قاضی فائز عیسیٰ بھارتی عدلیہ کے اعصاب پر

83

مشہور محاورہ ہے ’’دشمن بات کرے انہونی‘‘ کیا وطن عزیز کا اندرون ملک یا بیرون ملک کوئی ایک شہری بھی سوچ سکتا ہے کہ بھارتی خصوصاً ہندو پاکستان کے بارے میں کوئی مثبت سوچ رکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بھارت کے ایک ریٹائرڈ جسٹس مرکنڈے کاٹجو یو ٹیوب سے ہوتے ہوئے واٹس ایپ پر آ گئے۔ میں نے سوچا بھارت کا جج رہ چکا ہے شاید یہ کوئی معقول بات کرے گا مگر نہیں بالآخر بھارتی ہی ثابت ہوا، جج نہیں۔ اس نے مجھے اپنے انٹرویو بھیجے جو کالم کو طویل کر دیں گے۔ مختصراً یہ ہے کہ اس ریٹائرڈ جسٹس کی رائے، بغض اور حسد کو بھارت کے تمام اداروں کا احساس سمجھا جائے۔ بھارت میں پانچ کروڑ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، دو لاکھ پچاس ہزار تو صرف عصمت دری، زنا بالجبر کے مقدمات ہیں اور یہ بھارتی عدلیہ کا نمائندہ کہتا ہے کہ قاضی صاحب پرانے مقدمات کی طرف متوجہ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سابقہ ججز نے مقدمات کی بہت بڑی تعداد فیصلہ کیے بغیر چھوڑی۔ اب بھارتی عدلیہ پر سانحہ یہ ہے کہ جسٹس چوہدری، ثاقب نثار، کھوسہ اور بندیال کے بعد یکدم جناب قاضی فائز عیسیٰ جیسے جج پاکستان کی عدلیہ کا مقدر کیسے بن گئے جو اپنے ’’برادرز‘‘ ججز کا کٹہرا، آئی ایس آئی کے سربراہ، ایف بی آر کا گھن چکر دیکھ چکے۔ سرخرو ہوئے اور 2018ء سے اب تک ان کے دور میں ریکارڈ مقدمات فیصلہ ہوئے۔ قارئین کچھ بھی ہو ایک بات طے ہے کہ بھارت کو افواج پاکستان اور آئی ایس آئی سے دشمنی ہی نہیں شدید نفرت بھی ہے جس کی بنیاد وہ خوف ہے جو خطہ میں بھارت کو حدود سے باہر نہیں آنے دیتا۔ بہرحال متذکرہ ریٹائرڈ جسٹس کی ساری گفتگو ایک یوتھیے کی گفتگو تھی۔ وہ کہتا ہے کہ میں ہوتا چیف جسٹس آف پاکستان تو ایک دن میں ساری عدلیہ بند کر کے فیصلہ کر دیتا۔ اس زندہ لاش کو یہ معلوم نہیں کہ ان 6 ججز نے پہلے جسٹس بندیال کو خط لکھا تھا اور آج وہ خط دراصل ایک بنیاد تھی کہ قاضی صاحب کے وقت میں نئے انداز سے دہرایا جائے گا۔ خط میں ادارے کا ذکر ہے مگر کسی فرد کا نام نہیں۔ جس طرح جسٹس (ر) شوکت عزیز نے نام لیا تھا اور مقدمہ بھی بتایا۔ چلیں ان 6 ججز میں کسی کا نام لینے کی جرأت نہیں تو کم از کم ان مقدمات کا ہی بتا دیں جن میں ان پر دباؤ تھا یا مداخلت ہوئی۔ سب سے اہم بات یہ کہ پی ٹی آئی کا ان ججز کے ساتھ کیا لینا دینا ہے۔ ان ججز نے ایسی شکایت اور خط تو جسٹس (ر) بندیال کو بھی پیش کیا تھا۔ بہرحال بھارتی میڈیا، بھارتی عدلیہ، بھارتی افواج اور پاکستان مخالف دانشور و ہندو تنظیمیں آج کل اپنی بہو، بیوہ، بیٹیوں کے متعلق اتنا نہیں سوچتے، جتنا پاکستان کی سیاست، عدلیہ اور آئی ایس آئی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے کوئی مغالطہ نہیں رہتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان میں ان کی امنگوں کا ترجمان ہے چونکہ میں بنیادی طور پر وکیل ہوں اور وکالت کرتا ہوں لہٰذا میرا ایسے لوگوں سے رابطہ رہتا ہے جو اس شعبہ سے منسلک ہیں اور پھر 2008ء سے کالم نگار ہوں لہٰذا میڈیا کے لوگوں سے بھی راہ و رسم رہتی ہے۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف اس کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈے میں ہمہ تن اور ہمہ وقت مصروف رہتا ہے۔ میں نوعمری میں ایم آر ڈی کا کنوینر رہا۔ عوام کی حاکمیت کے لیے ضیائی دور سے کردار ادا کیا۔ اب تک عوامی قوتوں کے ساتھ ہوں، اداروں کی عوامی حاکمیت میں مداخلت کے خلاف ہوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بالکل خلاف ہوں لیکن یہ نقطہ نظر بانی پی ٹی آئی کی اندھی تقلید میں بدل نہ سکا۔ جب 2011ء کا سپانسرڈ جلسہ، پارٹیوں کی توڑ پھوڑ اور پی ٹی آئی کی افزائش زوروں پر تھی، گلوں میں پٹے ڈالے جا رہے تھے، جہاز بھر بھر کر لائے جا رہے، ہم تو تب بھی خلاف تھے پھر حکومت میں بٹھا کر مخالفین کو بند گلی کیا ’’قبر‘‘ میں اتارنا بھی دیکھا۔ آج بانی پی ٹی آئی کی بہن کہتی ہے نوازشریف کے خلاف مقدمہ جائز نہیں تھا، آج بانی پی ٹی آئی کہتا ہے قاضی صاحب پر ریفرنس زیادتی تھی۔ آج سب، وہ کردار جو ان کا رہا ہے اس کے برعکس ہو گئے۔ آج شوکت عزیز صدیقی جسٹس (ر) حق پر اور مظاہر نقوی عبرت بن کر درست ہو گئے۔ دراصل مقلد سب سے پہلے اپنے جاہل ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ ذرا سوچو کہ اسٹیبلشمنٹ کی 25 سالہ اور دو سالہ شدید جدوجہد کا نتیجہ بانی پی ٹی آئی نظریاتی کیسے ہو گیا اور ہوا بھی تو اتنا کہ اتنے ماہ ہو گئے ہیں، کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا۔

سید ذوالفقار کاظمی ایک جہاں دیدہ نامور دانشور امریکہ میں بسنے والے پاکستانی ہیں۔ وطن عزیز کے متعلق بہت دکھی ہیں اور ایک بہت ہی تشویش ناک صورتحال بیان فرمائی کہ ہم بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی پہلے اپنے ملک کے لیے لابنگ کرتے تھے، اپنے ملک کی بھلائی، فلاح اور ترقی کے لیے کوشاں تھے۔ اب دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان کے خلاف لابنگ کرتے ہیں، کوشاں ہیں، سوچتے ہیں، ایک فتنہ میں مبتلا ہو کر ریاست اور حکومت کا فرق بھول گئے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم (بانی پی ٹی آئی) کی حکومت کے لیے ریاست پاکستان کے دشمن ہو گئے۔ ہو بھی سکتے ہیں، انہوں نے کون سا اس دھرتی پر دفن ہونا ہے، وہیں کے ہو گئے جہاں رہتے ہیں۔ رہا زرمبادلہ وہ پاکستان کو تو ایک روپیہ نہیں دیتے، اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں جنہوں نے نہ جانے کس کس کے در کی ٹھوکریں کھا کر ان کو ویزے دلوائے اور گریٹ بھٹو کے دیئے ہوئے پاسپورٹ پر ویزے لگوائے۔ اب امریکہ میں 9500 قادیانی اگر پاکستانی بن کر کوئی رائے سازی کریں تو ڈریں اس دن سے جب بھارتی میڈیا اور ادارے تبصرہ نہیں خدانخواستہ ہماری تاریخ لکھ رہے ہوں گے۔ میری جگہ کالم شری کانت، پیارے لال، ڈیوڈ، مجید انور قریشی قادیانی لکھ رہا ہو گا۔ برٹنٹڈ بلیو مین (یہودی) لکھ رہا ہو گا۔ 6 ججز نے دنیا میں اداروں کو بدنام کیا۔ محض میڈیا فیم اور اپنے اصل کردار کے نمایاں ہونے سے بچنے کے لیے گو کہ سیاست سے ہٹ کر ہماری عدالتوں میں مقدمات کے سلسلہ میں سست روی اور عدالتی افسران کی من مانی پر مجھے تحفظات رہتے ہیں مگر اتنا بھی کیا کہ بھارتی نالائق جج ہم پر تبصرہ کرے۔ جناب قاضی فائز عیسیٰ کی شخصیت سے حسد نے بھارتی حاضر و ریٹائرڈ عدلیہ اراکین کو بیمار کر دیا اور میڈیا تو پہلے ہی حواس باختہ تھا۔

میرے ایک دوست جناب سید دانیال بھی ایک دانشور اور زیرک نوجوان ہیں۔ ان کے دوست ایک کالم پہ شکوہ کرنے لگے کہ تمہارا رائٹر بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہے۔ میری ان کی خدمت میں عرض ہے کہ میں ہر شخص کے حق میں ہوں جو آئین اور قانون کے ساتھ عوام کے حق میں ہے، مجھے بانی پی ٹی آئی کا نظریہ اور سیاسی کردار بتا دیں میں ان کے ساتھ ہوں۔

تبصرے بند ہیں.