عام انتخابات۔۔۔کامیابی کے امکانات

3

عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 8 فروری کا سورج طلوع ہونے میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سڑکیں، چوک، چوراہے، گلیاں، کوچے، بجلی کے کھمبے، مکانات دیواریں اور بالکونیاں انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے بینروں، پوسٹروں، اشتہاروں اور پینا فلیکس سے بھری نظر آتی ہیں۔ انتخابی اُمیدواروں کی طرف سے ووٹرز سے گھر، گھر (Door To Door) رابطوں کا سلسلہ جاری ہے توان کی طرف سے بڑی بڑی گاڑیوں میں بھرے اپنے حامیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ کارنر میٹنگز کے انعقاد میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے زیرِ اہتمام بڑے انتخابی جلسے بھی منعقد ہو رہے ہیں جن سے مرکزی قائدین خطاب کرتے نظر آتے ہیں۔ غرضیکہ انتخابی گہما گہمی اور انتخابی مہم کا وہ ماحول جو پہلے کسی حد تک غیر یقینی صورتحال کا شکار اور ٹھنڈا نظر آتا تھا، اس میں خوب تیزی اور جان پڑتی نظر آتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ 8 فروری کی رات کو سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے رنگ ڈھنگ کیا ہونگے؟ کونسی سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما کامیابی یا بڑی کامیابی سے ہمکنار ہونگے اور کن کو ناکامی اور مایوسی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ سوال یقینا اہم ہے اور اس کا جواب ڈھونڈنا آسان نہیں تاہم برسرِ زمین حقائق اور معروضی حالات کو سامنے رکھ کر کچھ اندازے لگائے جا سکتے ہیں یا کچھ امکانات کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور بانی تحریکِ انصاف جناب عمران خان سے بات شروع کرنی پڑے گی کہ دیکھا جائے تو سب سے بڑے انتخابی حریف یہ دونوں یا ان کی سیاسی جماعتیں اور ان سے وابستہ انتخابی اُمیدوار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو بوجوہ نشانہ ضرور بناتے ہیں لیکن اصل مقابلہ بہر کیف مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن قومی سطح کی ملک گیر سیاسی جماعت ہے جس نے چاروں صوبوں سے قومی اسمبلی کی 266 میں سے 212 عام نشستوں پر اپنے اُمیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف اگرچہ ایک انتخابی نشان کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے نااہل قرار دی جاچکی ہے مگر اس سے یا دوسرے لفظوں میں جناب عمران خان سے وابستگی رکھنے والے مختلف انتخابی نشانات کے تحت آزاد اُمیدواروں کی حیثیت سے بڑی تعداد میں مقابلے میں موجود ہیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ 8 فروری کو ان دونوں جماعتوں سے وابستہ کتنے کتنے افراد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیاب ہوتے ہیں، ان کے علاوہ دوسری سیاستی جماعتوں اور آزاد ارکان کو کامیابی میں کتنا حصہ ملتا ہے۔ اس حوالے سے جیسے اُوپر کہا گیا ہے کہ کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری ہو گا، اُسے نہ صرف تحریک ِ انصاف سے وابستہ آزاد ارکان پر واضح برتری حاصل ہو گی بلکہ ملک کی دوسری یا تیسری بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی بھی کافی پیچھے رہے گی۔

مسلم لیگ ن کی متوقع کامیابی کے حق میں کئی امور کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات جو اس کے حق میں جاتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے بارے میں اس وقت یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہے اور اُسے مقتدر حلقوں کی تائید بھی حاصل ہے جو سمجھتے ہیں کہ ملک کو مسائل و مشکلات کے گرداب سے نکالنے کیلئے موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن سے بہتر کوئی اور چوائس (Choice) نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے جب یہ تاثر موجود ہے تو پھر جیت کے امکانات ضرور اُبھرتے ہیں۔ حالیہ سروے بھی مسلم لیگ ن کی جیت کے امکانات کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ تقریباً دو ہفتے قبل گیلب پاکستان کا جو سروے سامنے آیا تھا اس میں میاں محمد نواز شریف کو ملک کی مقبول ترین شخصیت قرار دیا گیا جبکہ جناب عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کے حق میں کم لوگ نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ جنوری کے تیسری ہفتے کے اختتام پر عالمی ادارے بلیو برگ اکنامکس کی رپورٹ سامنے آئی تو اس میں پچھلے 30 برسوں کے دوران معیشت کو سنبھالنے اور معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے اقدامات کو بہتر اور زیادہ مؤثر قرار دیا گیا۔ 23 جنوری کو انسٹیٹیوٹ فار پبلک اُوپینین (آئی پی او آر) کے ایک سروے کے نتائج سامنے آئے جن میں مسلم لیگ ن کو پنجاب میں مقبول ترین سیاسی جماعت قرار دیا گیا ہے اور 45% نے مسلم لیگ ن کے حق میں ووٹ ڈالنے کی رائے دی ہے جبکہ تحریکِ انصاف کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب 35% اور پیپلز پارٹی کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب محض8% سامنے آیا۔ اسی سروے میں 51% نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن نہ صرف پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی بلکہ وفاق میں بھی اُسی کی حکومت بنے گی۔

مختلف اداروں کی یہ سروے رپورٹیں بلا شبہ اہمیت کی حامل گردانی جا سکتی ہیں تاہم ان سے ہٹ کر بھی کچھ عوامل ایسے ہیں جو مسلم لیگ ن کی کامیابی کی راہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے زمینی حقائق اور معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر انتخابی حکمتِ عملی یا اسٹریٹیجی اختیار کی ہے۔ اُس نے اپنے انتخابی ا ُمیدواروں کے چناؤ میں بہت چھان بین اور محنت کی اور ایسے اُمیدواروں کو ٹکٹ دئیے جن کی مسلم لیگ ن سے وابستگی ہی مضبوط نہیں تھی بلکہ اپنے اپنے حلقوں میں بہتر ووٹ بینک کے مالک بھی سمجھے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے الیکٹ ایبلز کو پارٹی ٹکٹوں سے نوازا گیا ہے۔ پھر سندھ میں ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے مسلم لیگ ن کی مفاہمت اس کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام سے بھی اس کے دیرینہ مفاہمتی تعلقات بھی کچھ مخصوص انتخابی حلقوں میں مسلم لیگ ن کیلئے جیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ استحکامِ پاکستان پارٹی سے مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ایک ایسا فیصلہ ہے جو دونوں جماعتوں کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ سارے پہلو یقینا مسلم لیگ ن کی انتخابات میں جیت کی راہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کے زیرِ اہتمام بڑے بڑے انتخابی جلسے منعقد ہو چکے ہیں جن سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اس کے صدر میاں شہباز شریف اس کی چیف آرگنائزر محترمہ مریم نواز اور دیگرمرکزی قائدین خطاب کر چکے ہیں۔ ان جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اور اُن کا جوش و جذبہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام الناس ایک بار پھر مسلم لیگ ن پر اعتماد کرتے نظر آتے ہیں۔

آخر میں اس امر کا اظہار کرنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقوں میں بڑے اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے جیسے اُن کو یقین ہے کہ 8 فروری کو ہر صورت میں نتائج میں اُن کے حق میں سامنے آئیں گے۔ مسلم لیگ ن کے کسی چھوٹے بڑے رہنما یا کارکن سے بات کی جائے تو وہ اپنی جیت کے بارے میں پُر اعتماد اور پُر اُمید نظر آتے ہیں۔اگلے دن تو مسلم لیگ ن نے اپنا منشور پیش کیا اور اس حوالے سے جو تقریب منعقد ہوئی اور وہاں پر جو تقاریر ہوئیں اور منشور کی جو تفصیلات سامنے آئیں ان سے بھی اس عزم کا اظہار سامنے آتا ہے کہ مسلم لیگ ن پورے عزم و ارادے اور پوری تیاری کے ساتھ ملک کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے سامنے آچکی ہے۔ جس کیلئے اُس نے منشور کی صورت میں ایک ٹھوس، جامع اور واضح لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ان عوامل کے ساتھ مسلم لیگ ن کی کامیابی کے حوالے سے ایک اور پہلو کا بھی تذکرہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن سے وابستگان پولنگ کے دن بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے حق میں ووٹ ڈلوانے کیلئے زیادہ تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بارے میں یہ امکانات حتمی نہیں سمجھے جاسکتے اس لحاظ سے بھی کہ کہیں نہ کہیں یہ خدشات بہر کیف موجود ہیں کہ 8 فروری کو نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد اگر جناب عمران خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنے کیلئے سامنے آجاتی ہے تو پھر کیا انتخابی نتائج ایسے ہی رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں.