سول سروس ایک ششکا یا بوسیدہ نظام

26

کچھ روز پہلے ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس سروس سے تعلق رکھنے والے نوجوان سول افسر بلال پاشا کی موت یا خود کُشی نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، ایک پس ماندہ علاقے اور ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں کے بل پر وفاقی سول سروس میں شامل ہو گیا تو خیال تھا کہ اس کے بعد وہ آگے کی منزلیں طے کرتا، اندرون اور بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کرتا، وطنِ عزیز کی ترقی کے لیے اپنے حصے کا کردار اپنے حصے سے بھی زیادہ ادا کرتا، وہ یقیناً ذہین تھا، اسے اپنی ذہانت کو اپنے ملک کے مسائل حل کرنے اور عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بجائے اس نے موت کو گلے لگا لیا، موت اس کے گلے آلگی یا لگا دی گئی؟ ایک بات طے ہے کہ وہ پروگریسو، مثبت سوچ کا حامل انسان تھا، تبھی تو اس نے اپنی تعلیمی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقابلے کا امتحان دینے کے خواہش مند طلبا کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو ان کو مہنگے تعلیمی اداروں سے محرومی کا احساس نہ ہونے دے ورنہ وہ یہ بھی سوچ سکتا تھا کہ ٹھیک ہے میں منزل پہ پہنچ گیا ہوں باقیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ وہ جانیں اس کا دردِ سر نہیں، لیکن اس نے ایسا نہیں سوچا نہ ہی ایسا کیا، یہی وجہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ اور دیگر دستیاب ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایک تدریسی پلیٹ فارم چلا رہا تھا۔

پولیس کے مطابق بظاہر ان کی موت خود کشی کی وجہ سے ہوئی،حتمی وجہ مکمل تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی لیکن کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں، یہ کہ ایسا ذہن جو سول سروس تک ترقی کا سبب بنا ہو خود کْشی کے انتہائی اقدام بارے کیسے سوچ سکتا ہے؟ دوسرا اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا سول سروس میں رہتے ہوئے اتنا زیادہ کام ہوتا ہے یا بعض معاملات کا دباؤ کہ بندہ خود کو ہی ختم کر لے؟ اگر یہ خود کُشی ہے تو یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی سول سرونٹ نے یہ انتہائی اقدام کیا ہو۔ پچھلے کچھ برسوں میں متعدد سرکاری افسر اس انتہائی راستے کا انتخاب کر چکے ہیں، جنوری 2022 میں ایڈیشنل کمشنر ریونیو عمران رضا عباسی نے لاہور میں پھندا لے کر خود کشی کر لی تھی، نومبر 2021 میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید فرمان باچا کے بارے میں خبر ملی کہ انہوں نے خودکشی کر لی ہے، دسمبر 2020 میں ایک سینئر بیوروکریٹ خرم ہمایوں نے خود کشی کر لی تھی، جنوری 2020 میں ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ نے پسٹل سے خود کشی کر لی تھی، مارچ 2018 میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی پنکھے سے جھولتی لاش ملی تھی، جون 2016 میں ایس ایس پی جعفر آباد جہانزیب خان کاکڑ  نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔

ایک کے بعد ایک ایسے واقعات کا رونما ہونا واضح کرتا ہے کہ ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بلال پاشا کے والد کا یہ جملہ قابلِ غور اور قابلِ توجہ ہے کہ مرنے سے ایک ہفتہ پہلے اس نے ٹیلی فون پر انہیں بتایا تھا کہ بابا! دل چاہتا ہے، نوکری چھوڑ دوں یا چھٹی لے کر گھر آؤں تاکہ جی بھر کر سو سکوں، کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ بلال پاشا اپنی والدہ مرحومہ کو یاد کرتے ہوئے اکثر کہتا تھا کہ سول سروس کے بہت ششکے ہیں مگر اسکی والدہ کے ہونے کا جو ششکا تھا وہ سب سے بڑا تھا جو اسے میسر نہیں،شاید یہ احساس ہی اسے کھا گیا؟ ایسا انتہائی اقدام تو ٹینشن اور ذہنی دباؤ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔
اس واقعہ کے حوالے سے میں ٹوئٹر دیکھ رہا تھا وہاں ایک اعلیٰ افسر نے بلال پاشا کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے،انصاف پسند، ذہین اور ہمدرد انسان کے لیے سول سروس اور ہمارا معاشرہ موت کا بستر ہیں، یہ ڈپریشن کی وجہ سے ہونے والا ایک قتل ہے، وہ ڈپریشن جو سینئرز کا خوفناک ورکنگ کلچر، صحیح کام کرنے کے حوالے سے مسلسل بے بسی جو خاندان اور دوست کسی کے گلے میں اتارتے ہیں اور ان تمام عوامل کے نتیجے میں ایک ایسی ذہنی کیفیت پیدا ہوئی جس میں یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ میں یہاں کیوں ہوں؟ میں کس کی خدمت کر رہا ہوں؟ میرے کام کا مطلب اور جواز کیا ہے؟ اسی طرح کے بہت سے دوسرے سوالات بھی ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اسی افسر کا کہنا ہے کہ وہ بلال پاشا سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی وہ اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں جس سے وہ گزرا ہے، انہوں نے لکھا سول سروس اپنے مرکزی حصے تک بوسیدہ ہو چکی ہے اور اکثر لوگوں کو مار رہی ہے، نوجوان سول سرونٹس کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ بولیں اور سول سروس کی پرانی، بوسیدہ، بد عنوان اور غیر انسانی اقدار کو تبدیل کریں۔

اسی سوشل میڈیا پر ایک خاتون افسر نے لکھا سول سروسز اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں، کبھی کبھار غیر ضروری سیاسی یا محکمانہ دباؤ، ڈپریشن اور انزائٹی کی طرف لے جاتا ہے، ڈپریشن کو اپنی نجی اور پیشہ ورانہ زندگیوں میں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

بلال پاشا کی موت کیسے ہوئی؟ اس پر تحقیقات جاری ہے، نتیجہ کیا نکلتا ہے،ظاہر ہے اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس حقیقت یا اس ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ملک میں سول سروسز کے شعبے میں مناسب اصلاحات وقت کا تقاضا بن چکی ہیں۔ میرے خیال میں یہ اصلاحات دو جہتوں پر ہونی چاہئیں، پہلی اس حوالے سے کہ اگر ہمارے ملک کے سول سرونٹس پر کسی قسم کا سیاسی یا ادارہ جاتی دباؤ ہے تو اس کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے بیوروکریٹس پورے پیس آف مائنڈ کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ دوسری جہت یہ ہے کہ اپنے ملک کی گزشتہ 76 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں اپنے اہم قومی شعبوں میں وہ ترقی، وہ فروغ نظر نہیں آتا جیسا ہمارے ساتھ یا ہمارے بعد آزاد ہونے والی مملکتوں اور قوموں میں نظر آتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آج بھی معاشی لحاظ سے کمزور ہیں اور خارجہ معاملات کے تناظر میں بھی اتنے سرگرم نہیں جتنا ہمیں ہونا چاہیے، دیگر شعبوں کے حالات بھی مختلف نہیں، ممکنہ طور پر اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ماضی میں اہم قومی شعبوں میں مناسب فیصلے نہیں کیے جا سکے، ٹھوس فیصلے اسی صورت میں کیے جا سکتے ہیں جب فیصلے کرنے والوں کو پورا پیس آف مائنڈ اور فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ملے، اس کے ساتھ تمام شعبوں میں کرپشن کا خاتمہ بھی بے حد ضروری ہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کا بھی یہی بہترین وقت ہے کہ کیوں اس نظام میں وہ لوگ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں جو پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلال پاشا کی موت ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب جتنا جلدی تلاش کر لیا جائے گا اتنا ہی جلدی ہمارے لیے بطور قوم آگے بڑھنے کے راستے آسان ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں.