سیاسی استحکام ہی معاشی ترقی کی کْنجی ہے

18

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت چلنے والے منصوبوں کی شفافیت پر اعتراض اْٹھا دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ کی سرمایہ کاری کی مکمل معلومات ہی دستیاب نہیں ہیں لہٰذا تجویز یہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کا دستاویزی عمل موثر بنایا جائے۔ ان بادشاہوں کی کوئی تجویز بھی درحقیقت ہمارے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشی درجہ بندی کے عالمی ادارے فچ کی پاکستان کے بارے میں رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام مارچ میں ختم ہو جائے گا اور آئی ایم ایف کے ساتھ نیا پروگرام پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کر سکتا ہے لیکن نئی حکومت کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اگلا پروگرام شروع کرنا اور چلانا ایک چیلنج ہوگا۔ یہ بے یقینی اور موجودہ سیاسی صورتحال آئی ایم ایف کے پروگرام میں طوالت کا سبب بن سکتی ہے، امدادی اداروں اور ممالک سے فنڈنگ میں تاخیر سے اصلاحات کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے، امید ہے کہ نئی حکومت فوری طور پر آئی ایم ایف سے رابطہ تو ضرور کرے گی لیکن صرف سیاسی استحکام ہی معاشی ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔ اب سوچنا تو یہ ہوگا کہ ہم یہ سیاسی استحکام لائیں تو لائیں کہاں سے، کاش اہل سیاست ملکی و عالمی حالات، معاشی معاملات اور ملک و قوم کے مفادات مد نظر رکھ کر کچھ سوچیں، سمجھیں اور سبق بھی سیکھیں، یہاں جو جماعت الیکشن جیتی ہے اس نے تو بس ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے، پی ٹی آئی انتہائی مایوس کن اور نامناسب بیانیہ بول رہی ہے کہ فلاں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، فلاں سیاسی جماعت سے بات یا مذاکرات نہیں کریں گے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ کبھی کوئی سیاست و حکمت اور علم و عقل و فکر و تدبر کی کوئی بات کریں گے ”بھاویں“ کوئی گوہر ہو یا جوہر، کوئی مروت ہو یا کڑوا شربت، الغرض کارکنان سے کپتان تک ان کے تو رویے ہی سیاسی اور جمہوری نہیں ہیں، چاہے آپ کے پاس جتنی بھی طاقت و مقبولیت اور صلاحیت ہو لیکن پھر بھی اگر آپ کا طرز سیاست یہی رہا تو آپ کبھی بھی ایک سیاسی اور جمہوری جماعت نہیں بلکہ جبر و جہالت کا ایک ”جتھا یا جمگٹھا“ ہی لگیں گے۔ خدارا آپ یہ دھرنے دھینگا مشتی کی سوچ کو ہی چھوڑ دیں، تھانوں اور پی ٹی وی پر حملوں ایسی مستی میں مست نہ رہیں بلکہ ”بندے کے پْتر بن کر“ توبہ توبہ کریں اور بھول جائیں 9 مئی ایسی سیاست کو،نہیں تو تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ ان حالات میں عمر ایوب نے بہت بہتر بات کی ہے کہ ”فوج ہم میں سے ہیں اور ہم فوج میں سے ہیں۔“ در حقیقت یہی آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ سابق پی ایم شہباز شریف کہتے ہیں کہ تحریک انصاف ایک اور 9 مئی کرنے کی سازش کر رہی ہے، پنجاب سپیڈ نے مزید کہا کہ ہم نے جس طرح پہلے ملک کو بحران سے نکالا تھا اب ایک بار پھر مل کر ملک کو مضبوط کریں گے جبکہ دوسرے سابق پی ایم شاید خاقان کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن بھی گئے تو وہ کیا کر لیں گے، یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ایک قومی حکومت بنائیں جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہو، انہوں نے کہا کہ کمشنر کہہ رہا ہے کہ میں نے آئین توڑا اور الیکشن میں چوری کی تو پھر چیف جسٹس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کریں اور تہہ تک پہنچ جائیں۔ محترمہ شاندانہ گلزار نے کہا کہ اگر تمام آر اْوز قرآن پر حلف لیں کہ ہم نے دھاندلی نہیں کی تو ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا اور کیا بنے گا اس قوم اور ملک کا جہاں الیکشن تو ہو گئے ہیں لیکن نتائج کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہے ہیں اور پتا ہی نہیں چل رہا ہے کہ جیتا کون ہے اور ہارا کون ہے۔؟ شوکت بسرا الیکشن کمیشن میں قرآن پاک لے آئے اور کہا کہ اگر اعجاز الحق قرآن پاک پر قسم کھا لیں تو میں کیس واپس لے لوں گا جب کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ میں جیتا ہوا تھا، میں حلف دیتا ہوں کہ آر اْو نے نتائج مرتب کرنے کے لیے مجھے نہیں بلایا۔ ملک کے معروف کالم نگار و اینکر پرسن جاوید چوھدری نے بتلایا کہ ”میں نے کمشنر لیاقت چٹھہ سے پوچھا کہ آپ کے ڈویژن کے اندر تو راجہ پرویز اشرف بھی آتے ہیں جو اس وقت سپیکر قومی اسمبلی ہیں تو کیا آپ نے اْن کا الیکشن بھی مینج کیا ہے تو انہوں نے کہا جی ہاں میں نے ان کا الیکشن بھی مینج کیا اور مجھے کہا گیا تھا کہ میں نے ان کو بھی جتوانا ہے لہٰذا میں نے راجہ پرویز اشرف صاحب کو بھی جتوایا“۔ میں سمجھتا تھا کہ مسلم لیگ نون یقینا اس الیکشن کے نتائج سے خوش ہوگی اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن سابق ایم این اے راجہ جاوید اخلاص نے فون کر کے اور یہ کہہ کر مجھے حیران ہی کر دیا کہ سپیکر پرویز اشرف نے ہر قسم کی دھاندلی نہیں بلکہ ”دھاندلا“ کیا ہے ان کے بھائی راجہ جاوید اشرف انتظامیہ کو ڈراتے رہے، سرکاری آفیسرز کو دھمکیاں دیتے تھے اور تبادلے کراتے رہے، پانچ فروری کو راجہ پرویز اشرف نے بعض علاقوں میں گیس کے پائپ پھینکے اور دورانٍ الیکشن گرانٹس دے کر اور دیگر ترقیاتی کاموں کہ اعلانات کر کے انہوں نے لوگوں سے ووٹ لیے ہیں، راجہ جاوید اخلاص نے کہا ہے کہ جتنی دھاندلی ہمارے انتخابی حلقے میں ہوئی ہے وہ کہیں اور نہیں ہوئی ہو گی میرے پاس اس کے سب ثبوت موجود ہیں۔ راجہ جاوید اخلاص خطہ پوٹھوہار کی سیاست میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں اور نمایاں نظر آتے ہیں، ان کی خدمتٍ خلق کی سیاست و شرافت ہی ان کی اصل پہچان ہے، وہ دھیمے مزاج کے، پیکرٍعجز و انکسار، خوش اخلاق، نرم دل اور ملنسار انسان ہیں، اپنے انتخابی حلقہ میں تعمیر و ترقی کے ان گنت کاموں کے حوالے سے اور اپنی گراں قدر سماجی خدمات کی وجہ سے بلاشبہ وہ ایک ہر دلعزیز سیاسی لیڈر کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود بھی انہوں نے ہار کا منہ دیکھا ہے، میری نظر میں ان کے ہارنے یا انہیں ہرانے کی سب سے بڑی وجہ مسلم لیگ نون کی قیادت ہے جس نے ”اپنے اخلاص کو ختم کر کے“ عوام کو ایک پی پی سپیکر کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا تاکہ پی پی سے ہمارا اتحاد قائم دائم رہے، مسلم لیگ نون کے وزیراعظم شہباز شریف ترقیاتی کاموں کے ضمن میں اپنی پارٹی کو نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کو ہی نوازتے رہے۔

تبصرے بند ہیں.