ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، عمران خان کا ایف آئی اے کو جواب

14

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے وکیل نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے تفتیشی افسر کو جواب جمع کرا دیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے عمران خان کا جواب بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو جمع کرایا، بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین کل ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کریں گی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے مجھے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، مجھ پر اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر دہشت گردی، بغاوت، اشتعال پھیلانے کے کیس بنائے گئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے جواب میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم سرکاری اداروں میں من پسند افسران بھرتی کر کے پی ٹی آئی اور مجھ سے انتقام لے رہی ہے، ایف آئی اے کو استعمال کر کے مجھے ہراساں کرنے کیلئے مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو جمع کرائے گئے جواب میں عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ مفروضوں کی بنیاد پر بنایا گیا، ووٹن کرکٹ کلب اور ابراج گروپ کا کیس میں نام و نشان نہیں، 21 جون 2022 کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اس مقدمے کی انکوائری شروع کی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے جواب میں مزید لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کیلئے جانبدار ادارہ ہے جس نے ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی، پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھی گئی جس میں منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے، تمام کوششوں کے بعد بھی ایف آئی اے پی ٹی آئی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لا پائی۔

تبصرے بند ہیں.