ایران اسرائیل تنازع اور اس کے مضمرات

32

75 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ایک بدمعاش اور فلسطینی سر زمین پہ غیر قانونی قابض اسرائیل نامی ریاست نے اس پورے خطے کا امن و سکون برباد کر رکھا ہے۔ ہمسایوں سے مستقل چھیڑ چھاڑ، فلسطینی زمین کے اصل مالک نہتے فلسطینیوں پہ ظلم و ستم، مختلف ہمسایہ عرب ریاستوں کے علاقوں پہ زبردستی قبضہ اور آجکل غزہ کے مقیم فلسطینیوں پہ توڑے جانے والے مظالم اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل اس علاقے کی ایک بدمعاش ریاست ہے اور اس کی ان تمام بدمعاشیوں کو آج تک مغربی عالمی طاقتوں کی بھرپور پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ اسی طاقت کے زعم میں چند ہفتے قبل اسرائیل نے شام میں موجود ایرانی قونصلیٹ کی بلڈنگ کو بلا جواز نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں وہاں موجود کچھ سینئر ایرانی فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ اس کارروائی کی جہاں پوری دنیا نے مذمت کی وہیں اسرائیلی نواز مغربی طاقتوں کا دوغلا پن بھی حقیقت بن کر سامنے آ گیا۔ اسرائیل کی یہ کارروائی جہاں تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی وہیں یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی نفی تھی۔ اس موقع پہ ایرانی حکومت نے اپنے اہلکاروں کی شہادت کا جلد بدلہ لینے اور دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھانے کا اعادہ کیا۔

اس کے بعد تیرہ اپریل 2024 کو شام کے وقت ایران نے اسرائیل پہ حملہ کر دیا۔ اس حملے میں 180+ کامیکاز ڈرونز ، 28 بیلسٹک میزائل اور 9-7 ہائیپر سانک میزائل استعمال کئے گئے۔ اسی دوران لبنان میں موجود ایرانی حمائت یافتہ ملیشیا حزب اللہ اور یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیل پہ راکٹ داغے۔ دوسری طرف اسرائیل کا ڈیفنس سسٹم اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے پوری طرح فعال تھا اور اس کے ساتھ اس کی مدد کے لئے امریکی اینٹی میزائل سسٹم اور ائیرفورس بھی موجود تھی۔ جہاں تک اس جوابی حملے
اور اس کے اہداف کا تعلق ہے تو ایرانی افواج کے سربراہ اور ایرانی دفتر خارجہ اس پہ اپنا موقف دیتے ہوئے اس کو کامیاب گردانتے ہیں لیکن دوسری طرف اسرائیل اور اس کے اتحادی اسے ناکام حملہ قرار دیتے ہیں۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ کیا ایران نے جوابی کارروائی کر کے واقعی اپنے اہداف حاصل کئے یا پھر یہ سارا ڈرامہ اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے رچایا گیا؟ ایرانی فورسز کے بقول انہوں نے اس حملے سے درج ذیل مقاصد حاصل کئے۔ دنیا کی نظر میں اسرائیل کے ناقابل شکست ریاست کے تشخص کو ٹھیس پہچانا اور اسے باور کرانا کہ مضبوط دفاع کے حامل ممالک باآسانی اس کے چپے چپے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کو یہ دکھانا بھی مقصود تھا کہ کسی بھی وقت مضبوط اسرائیلی دفاعی حصار کو توڑا جا سکتا ہے۔ تیسرا دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح ایک حملے نے اسرائیل کی اکانومی کو ایک رات میں 24۔1 ارب ڈالرز کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اور آخر میں پچھلے 190 دنوں میں یہی وہ واحد رات تھی جب غزہ کے بچے سکون کی نیند سو سکے کیونکہ اسرائیلی طیارے غزہ پہ بمباری کی بجائے ایرانی ڈرونز، میزائلز روکنے میں مصروف رہے۔

اب یہیں کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جو اس حملے کو مشکوک بھی بناتے ہیں۔ جیسا کہ ایران نے حملے سے 48 گھنٹے پہلے امریکہ و مغربی دنیا کو اعلانیہ بتا دیا تھا کہ وہ اگلے کچھ گھنٹوں میں اسرائیل پہ حملہ کرنے جا رہا ہے۔ لیکن کیا ایسا کرنے سے ایران نے خود اسرائیل اور اسکے اتحادیوں کو موقع نہیں فراہم کیا کہ وہ اپنے دفاعی نظام کو فعال اور حصار کو مزید مضبوط بنا کر حملہ کو ناکام بنائیں۔ بدقسمتی سے ایسا ہی ہوا۔ 90 فیصد ڈرون اور میزائل اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی مار گرائے گئے۔ اس کارروائی میں امریکی ائیر ڈیفنس سسٹم کے ساتھ امریکی، برطانوی اور اردنی فضائیہ نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اسی طرح یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اس بڑے پیمانے پہ حملہ کر کے بھی ایران اسرائیلی آرمی یا ائیر فورس کے کسی ہوائی اڈے کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچا سکا۔ تو کیا اس حملے کے اہداف میں بلڈنگز کو بھی نقصان نا پہنچانا شامل تھا؟ نتیجتاً، اگلی ہی صبح اسرائیلی طیاروں نے رات نشانہ بننے والے ائیر بیس سے ہی اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔

اسی طرح حملے کے دوران ہی اقوام متحدہ میں موجود ایرانی مندوب نے یہ بیان دے دیا کہ اگر اسرائیل کی طرف سے مزید کارروائی نہ ہوئی تو ہماری طرف سے بھی اس جوابی کارروائی کو حتمی اور ختم سمجھا جائے۔ تو یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اتنی کیا جلدی تھی کہ حملے کے دوران ہی اسکا نتیجہ دیکھے بغیر ایران نے اسے ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا؟

اب جہاں اوپر لکھے گئے سب سوالات بحث اور جواب طلب ہیں وہیں اس حملے کے بعد کی صورتحال پہ کچھ خدشات بھی ہیں۔ جن میں اہم اس حملے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کی طرف سے مزید کوئی شرارت اور کوشش ہو سکتی ہے۔ دوسرا ایسی صورتحال میں اسرائیل ہر صورت چاہے گا اسے دو ممالک کی بجائے علاقائی جنگ میں بدلے۔ تاکہ اس کی آڑ میں وہ امریکی مداخلت کے ساتھ ہمسایہ ممالک کو مزید کمزور کر سکے اور موقع ملتے ہی حق دفاع کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مزید علاقوں پہ بھی قبضہ کر سکے۔ اسی طرح قانون قدرت ہے کہ جب کسی کا اپنے طاقتور حریف پہ زور نہیں چلتا تو وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے اپنے سے کمزور پہ مزید ظلم ڈھاتا ہے اور یہاں سب سے کمزور فلسطینی ہی ہیں، جن پہ اس حملے کے ری ایکشن میں مزید ظلم و ستم ہونے کا قوی امکان ہے۔

لہٰذا اگلے چند دن یا ہفتے اس ضمن میں بہت اہم ہیں کیونکہ ان میں بدمعاش اور ناجائز ریاست اسرائیل کی اگلی حکمت عملی واضح ہو جائیگی۔

تبصرے بند ہیں.