مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے کھلا رہے گا۔ بین الاقوامی اور بین المذہبی شہر رہے گا لیکن صہیونی ریاست اسرائیل نے کیا کیا؟ اس نے پورے کے پورے یروشلم کو اسرائیل میں ضم کر لیا۔ صرف ضم ہی نہیں کیا بلکہ اپنا دارالحکومت تل ابیب سے اٹھا کر یروشلم منتقل کر لیا۔ درجنوں ممالک اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کر چکے ہیں۔ اسرائیل نے آگے بڑھ کر ٹکڑوں میں بٹی نحیف فلسطینی ریاست پر حملہ کر دیا۔ 7اکتوبر 2023ء سے غزہ پر جاری اسرائیلی بربریت اب بڑھتے ہوئے رفاہ پر اپنے منحوس سائے پھیلا رہی ہے۔ عالمی رائے عامہ کیا کر رہی ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہید، لاکھوں زخمی و بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام عالم کو تو چھوڑیئے، عالم عرب اور عالم اسلام کیا کر رہا ہے؟

پاکستان کی بات کریں تو ہم بھارت کے ساتھ دشمنی نبھاتے نبھاتے اپنا مشرقی بازو کھو چکے ہیں۔ موجودہ نسل کو تو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کبھی مشرقی پاکستان بھی ہوتا تھا۔ بنگال ہمارا حصہ تھا، ہمارا اٹوٹ انگ تھا۔ اس وقت کے پاکستان کی 56 فیصد آبادی مشرقی پاکستان میں بستی تھی۔ وہ لسانی، نسلی اور قومی ثقافتی اعتبار سے سب سے بڑی اکثریت تھی۔ دور حاضر کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ کسی ملک کی اکثریتی آبادی نے اقلیتی آبادی سے لڑ کر علیحدگی اختیار کی وگرنہ ہوتا تو یہ ہے کہ ہمیشہ اقلیت ہی، اکثریت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے۔ عموماً اکثریت، اقلیت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتی ہے جس کے باعث اقلیت مظلومیت کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہمارے کیس میں اس کے الٹ ہوا۔ ہماری اشرافیہ نے اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ اکثریت میں دشمن کے ایجنٹوں نے راہ بنائی۔ مکتی باہنی تشکیل دی۔ بھارتی ”را“ نے مداخلت کر کے ایک بھرپور تحریک تشکیل دی اور بالآخر سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا۔ کیا آج بھی حالات اسی قسم کے نظر نہیں آ رہے ہیں کہ ایک اقلیت اقتدار اور وسائل پر قابض ہے، قومی وسائل کی بندر بانٹ کر رکھی ہے، عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ آبادی کی واضح اکثریت یعنی عوام پس رہے ہیں، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، معیشت بربادی کا شکار ہے، عوامی معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے، قدر زر میں گراوٹ آ چکی ہے۔ معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے۔ بے روزگاری عام ہے، لوگوں کی آمدنیاں محدود اور قوت خرید بُری طرح گھٹ چکی ہے۔ سیاسی افراتفری اور ریاستی ڈھانچے کی شکست و ریخت نے عوام کو نہ صرف اپنے حال سے بلکہ مستقبل سے بھی مایوس کر دیا ہے۔ عام آدمی ملک کی بقا اور قیام کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔ داخلی افتراق و انتشار اپنے عروج پر ہے۔ ایسے ہی حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے اپنے زیر قبضہ کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر ڈالا اور ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے اور نہ کر سکے۔

اب جو کچھ ہمارے زیرانتظام کشمیر میں ہو رہا ہے کیا وہ الارمنگ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر میں ایک بغاوت کا سماں پیدا ہو چکا ہے، ویسے تو 2021ء میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی لیکن وہاں انتشار ہی انتشار جاری رہا جو حالیہ دنوں میں بغاوت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے اقتصادی اور معاشی مسائل کا تو وہ ایسے ہی ہیں جیسے پاکستان میں ہیں۔ وہاں کی انتظامیہ بھی ایسی ہی ہے۔ آزاد کشمیر کو اسلام آباد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات اور واقعات، کشمیر کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف نے جس طرح پاکستان میں انتشار پیدا کیا ہے بالکل ویسے ہی انہوں نے کشمیر میں انتشاری سیاسی و انتظامی کلچر فروغ دیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں بغاوت کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ کشمیر ہمارے لیے اہم اور حساس خطہ ہے۔ یہاں پر ہونے والے واقعات عالمی پریس میں جگہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں جاری واقعات کو نہ صرف عالمی پریس میں ابھارا جا رہا ہے بلکہ بھارتی میڈیا، اسے قومی جذبے کے ساتھ پاکستان کی نالائقی ابھارنے کیلئے خوب ہوا دے رہا۔

ہے۔ ویسے تو 5 اگست کے بھارتی فیصلے کے بعد کشمیر کے ایشو پر پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے۔ حالیہ واقعات نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ بھارت اس پر بغلیں بجا رہا ہے۔ کشمیر میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات اچانک ہی وقوع پذیر نہیں ہوئے ہیں بلکہ ایک عرصے سے یہ آگ سلگ رہی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ بھڑکتے ہوئے یہ شعلہ جوالا بنا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز ادارے معاملات کو سمجھنے اور بروقت درست اقدام اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ ویسے عوامی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، ہیلتھ، سینی ٹیشن، تعلیم وغیرہ ہم جیسے اداروں کی کارکردگی بارے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ نادرا لاکھوں پاسپورٹ جاری کرنے میں ناکام ہے۔ سائلین سے فیس کی مد میں کروڑوں روپے وصول کر چکا ہے۔ کوریئر کے اخراجات بھی وصولے جا چکے ہیں لیکن لاکھوں پاسپورٹوں کا اجرا نہیں ہو سکا ہے۔ پنجاب کا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بھی اسی بیماری کا شکار ہے۔ فیس وصول کرنے کے باوجود عوام کو نمبر پلیٹس مہیا کی جا سکی ہیں اور نہ ہی کار/ موٹرسائیکل کا ملکیتی کارڈ۔ لاکھوں سائلین کئی مہینوں سے رُل رہے ہیں۔ نمبر پلیٹوں کے اجرا کے لیے ٹھیکیدار سے جھگڑا چل رہا ہے۔ کارڈ کے اجرا میں خصوصی میٹریل کی عدم دستیابی رکاوٹ ہیں۔ سرکاری محکمے اپنی فیسیں اور دیگر واجبات ٹھیک ٹھیک وصول کرنے میں طاق ہیں، رشوت کی وصولی بھی بڑے پیشہ ورانہ انداز میں کی جاتی ہے لیکن جب سروس ڈلیوری کی بات ہوتی ہے تو معاملات بالکل ہی دگرگوں ہو جاتے ہیں۔ سرکاری افسران کے بارے میں رائے پائی جاتی ہے کہ وہ رج کے نالائق، کرپٹ اور بدنیت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام نظر آتے ہیں سرکاری محکموں سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی بھی پُرسان حال نہیں ہے۔ محکموں، کارپوریشنوں، اتھارٹیز اور دیگر سرکاری اداروں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے لیکن ان کی سروس ڈلیوری زوال پذیر ہے۔ اس وقت ہم اپنی قومی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ جب معاشی معاملات مکمل طور پر پستی اور بدحالی کا شکار ہیں، نفسانفسی کا عالم ہے عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ سیاسی ابتری کا دور دورہ ہے۔ کرپشن تو اپنے عروج پر ہے ہی نالائقی اور ناکارکردگی بھی جوبن پر ہے۔ معاشی نمو کا پہیہ رکا ہوا ہے۔ قرض خواہ ہمارے اعصاب پر سوار ہیں، ایسے میں پاکستان کے حساس ترین علاقے، کشمیر میں پُرتشدد تحریک لمحہ فکریہ ہی نہیں بلکہ پریشان کن بات ہے، دشمن ہمیں ہلاک کرنے کے لیے طاق لگائے بیٹھا ہے۔ ہوش کے ناخن لینا ضروری ہے۔

تبصرے بند ہیں.