واقعہ اچھرہ کے گمنام ہیروز کو میرا سلام

116

نہ معلوم کب اس ملک سے خوف کے سائے ختم ہونگے۔ بغیر کسی وجہ کے نفرتوں اور عداوتوں کی منڈیاں تہس نہس ہونگی۔ کب عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے ناسور کا صفایا کیا جائے گا۔ آئے روز ہی ایسے دلسوز واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور پھر ایک اندیشہ سینے مین جنم لیتا ہے کہ اب یہ حالات ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ان حالات پر قابونہ پایا تو ہماری آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا؟جواب کی تلاش میں سرگرداں اور کوئی مستقل حل سامنے نہ آنے کی وجہ سے اندیشہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو پھر خوف روح و جسم میں فرسٹریشن کے نشتر پیوست ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ان حالات میں جینا بہت مشکل ترین ہو تا جاتا ہے۔ لیکن ان مشکل ترین حالات میں جہاں لوگ خوف اور نفرتوں کے پجاری ہیں، وہاں لوگوں کی عزت، آبرو اور جان کی حفاظت کر نے والے ارتضی کمیل، شہر بانو نقوی اور ملک بلال جیسے انمول ہیروز بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے معاشرے کا حسن قائم ہے۔
لاہور کے اچھرہ بازار میں گذشتہ دنوں رونما ہونے والے واقعے میں انہی ہیروز کی وجہ سے ایک بار پھر ہم پوری دنیا کے سامنے ذلیل ہونے سے بچ گئے۔ نہیں تو جو حالات وہاں تھے اورجو کچھ رپورٹ ہوا، اگر یہ ہیروز یہاں موجود نہ ہوتے تو ان لوگوں نے ایک بہت بڑا سانحہ سر انجام دینا تھا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم جو مرضی کریں، جو دل میں آئے کر گذریں لیکن اگر دوسرا وہ کام کرے تو ہمارے اندر کا مفتی جاگ جاتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض لوگ اسلام کی تعلیمات سے بالکل عاری اپنے نفس کی غلامی میں ایسے ایسے نعرے لگاتے ہیں کہ الامان الحفیظ!!!اس واقعے میں بھی کچھ ایسے ہی لوگ تھے۔ ان لوگوں نے بغیر کسی تحقیق اور سوچے سمجھے ایک خاتون کو صرف اس کے لباس کی وجہ سے شدید اذیت کا نشانہ بنایا۔ بھلا ہو وہاں موجود دوکاندار کا جس نے خاتون کو فوری طور پردوکان کے اندر کیا اور شٹر نیچے کر دیا اور سب سے اہم کردار وہاں کی مسجد کے امام اور مجلس ختم نبوت کے جنرل سیکریٹری قاری علیم الدین شاکر کا تھا۔ اب موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے آدھ گھنٹے تک قاری صاحب مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد سب سے اہم کردار ایس۔ایچ۔او اچھرہ ملک بلال کا تھا جو فوری رسپانس کرتے ہوئے موقع پر پہنچا اور اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑا رہا۔ جبکہ ایس۔ پی ماڈل ٹاون ارتضی کمیل بھی ان کی سربراہی کرتے رہے۔ بعدازاں اے۔ایس۔پی شہر بانو نقوی بھی امام مسجد، ایس۔ایچ۔او اور ایس۔پی کی معاونت سے خاتون کو باحفاظت نکالنے پر کامیاب رہیں۔
اس واقعے میں امام مسجد، ایس۔پی ماڈل ٹاون اور ایس۔ایچ۔او کا بھی اہم کردار تھا۔ لیکن مجھے اس واقعے کے جینوئن ہیروز کو ہم خراج تحسین پیش نہیں کر پائے۔ بلا شبہ اے۔ایس۔پی کا کردار اپنی جگہ قابل تعریف ہے لیکن آدھ گھنٹے تک لوگوں کے عتاب سے خاتون کو محفوظ رکھنے والے ان ہیروز کو اے۔ایس۔پی جتنی عزت و شہرت ملنی چاہئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ طوفان بد تمیزی بر پا کر نے والے یہ سب اسلام کے نام پر کر رہے تھے لیکن اسلام کا اصل چہرہ اور پیغام امام مسجد قاری علیم الدین شاکر کاتھاجو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اس ہجوم کے سامنے ڈٹے رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان ہیروز کی کاوشوں کو پس پشت ڈال کر ہم معاشرے سے ہمدردی، محبت اور ایثار جیسی خوبصورت چیزوں کو ختم کر رہے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو کریڈٹ نہ دے کر ان جیسے لوگوں کی ہمتوں کو توڑ رہے ہیں، ان کے جذبوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دوکاندار، امام مسجد، ایس۔پی اور ایس،ایچ،او ملک بلال سمیت تمام پولیس ملازمین کی خدمات کو حکومتی سطح پر خراج تحسین پیش کیا جائے اور ان تمام لوگوں کو بھی نشان امتیاز سے نوازا جائے۔ میں یہاں آرمی چیف، صدر پاکستان سمیت وزیرا عظم اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی گذارش کرتا ہوں کہ ان تمام ہیروز کی کاوشوں کو قومی سطح پر بھی تسلیم کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اس عمل سے معاشرے میں ہمدردی، محبت اور ایثار کا جذبہ پروان چڑھے گا اور اگر ہم ان ہیروز کی خدمات کو خراج تحسین پیش نہ کر سکے تو معاشرے میں یونہی کچھ لوگ ہمارے پیاروں کو اپنے اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بناتے رہیں گے اور پھر خدانخواستہ اگر ہم نے ان ہیروز کی خدمات کو خراج تحسین پیش نہ کیا تو پھر وہ دن دور نہیں کہ ہمارے پیاروں کو بچانے والا کوئی قاری علیم الدین شاکر، ارتضی کمیل اور ملک بلال موجود نہ ہو اور ہمارے پاس سوائے احساس ندامت کے مزید کچھ نہ ہو۔ میں اور میرا خاندان اس وقعے کے تما م ہیروز کو دونوں ہاتھوں سے سیلوٹ پیش کرتا ہے اور خراج تحسین وعقیدت پیش کرتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.