پنجاب پولیس کے انمول ہیرے

46

میں گذشتہ 15سال سے تھانہ کلچر اور شعبہ صحت کے معاملات پر لکھ رہا ہوں اور ان کے اندرونی حالات سے بخوبی واقفیت بھی رہتی ہے اور جہاں غلط ہو رہا ہوں وہاں اس کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنا اور جہاں کچھ بہتری ہوتی نظر آتی ہے وہاں اس کی تعریف کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ بے شک کوئی بھی انسان مکمل نہیں۔ اس میں ہر وقت بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے اور اداروں کے سر براہان بھی انسان ہیں۔ لہٰذا ان کے کچھ فیصلوں میں کوتاہی نظر آتی ہے لیکن بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے فیصلوں پر اکڑ نہیں جاتے بلکہ فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ پنجاب پولیس میں اب بھی بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے اور نظام کو مزید بہتر کرنے کے لئے مزید کام کر نے کی بھی ضرورت ہے۔ بہتری کے لئے کوشش کر نے والے انسان کا نام ڈاکٹر عثمان انور ہے جو پنجاب پولیس کے سر براہ کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ میں داکٹر عثمان انور کو پرانا جانتا ہوں جب یہ ایف۔ آئی۔اے میں فرائض سر انجام دیتے تھے۔ ان کی ایمانداری، خلق خدا سے محبت اور عجز و انکساری تب بھی مشہور تھی اور آج اس میں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ دور حکومت میں جب آوے کا آوا ہی بگڑا پڑا تھا، وزیر اعلیٰ کا دفتر کرپشن کا گڑھ بنا ہوا تھا اور ٹرانسفرز کے باقاعدہ ریٹ مقرر تھے،پولیس کے آئی۔جی اس رفتار سے تبدیل ہوتے تھے جیسے تیز ہوا میں شاپر اڑتے تھے، کوئی بھی افسر کام کر نے کو تیار نہیں تھا۔ دوسرے محکموں کی طرح محکمہ پولیس بھی شدید متاثر ہوا۔ لوگوں کی ایف۔ آئی۔ آرز ہی درج نہیں ہو تی تھیں اور اگر ہو بھی جاتی تھیں تو تفتیش کئی مہینے شروع نہیں کی جاتی تھی۔ محکمہ کے افسران و ملازمان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گئے تھے اور یقینا جس کے نتیجے میں عام آدمی بھی اول تو اپنا کام نہ ہونے کی وجہ سے اور دوئم ڈپریسڈ اور فرسٹریٹڈ لوگوں کا غصہ اپنے اوپر اترنے کی وجہ سے کوفت کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر عثمان انور کا کمال یہ ہے کہ سالہا سال اس محکمے کی تباہی کرنے والوں کے گند کو صرف کچھ ہی مہینوں میں بہتر کرنے اور اس کے گرتے ہوئے مورال کو بلند کر نے کے لئے انقلابی کام شروع کئے۔ پہلے تو ان کے ہر اچھے کام کو بھی سوشل میڈیائی ”بھونکے“ جن کی اپنے گھر میں کوئی نہیں سنتا، وہ بھی ایسے ایسے راگ الاپتے کہ الامان الحفیظ!!! چونکہ ڈاکٹر عثمان انور ایک قابل انسان ہیں، انہوں نے بھی پولیس کا امیج بہتر کرنے کے لئے نہ صرف حقیقی اقدامات کئے بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک بھی اپنا کام پہنچا نا شروع کر دیا۔ عرصے سے رکی ہوئی ترقیاں اور افسران و ملازمان کے جائز معاملات کو بہتر کرنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک بہترین پولیسنگ کلچر کا آغاز ہوا ہے۔ بالخصوص لاہور اور ہر ضلع میں پولیسنگ میں اپنا ایک مقام رکھنے والے افسران کی تعیناتی اور انہیں کھل کر کام کر نے کی اجازت دینے کے نتیجے میں کرائم کی شرح میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

قارئین کرام! عام عوام کے روز مرہ معاملات جیسا کہ گمشدگی رپورٹ۔ لرنر یا ڈوپلیکیٹ لائسنس اور اس جیسے دیگر کاموں کے لئے شہر میں سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس سہولیات سینٹر کا قیام اور ان میں اضافہ کر کے لوگوں کو بار بار تھانوں کے چکروں سے نجات ملی ہے۔ کسی بھی وقوعے کی فوری طور پر ایف۔آئی۔آر کا اندراج اور اس پر کارروائی اور آئی۔ جی آفس میں اس کے فیڈ بیک کے لئے کمپلینٹ سینٹر کا قیام اور آئی۔جی کا خود اس سینٹر کی نگرانی اور متاثرین کو خود رابطہ کر کے فوری طور پر ان کا کام کرنا اور اس میں ملوث محکمہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینا بھی ڈاکٹر عثمان انور کے سر سجتا ہے۔ شہدا پولیس کے لواحقین ہوں یا کرائم کی بیخ کنی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے والے غازیان پولیس، تمام کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے بھی عثمان انور کی کاوشیں یاد رکھی جائیں گی۔

قارئین کرام! آئی۔ جی پنجاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئی خاتون ایس۔پی صدر لاہور، سدرہ خان کا بھی بالخصوص ذکر کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے اپنی جہد مسلسل کے نتیجے میں کچھ ہی عرصے میں منفرد مقام حاصل کیا ہے اور بطور اے۔ایس۔پی سے ایس۔پی تک کا سفر، نڈر، شاندار اور کرائم فائٹر کے طور پر سر انجام دیا ہے۔ یہ جہاں بھی تعینات رہیں، جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالے رکھی اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ خاتون ایس۔ پی، مرد ڈی۔آئی۔جیز سے بھی بڑھ کر کام کر رہی ہیں، غلط نہ ہو گا۔ بڑی دلیری کے ساتھ سب سے زیادہ جرائم والے ڈویژن میں فرائض سر انجام دینا اور صبح سے رات گئے تک اپنے آفس میں لاچار اور معصوم لوگوں کی دادرسی کے لئے موجود رہنا، بدمعاش، بھتہ خور، قبضہ گیر چوروں اور ڈکیتوں سمیت بڑوں بڑوں کو اپنی اوقات میں لانے کے لئے سرگرم سدرہ خان کی ڈویژن میں گذشتہ ایک سالہ کرائم چارٹ میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئی۔جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے انقلابی ویژن کے تحت ہی ایسی خاتون ایس۔پی کو تعینات کیا ہے اور جن کی کارکردگی کو میں نے خود ذاتی طور پر بھی مانیٹر کیا ہے۔ بے شک ایسے لوگ پنجاب پولیس کے ایسے انمول ہیرے ہیں جن کی وجہ سے پنجاب دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ محفوظ اور پر امن ہے اور ہمیں ان پر فخر ہے۔

تبصرے بند ہیں.