سفید امریکی طالبان اور اسرائیل

35

دنیا غزہ کے آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھی پکنک منا رہی ہے، اِس انجام سے بے خبر کہ یہ کسی وقت بھی پھٹ کر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ غزہ کے مسلمانوں نے عید اپنے مرنے والوں کے سوگ اور برستے بارود میں منائی۔ اسماعیل ہانیہ کے تین بیٹے اور تین پوتے عید کے موقع پر اسرائیلی بارود کا نشانہ بنے۔ جنگ کو جاری ہوئے 190 دن ہو چکے۔ غزہ برباد ہو چکا۔ 35 ہزار کے قریب مرد و زن اور بچوں کی بڑی تعداد اِس یک طرفہ جنگ میں کام آ چکی ہے لیکن عالمی ضمیر نامی چکلے کے مکین ابھی تک گہری نیند سو رہے ہیں شاید وہ آخری فلسطینی کے شہید ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اِس جنگ کے بعد یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے ڈرامے کا پردہ ہمیشہ کیلئے گر جائے گا کہ اِس کے ذکر پر ہی انہیں شٹ اپ کال مل جائے گی۔ ایران اِس جنگ میں اپنی ٹوکن شراکت داری کر چکا ہے لیکن اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ میرا تجزیہ تو یہ کہتا ہے کہ اسرائیل جنگ کا سلسلہ وقتی طور پر منقطع ہونے جا رہا ہے تاکہ اِس سانحہ کے نقش مسلمانوں کے ذہنوں سے مٹا کر پھر نئی جنگ کی تیاری کر سکے اور اِس کیلئے ایران سے شروع ہونے والی جنگ ایران پر ہی ختم ہونے جا رہی ہے۔ کیونکہ امریکی حملے کے بعد روس، چائنہ اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بیان بازی اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ چیزیں سمٹ رہی ہیں۔ چین کا فلسطین کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت دلانے کی بات انتہائی اہم اور مسئلہ فلسطین کے پُر امن حل کی جانب ایک بہتر پیش قدمی ہے لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟ ایرانی حملے کے بعد گلف میں کاروبارِ زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن غزہ کے مقتولین اور مستقبل کے مقتولین کیلئے ہمدردی کا کوئی پیغام کہیں سے نہیں آیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے ایرانی حملے کی مذمت کی ہے۔ جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ گائے اور بچھڑے والوں کا رشتہ زیادہ مضبوط ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کے ساتھ ہے جب کہ امریکی عوام کے سامنے پہلی بار امریکی اسٹیبلشمنٹ کا حقیقی چہرہ کھل کر آ گیا ہے۔ وہ ریاست جس نے اپنے شہریوں کو انسان آزادیوں کا درس دیا، قتل و غارت گری کو بدترین فعل بتایا، بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے قتل پر احتجاج کرنا سکھایا، جس نے سیکولرازم، برابری اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو ختم کرنے کیلئے اپنے نصاب کا حصہ قرار دیا اور دنیا سے دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر پوری مسلمان دنیا کو تہہ تیغ کیا، آج امریکی عوام جان چکے ہیں کہ اُن کی ریاست ”سفید طالبان“ کی تبدیل شدہ شکل ہے جو کسی صورت بھی خودکش بمباروں سے کم نہیں کیونکہ دنیا کی کسی بھی فوج کو سویلین کے ساتھ لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی لیکن چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہونے کو آیا کہ زمین اور آسمان آگ اُگل رہے ہیں لیکن منہ زور اسرائیل کو روکنے والا کوئی نہیں۔ ریاستِ متحدہ امریکہ نے اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف جبر کی نئی تاریخ رقم کرائی ہے۔ ایران نے اپنے پڑوسیوں کو انتباہ کر دیا ہے کہ اسرائیل کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے والوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔

میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ 1947ء میں سوشل میڈیا نہیں تھا ورنہ تقسیم کے وقت ہونے والی خونریزی اتنی سنگین ہونی تھی کہ اُس سے صرف پنجاب نے متاثر نہیں ہونا تھا بلکہ اس کی لپیٹ میں سارا ہندوستان آ جانا تھا اور آج پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیرکی آبادی چند کروڑ ہی رہ جانی تھی۔ پروپیگنڈا کا ایسا بے رحم طوفان آیا ہوا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ جس کے دماغ میں جو آتا ہے وہ سوشل میڈیا کے سپرد کر کے سو جاتا ہے اور پھر ابوجہل کی قبر سے نکلا ہوا افواہ کا یہ پرندہ خبر کی دنیا میں گھنٹوں نہیں مہینوں محوِ پرواز رہتا ہے اور اُس کے رد عمل میں جہالت کا ایک اور بازار گرم ہو جاتا ہے۔ اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد طالبانی ذہن رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد اِس حملے کا مذاق اڑاتی نظر آئی۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا کرنے میں اس حد تک تو حق بجانب ہوں کہ اس سے اسرائیل کا نقصان نہیں ہوا لیکن یہاں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افواج پاکستان پر حملے کرنے والے اور پاکستان میں من مرضی کی مسلکی اسلامی حکومت دیکھنے والوں کو غزہ کے مظلوم مسلمان عوام کیوں نظر نہیں آ رہے؟ کیا اُن کا جہاد صرف پاکستان کے خلاف ہے یا پھر جو اسرائیل کے خلاف جنگ کرے گا اُس کی مخالفت کرنا رہ گیا ہے؟ کیا دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے یوکرائن کی کوئی خیر خبر نہیں آئی، کوئی نہیں جانتا کہ وہاں انسانوں پر کیا بیتی ہے؟ جبکہ ساری دنیا جانتی ہے روس، چین اور ایران کا آپس میں کیا تعلق ہے تو کیا اِس بات کو ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا کی توجہ یوکرائن سے ہٹانے کیلئے اِس بار ایران کو استعمال کرتے ہوئے اہلِ غزہ کو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے؟ یورپ اور امریکہ یوکرائن کی جنگ شروع کرا کر پیچھے ہٹ گئے اور یہی کام غزہ والوں کے ساتھ ایرانیو ں نے کیا۔ اہل غزہ کا اسرائیل پر حملہ پاکستان میں ہونے والے9 مئی کے حملوں جیسا تھا۔ کوئی بھی عقل مند انسان اپنی طاقت کا اندازہ کیے بغیر اپنے سے ہزاروں گنا زیادہ طاقتور مخالف پر حملہ کیسے کر سکتا ہے لیکن اگر غزہ میں ایسا ہوا ہے تو کسی نے انہیں بہت بڑی آس دلائی ہوئی تھی جیسے 9 مئی کے ملزمان کو سمجھا دیا گیا تھا کہ انقلاب دریائے راوی کے کنارے پر کھڑا اُن کا انتظار کر رہا ہے۔ اسرائیل نے تیزی کے ساتھ گریٹر اسرائیل کیلئے جد و جہد تیز کر دی ہے اور یہ 1937ء سے لے کر آج تک ہونے والا فلسطینیوں کا 22 واں قتل عام ہے جس میں شہداء کی تعداد پہلی تمام نسل کشی کی مہمات سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران کا مشکوک کردار اپنی جگہ پر درست ہے لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسرائیل پر ایک کنکر پھینکنے والے کی مخالفت اسرائیل کی حمایت بن جاتی ہے جو کم از کم بطور مسلمان ہمیں زیب نہیں دیتی۔

اِس خوفناک جنگ کے نتیجہ میں دنیا ایک بار پھر یک ستونی سے دو ستونی ہونے جا رہی ہے۔ دنیا ایک بار پھر بلاکوں میں تقسیم ہونے جا رہی ہے۔ امریکہ اپنی بدمعاشی یا تسلط بطور یک ستونی طاقت کے برقرار رکھنے کیلئے سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف روس کی پیش قدمی ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آج نہیں تو کل غزہ کی جنگ کے پیچھے بھی یوکرائن سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی پالیسی ضرور برآمد ہو گی لیکن اتنی دیر تک دنیا میں بہت کچھ بدل چکا ہو گا۔ روس نے پہلے بُری معیشت کے ساتھ افغانیوں کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے افغانستان میں فوجیں اتاری تھیں جو تباہ کن ثابت ہوا لیکن اِس بار روسی طاقت کے پیچھے چین کی مضبوط ترین معیشت کھڑی ہے جو عالمی سرمایہ داری کیلئے بد ترین خطرہ بن چکی ہے اور امریکہ اس کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے لیکن فی الحال اسرائیل کی منہ زور طاقت کو لگام دینے کی ضرورت ہے ورنہ اِس سے عالمی امن کو خطرات درپیش آ سکتے ہیں۔ اسرائیل اور سعودیہ کے بڑھتے ہوئے مراسم کو روکنے میں غزہ کے شہداء کا خون کام کر گیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد اگلے کچھ سال تک سعودیہ یا گلف کا کوئی دوسرا ملک مسلم دنیا کی نفرت کا بوجھ اٹھا کر اسرائیل سے روابط قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ آئی ایم ایف سے ملنے والی اقساط ہمیں غزہ کے مظلوموں کی حمایت سے روک رہی ہیں لیکن یاد رکھیں تاریخ کا بے رحم پہیہ سیدھا بھی چلتا ہے اور الٹا بھی! غزہ کی سویلین آبادی کے ساتھ ایک منظم فوج اگر اِس قدر بربریت کر سکتی ہے تو ہماری آغوش میں تو ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی جنم لے چکی ہے۔

تبصرے بند ہیں.