رمضان المبارک، حکومتی پیکیجز اور سفید پوش طبقہ!

17

پاکستان میں غربت میں اضافہ تشویشاک حد تک بڑھ چکا ہے، آپ باہر نکلتے ہیں، کسی جگہ بھی شاپنگ کرتے ہیں، تو باہر فقرا اور غربا کی لائنیں آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں، ان میں 50 فیصد تو مستحق ہوتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں پیشہ ور فقرا بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تعداد رمضان المبارک میں اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ آپ پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں… ایسے میں ملک کے حالات آپکے سامنے ہیں۔ حکومتیں، آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں، سبسڈی دینا تو دور کی بات کسی ٹیکس کو کم کرنے کی بات بھی کر دیں تو آئی ایم ایف ناراض ہو جاتا ہے اور قرض کی اگلی قسط جاری نہیں کرتا… پھر مجبوراً حکومت کو گھٹنے ٹیک کر مزید مہنگائی کرنا پڑتی ہے۔۔۔ لیکن اس کے برعکس ن لیگی حکومت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ پھر بھی بُرے معاشی حالات میں عوام کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہے، جیسے پنجاب حکومت نے گھر گھر راشن پہنچانے کا بندوبست کیا اور ساتھ ہی وفاقی حکومت نے بھی ساڑھے بارہ ارب روپے کا یوٹیلٹی پیکیج دیا ہے، یعنی وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کے عوام کو ریلیف دینے کا اعلان کرتے ہوئے رمضان المبارک میں 12.5 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت دی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غریب، نادار اور مستحق افراد تک رمضان ریلیف پیکیج پہنچایا جائے۔ اس حوالے سے یوٹیلٹی سٹورز اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ساتھ موبائل یونٹس نے بھی کھانے پینے کی سستی اشیا فراہم کی ہیں، میرے خیال میں یہ ایک کامیاب پروگرام ہے۔ جس کے تحت 1200 موبائل پوائنٹس اور 300 مستقل پیکیج ریلیف مراکز قائم کیے گئے، متعین مقامات کے علاوہ ٹرکوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں غریب عوام کو سستی اشیائے خور و نوش پہنچائی گئیں۔ مقام کا تعین جدید ٹیکنالوجی ’جی پی ایس‘ کی مدد کیا گیا۔ موبائل ایپ کے استعمال کی راہنمائی کے لیے خصوصی ویڈیو بھی جاری کی جائے گی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے والا ڈیش بورڈ تیار کیا گیا تاکہ آٹے کی فروخت کی نگرانی ہو سکے، موبائل اور لائیو فوٹیج سے آٹے کی تقسیم کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ موبائل یونٹس کے ایک سے دوسرے مقام منتقلی کے دوران آٹے کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ ریلیف پیکیج کے ذریعے 3 کروڑ 96 لاکھ خاندانوں کو سستے داموں اشیا دی گئی ہیں، اس سکیم کے تحت آٹے پر فی کلو 77 روپے اور گھی پر فی کلو 70 روپے سبسڈی دی گئی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت آٹا، چاول، دال، گھی، چینی، شربت اور دودھ مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت کیا گیا۔ آٹے کے 20 کلو تھیلے پر 77 روپے فی کلو اور گھی پر 70 روپے فی کلو سبسڈی دی جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا رمضان ریلیف پیکیج ملک بھر میں قائم 4 ہزار 775 یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے مستحق خاندانوں میں تقسیم کیا گیا۔ بہرحال! قارئین رمضان المبارک کا مقدس مہینہ گزر رہا ہے، یہ اللہ رب العزت کی خصوصی رحمتوں، برکتوں، فضیلتوں اور نعمتوں کے روز و شب نزول کا ماہ مبارک ہے، جس میں ایک نیکی کا ثواب ستر نیکیوں کے برابر ہے۔ آپؐ کا ارشاد پاک ہے ’’تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آنے والا ہے، پس اس میں نیتوں کو درست کر لو، اس کی حرمت کی تعظیم کرو، بے شک اللہ کے نزدیک اس مہینے کی بہت حرمت ہے، اس کی حرمت کو پامال نہ کرو‘‘۔ روزہ محض خود کو کھانے پینے سے روکے رکھنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد تقویٰ اور پرہیزگاری حاصل کرنا ہے، روح کی صفائی، پاکیزگی اور باطنی طہارت کا حصول ہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کے لیے خاص انعامات و اکرام کی برسات ہوتی ہے، نیکیوں کے بدلے کا گراف اونچا ہو جاتا ہے، یعنی ایک نفل عمل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض عمل کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملتا ہے۔ یہ بات تو اپنی جگہ درست ہے کہ اس وقت پاکستان میں چاروں صوبائی حکومتوں سمیت مرکزی حکومت نے بھی عوام کو ریلیف دینے کا اعلان رکھا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے، اس حوالے سے عوام کو بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آمدن میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں متوسط طبقہ 42 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گیا ہے جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 24 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملکی آبادی میں متوسط آمدنی والا طبقہ جتنا زیادہ ہو گا ملک کی معیشت اتنی ہی ترقی کرے گی لیکن ہمارے ملک میں معاشی بدحالی، روز افزوں مہنگائی اور بیروزگاری نے اسی طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو مزید دو کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کسی بھی معاشرے میں متوسط طبقہ معیشت کا انجن سمجھا جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ حکومت متوسط اور سفید پوش طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ اگلے سال رمضان ریلیف پیکیج کا دائرہ کار بڑھایا جانا چاہیے اور اس میں سفید پوش طبقے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف میسر آ سکے۔ جبکہ اس کے علاوہ امید ہے کہ حکومت آئندہ بھی خیال رکھے گی، بالکل اسی طرح جس طرح ن لیگ نے غریب کا ساتھی بننے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہاں اس امر کی یاد دہانی بھی کرائی جا سکتی ہے کہ محترمہ مریم نواز نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مہنگائی، گراں فروشی اور زخیرہ اندوزی کو کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹرنگ اور نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو زیادہ فعال کرنے اور ان سے زیادہ سے زیادہ کام لینے کا ذکر کیا تھا۔ وہ یقینا اس پر عمل کریں گی، اور امید ہے مرکزی حکومت بھی اس پر پوری توجہ دے گی تاکہ عوام کے دکھوں کا مستقل مداوا کیا جا سکے!

تبصرے بند ہیں.