دائروں کا سفر جاری ہے

15

اسلام آباد ہائیکورٹ نے میاں صاحب کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا ہے 90 کی دہائی میں جب پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز دو دو مرتبہ حکومت میں آئیں تو کچھ لوگوں نے طنزاً کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو میوزیکل چیئر کا کھیل ہے اور باریاں لگی ہوئی ہیں کبھی ایک حکومت میں آ جاتا ہے اور کبھی دوسرے کی باری آ جاتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو لوگ یہ بات کر رہے تھے ہم انھیں نرم سے نرم الفاظ میں سنگدل ہی کہیں گے کہ انھیں سیاست دانوں کے حکومت میں آنے کا میوزیکل چیئر کا کھیل تو نظر آ گیا لیکن حکومت کے بعد جیل اور مقدمات کا انتہائی کٹھن میوزیکل چیئرکا کھیل نظر نہیں آیا نوے کی دہائی کو تو چھوڑ دیں لیکن میثاق جمہوریت کے بعد نئے پاکستان کی پہلی حکومت میں کیا ہوا تھا لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ اقتدار کے بجائے حکومت ملنے کا لفظ لکھتے ہیں اس لئے کہ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ حکومت ہی ملی ہے اقتدار اگر ملا تھا تو وہ بھٹو صاحب کو ایک مختصر عرصہ کے لئے ملا تھا اور اس کی وجہ بھی تھی کہ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے اس وقت کی مقتدر اشرافیہ سول سسٹم میں مداخلت کے قابل نہیں رہی تھی لیکن یہ عرصہ چند سال ہی رہا اور 1977میں ضیائی مارشل لاء نے ساری کسر نکال دی۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ میثاق جمہوریت کے بعد 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تو بظاہر تو حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی تھی لیکن درحقیقت اختیارات سپریم کورٹ منتقل ہو چکے تھے اور سپریم کورٹ کو اختیارات کی منتقلی کا بندوبست مشرف دور کے آخر میں وکلاء تحریک سے ہی کر دیا گیا تھا اور پورے میڈیا نے با جماعت ہو کر افتخار چوہدری کی نام نہاد عوامی مقبولیت کے ڈھول پیٹنا شروع کر دیئے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کے دھرنوں نے ملکی معیشت میں ڈیڈ لاک پیدا کر دیا تھا تو یہ فقط آدھا سچ ہے مکمل سچ یہ ہے کہ یہ کام افتخار چوہدری کے دور سے شروع ہو گیا تھا۔ ریکوڈک منصوبہ روک دیا گیا رینٹل پاور کے ساحلوں پر آئے جہاز واپس موڑ دئیے گئے ہاتھ پاؤں باندھ کر ماہر تیراک بھی ڈوب جاتے ہیں لیکن پھر اسی میوزیکل چیئر پر میاں صاحب کو بٹھایا گیا اور وہی سپریم کورٹ تھی اور وہی وزیراعظم ہاؤس تھا اور وہی بڑا گھر تھا لیکن تینوں کے مکین بدل چکے تھے۔

افتخار چوہدری کی جگہ ثاقب نثار نے لے لی تھی جنرل کیانی کی جگہ جنرل راحیل آ گئے تھے یوسف رضا گیلانی کی جگہ میاں نواز شریف آ چکے تھے اور سوئس کیس کی جگہ پاناما اور اقامہ نے لے لی تھی یوسف رضا گیلانی کی تا حکم برخواست عدالت سزا کی جگہ دس سال قید اور 5 سال نا اہلی کی جگہ تا حیات نا اہلی ہو گئی تھی اور علامہ طاہر القادری کے چار دن کے دھرنے کے ساتھ سود کی صورت میں عمران خان اسلام آباد وارد ہو چکے تھے اور 126 دن کا ریکارڈ دھرنا ہوتا ہے۔ دائروں کا سفر تو قیام پاکستان کے بعد ہم روز اول سے ہی کر رہے تھے لیکن اب گذشتہ کچھ عرصہ سے دائروں کے سفر کو کٹھن بنانے کی مشق شروع ہو چکی ہے۔ منظر بدلتا ہے اور میوزیکل چیئر کے کھیل میں جگہ بھی بدل جاتی ہے۔ تا حیات نا اہلی 5 سال میں بدل جاتی ہے چونکہ جگہ بدل چکی ہے تو اسی کے ساتھ قانون کے اطلاق کے آداب بھی بدل چکے ہیں لہٰذا گذرے کل میں جو کہتا تھا کہ ”میں تمہیں رلاؤں گا“ آج اس کے رونے کے دن شروع ہو چکے ہیں اور جنہیں رلانے کے دعوے کئے جا رہے تھے ان کے ہنسنے کے دن شروع ہو چکے ہیں۔ وڈے میاں صاحب ایون فیلڈ ریفرنس میں بری ہو چکے ہیں اور چھوٹے میاں صاحب بھی نیب مقدمات سے فارغ ہوتے جا رہے ہیں جبکہ عمران خان اور ان کی جماعت کے لوگ جیلوں میں ہیں اور اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ میوزیکل چیئر کے کھیل میں جگہ بدل چکی ہیں۔

کسی کی بریت پر خوشی کے شادیانے بجانا اور پابند سلاسل ہونے پر کف افسوس ملنا تو بنتا ہے لیکن آئین اور قانون کی جیت اور سربلندی ایسے ثقیل الفاظ تو بالکل ہی بے معنی لگتے ہیں اس لئے کہ جسٹس منیر سے مولوی مشتاق تک اور چیف جسٹس انوار الحق سے لے کر افتخار چوہدری اور نثار ثاقب تک ان سب کا بھلا آئین اور قانون کی سر بلندی سے کیا لینا دینا یہ تو وہ بت تھے کہ انھیں جب بنا دیا تو یہ بن گئے بٹھا دیا تو بیٹھ گئے اٹھا دیا تو اٹھ گئے لٹا دیا تو لیٹ گئے اور توڑ دیا تو ٹوٹ گئے ان کا آئین اور قانون کی فتح سے کیا کام یہ تو اپنے اپنے مفاد کے اسیر تھے بات شروع ہوئی تھی کہ وڈے میاں صاحب کو عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا ہے تو اس پر یہی کہیں گے کہ
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے
نہ میاں صاحب کی مرضی سے یہ کیس بنے اور نہ ہی ان کی مرضی سے ختم ہوئے۔ بنانے والوں نے بنا دئیے اور ختم کرنے والوں نے ختم کر دیئے۔جب میاں صاحب کو سزا ہوئی تھی تو اس وقت ایک فریق نے آئین اور قانون کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹا تھا اور آج جب میاں صاحب کی بریت کا فیصلہ آیا ہے تو ایک بار پھر آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس دوران وہ لمحات کہ جن کی واپسی ممکن ہی نہیں کہ جب ان کی شریک حیات بستر مرگ پر تھیں، وہ وقت نظام کی سفاکیت کی نذر ہو گیا۔ زرداری صاحب کے کم و بیش 14 سال جیل میں گذرے کل جو امارت کے منصب پر فائز تھے آج وہ اسیر ہو گئے اور کل جو اسیر تھے وہ آج امیر بننے جا رہے ہیں اور دائروں کا سفر اگر ختم نہیں ہو گا تو ہم انہی دائروں میں سفر کرتے ہوئے سمجھیں گے کہ ہم جانب منزل سفر کر رہے ہیں لیکن افسوس ہم اور ہماری نسلیں سفر کر کرکے تھک جائیں گے لیکن منزل کا حصول کبھی ہمارے مقدر میں نہیں ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.