بارودی سرنگیں

139

پاکستان میں انتشار کی سیاست کی بنیاد جنرل پاشا نے پی ٹی آئی کے ذریعے رکھی۔ ہر شعبے میں ہم خیال داخل کرائے گئے اور ذہن سازی کی گئی۔ جب اس پراجیکٹ کو لپیٹنے کا فیصلہ ہوا تو اس وقت اندازہ ہوا کہ کٹھ پتلی عفریت بن چکی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو یقینی دیکھ کر عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ توڑ دیا جسے شیخ رشید نے ڈھٹائی اور خباثت بھری مسرت کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کیا کہ خان نے اگلی حکومت کی راہ میں معاشی بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ سفارتکاری سمیت دیگر ریاستی شعبوں میں بھی کیا گیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو یہ بارودی سرنگیں ناکارہ بنانا تھیں مگر پتہ نہیں کیوں وہ اوپر مٹی ڈال کر دبانے کی کوشش کرنے پر لگی ہے۔ اسی لیے آئے روز کوئی نہ کوئی نیا تماشا یا بحران کھڑا ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ الیکشن 2024 میں بھی سبق سیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف کو بھی ٹارگٹ کیا گیا بلکہ کیا جا رہا ہے۔ اب تو سینیٹر عرفان صدیقی نے خود تسلیم کر لیا کہ فوجی قیادت نواز شریف کو وزیر اعظم بنانے پر تیار نہیں تھی اور اسکی اطلاع انہیں پاکستان آنے سے قبل لندن میں ہی دی جا چکی تھی۔ اگرچہ نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی صورت خود ہی سائیڈ لائن ہونے پر رضا مند ہو چکے تھے مگر اپنی بد دلی چھپائے بغیر نہ رہ سکے۔ صدر آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تکون کے ذریعے جو نظام چلایا جا رہا ہے اسکی بنیادوں میں بھی بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ ن لیگ کا دعویٰ ہے نواز شریف کو رسوا کرنے کے لیے لاہور والے حلقے میں ووٹوں اور فارمز کی ہیرا پھیری کی گئی۔ پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی پورا میڈیا شور مچانے لگا کہ نواز شریف ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہار رہے ہیں۔ جشن فتح منانے کے لیے ماڈل ٹاؤن آنے والے نواز شریف خاموشی سے رائے ونڈ چلے گئے۔ اب جبکہ ان کی صاحبزادی وزیر اعلیٰ پنجاب اور بھائی وزیر اعظم بن چکے ہیں اسکے باوجود ان کے تمام قریبی ساتھی کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ کو ایک منصوبے کے تحت کٹ ٹو سائز کیا گیا۔ بے ججھک ہو کر اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ فی الوقت تو ن لیگ اپنی دوغلی پالیسی کے ذریعے وقت گزار رہی ہے لیکن نواز شریف اور مریم نواز کی حد تک یہ صورتحال کسی بھی وقت دھماکہ خیز ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا طرز سیاست اسٹیبلشمنٹ کو بہتر لگتا ہے لیکن ان کی ناک بھی پیپلز پارٹی سے رگڑوائی جا رہی ہے۔ ارسا کے چیئرمین کی تعیناتی ہو یا اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سربراہی فیصلے تبدیل کرائے گئے۔ سابق آئی جی سندھ راجہ رفعت مختار اسٹیبلشمنٹ کی چوائس تھے۔ پیپلز پارٹی نے ہٹا کر غلام نبی میمن کو آئی جی لگوایا تو یہ سبکی بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے حصے میں آئی۔ آنے والے دنوں میں معاشی حوالے سے سخت فیصلوں سے جہاں عوام متاثر ہونگے وہیں ن لیگ کی گرتی ہوئی ساکھ کو مزید دھچکے لگیں گے۔ ایچی سن کالج کے پرنسپل کے معاملے کو جس منظم اور مربوط انداز میں اچھال کر ن لیگ کی بھد اڑائی گئی وہ بے وجہ ہرگز نہیں۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے متاثرین و ملازمین کا سارا ملبہ بھی ن لیگ پر ہی گرے گا۔ شہباز شریف وزارت عظمیٰ بچانے کے لیے مزید کتنے سمجھوتے کرینگے، ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ بے اعتبار آصف زرداری جو وعدوں کو قرآن حدیث نہیں سمجھتے اس وقت پلٹا کھا جائیں گے جب اسٹیبلشمنٹ اپنے آپشن محدود ہوتے دیکھ کر پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کا اشارہ دے گی۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی میں ’’پیار‘‘ کا رشتہ پرانا ہے۔ جو 2011 سے پاشا والی موجودہ پی ٹی آئی کے قیام کے وقت سے جاری ہے۔ پیپلز پارٹی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کئی بار جھٹکے کھا کر بھی یہ روش ترک نہیں کی۔ پی ڈی ایم کی تحریک کے عروج میں پیپلز پارٹی نے ایجنسیوں کے اشارے پر اتحاد توڑا تو مولانا فضل الرحمن نے اسے بجا طور پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ الیکشن 2024 میں جے یو آئی ف کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اب ان کے اہم اور کارآمد بندے توڑے جا رہے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں مولانا نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگلے مرحلے میں لانگ مارچ اور اسلام میں دھرنے کا اعلان کر دیا تو ضروری نہیں اس بار سارا معاملہ آسانی کے ساتھ پُرامن طریقے سے نمٹ جائے۔ جنرل پاشا سے جنرل فیض کے دور تک ہونے والی بھرتیوں کے باعث عدلیہ بھی بڑے پیمانے پر گڑ بڑ ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے جج کھل کر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اب تو مراد سعید اور شیر افضل مروت کی طرح اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے بھی لگے ہیں۔ تو دوسری جانب بلوچستان اور کے پی کے میں دہشت گردی کی بڑی لہر آ چکی ہے۔ فوجی تنصیبات اور اہلکاروں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ منگل کو کے پی کے میں چینی انجینئروں کو نشانہ بنایا گیا۔ سی پیک پر کام پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اب اس حوالے سے ماحول میں کشیدگی اور بددلی پیدا کی جا رہی ہے۔ سی پیک کے ملکی اور بین الاقومی مخالف کون ہیں یہ کوئی راز نہیں۔ افغان سرحد مستقل خطرہ بن چکی۔ اطلاعات یہی ہیں کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان سے متصل سرحدوں پر بھاری اسلحہ پہنچا دیا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حقائق اور عوامل کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی صفوں میں کوئی پریشانی نہیں۔ یہی کہا جا رہا ہے سب کچھ ٹھیک کر لیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو مگر حکومت، سیاست، سفارت اور عدالت کے اس بے ڈھنگے کھیل سے عام آدمی کی پہلے سے اجیرن زندگی مزید کتنا متاثر ہو گی اس پر کوئی غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مٹی ڈال کر بارودی سرنگوں کو چھپایا تو جا سکتا ہے ناکارہ نہیں بنایا جا سکتا۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

تبصرے بند ہیں.