45سے 60 دن سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت

37

آئندہ 45 سے 60 دن انتہائی اہم ہیں، سیاسی تبدیلیوں کی مسلسل خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ اندر کے لوگ بتا رہے ہیں کہ آڈیوز ویڈیوز کی خوفناک سیریز آنے والی ہیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام تلپٹ ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی دو سال چلے گی یا پھر….؟ عام انتخابات اکتوبر میں نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کا رویہ ہے کپتان بدستور جھوٹ کو سچ بنا کر بیچ رہے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کی بڑی جماعت ن لیگ جو طویل نیند سے جاگ اٹھی ہے۔ ماضی کی طرف لوٹ رہی ہے اور اپنا سچ بیچنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ مریم نواز لندن سے سینئر نائب صدر بن کر وطن واپس آ گئیں، شنید ہے کہ وہ یکم فروری کے بعد میدان میں نکلیں گی اور گرما گرم سیاست کریں گی، پنجاب کیسے فتح کریں گی۔ اس کا انحصار حالات پر ہے۔ کہانی بدل گئی ہے۔ ہواؤں کا رخ تبدیل ہو گیا تیور بدلے، نظریں بدلیں، لب و لہجہ تبدیل نرمی کی جگہ سختی آ گئی، صدر مملکت عارف علوی کی آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ اس کا اعتراف انہوں نے برملا کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ انہیں بتا دیا گیا کہ وہ شب و روز نہیں رہے۔ شیخ رشید نے بھی چار و ناچار اعتراف کر لیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات تھے اب نہیں ہیں گویا وہ 29 نومبر کی تبدیلی کے بعد سے اب تک بدستور غیر جانبدار ہے۔ پی ٹی آئی یا کپتان کو اِدھر اُدھر سے چوری چھپے یا ماضی کی جانب محبت کے ناتے جو تھوڑی بہت حمایت مل رہی ہے وہ بھی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ لگتا ہے کہ ”ستم گروں کی حکومت پر ناز تھا جن کو فضائے دہر میں اک دن بہائیں گے آنسو“ آنسو بہنے کو بے تاب ہیں۔ احساس ہو رہا ہے کہ ارد گرد بیٹھے چار مشیروں کے کہنے پر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے اور قومی اسمبلی کو جعلی اور امپورٹڈ قرار دے کر استعفیٰ دینے کے فیصلے سود مند ثابت نہیں ہوئے۔ ہاتھ کٹ گئے، سارے بیانئے ختم، کوئی کارڈ نہیں بچا۔ کپتان زمان پارک میں محصور ویڈیو لنک بیانات پر گزارا کر رہے ہیں۔ دونوں صوبائی حکومتیں ہاتھ سے گئیں، قومی اسمبلی سے 124 ارکان کے استعفوں کی منظوری کے بعد سڑکوں پر آ گئے استعفے منظور ہوتے ہی بے یار و مددگار ”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں، اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی“ آخری 43 ارکان اسی روز قومی اسمبلی میں واپس آنا چاہتے تھے تا کہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کر کے راجا ریاض کو قائد حزب اختلاف اور نور عالم خان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے ہٹا کر دونوں اہم عہدوں پر قبضہ کریں اور حکومت کو تگنی کا ناچ نچائیں، مگر سپیکر نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی سن گن پاتے ہی دھڑن تختہ کر دیا، بالائے ستم الیکشن کمیشن نے بھی دوسرے دن ان 43 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ سپیکر سے ملنے گئے تھے۔ خاردار تاریں دیکھ کر واپس لوٹ آئے۔ چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی۔ رجسٹرار نے انکار کر دیا۔ ”بدلے بدلے میری سرکار نظر آتے ہیں“ کسی جانب سے بھی ممتا نہیں جاگ رہی، دودھ کے چشمے نہیں ابل رہے، پنجاب اور کے پی کے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ہی حالات بدلنے لگے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ممتاز صحافی اور ایک سے زائد ٹی وی چینلوں کے کرتا دھرتا محسن نقوی کو پنجاب کا نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا کپتان نے انہیں فوراً بلا سوچے سمجھے آصف زرداری کا بیٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اور امریکی سائفر ڈونالڈ بوم، جنرل (ر) باجوہ کے بعد محسن نقوی پر اپنی حکومت گرانے کا الزام بھی لگا دیا۔ پتا نہیں کپتان کو آٹھ ماہ بعد کس نے بتایا کہ ان کا نام بھی رجیم چینج کرنے والوں میں شامل کر لیں۔ کیسے کانوں کے کچے ہیں کہ اِدھر اُدھر سے سن کر نیا بیانیہ بنا لیتے ہیں۔ اب تک سات آٹھ بیانیے ناکام ہو چکے ہیں۔ روز بدلتے بیانیوں سے عوام مایوس ہوئے ہیں۔ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ نے آتے ہی کپتان اور ان کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی بیورو کریسی تبدیل کر دی۔ 25 مئی والے پولیس سربراہ نے دوبارہ کرسی سنبھالتے ہی ”تھرتھلی“ مچا دی۔ جو مقدمات بنایا کرتے تھے ان پر مقدمات بننے لگے۔ شو مئی قسمت فواد چودھری پہلا نشانہ بنے۔ انہوں نے الیکشن کمشنر کے ارکان اور ان کے بچوں کو دھمکیاں دیں۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے کہسار تھانہ اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کرا دی۔ فواد چودھری رات بھر زمان پارک میں مشاورت کے بعد علی الصبح گھر لوٹ رہے تھے کہ اٹھا لےے گئے۔ اٹھانے والوں نے راہداری ریمانڈ لے کر اسلام آباد پہنچا دیا۔ ٹول پلازہ پر فیصل آباد کے فرخ حبیب ”مولا جٹ“ بن کر پولیس کی گاڑی کے
آگے کھڑے ہو گئے گاڑی میرے اوپر سے گزار کر لے جا سکتے ہو، پولیس والوں نے انہیں ایک طرف ہٹایا اور اسلام آباد لے جا کر عدالت میں پیش کر دیا۔ فواد چودھری کو دو روزہ ریمانڈ کے بعد چودہ روزہ جوڈیشل کرا کر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ بی کلاس الاٹ کی گئی۔ وفاقی حکومت کے کسی وزیر نے جیل حکام کو ہدایات نہیں دیں۔ بقول خواجہ آصف جیل کی مانیٹرنگ کی گئی نہ ہی ہدایت دی گئی کہ شدید سردی میں خواجہ کو دوسرا کمبل نہ دیا جائے۔ فواد چودھری نے شاید وہ کال کوٹھڑی بھی دیکھی ہو گی جہاں رانا ثنا اللہ نے اپنی زندگی کے 174 دن گزارے تھے۔ مبینہ طور پر کال کوٹھڑی میں چیونٹیاں چھوڑ دی جاتی تھیں تاکہ وہ سو نہ سکیں۔ رانا ثنا اللہ اکیلے نہیں کپتان کی 3 سال 7 ماہ 21 دن کی حکومت کے دوران نواز شریف نے 374 دن، مریم نواز نے 158، حمزہ شہباز نے 627، خواجہ سعد رفیق نے 462، شاہد خاقان عباسی نے 222 اور احسن اقبال نے 64 دن قید و بند کی سختیاں برداشت کیں، کون سا الزام ثابت ہوا سب کے سب ضمانتوں پر رہا کیے گئے، بری بھی ہوئے، نواز شریف کی بریت کی درخواست بھی تیار کی جا رہی ہے۔ فواد چودھری پر جوڈیشل ریمانڈ سے پہلے حوالات کی ایک رات بھاری گزری، سارا بوجھ کپتان پر ڈال دیا۔ مبینہ طور پر کہا کہ میں پارٹی کا ترجمان ہوں جو کچھ کہا وہ پارٹی کا موقف تھا۔ فواد چودھری پر جو گزری سو گزری چودھری پرویز الٰہی کیسے خوش ہوئے۔ ہنستے ہوئے کہا کہ کپتان کو اسمبلی نہ توڑنے کا مشورہ دیا تھا چار بندوں نے ان کے کان بھرے اور اسمبلی تحلیل کرا دی۔ ان میں سے ایک پکڑا گیا پہلے پکڑا جاتا تو اسمبلی نہ ٹوٹتی، خوب ہنسے کھلکھلائے بعد میں احساس ہوا تو بیان پر معذرت کر لی۔ فرخ حبیب کے خلاف ڈکیتی اور کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج ہو گیا اور زمان پارک کے قلعہ میں آ بیٹھے، کپتان جس قوم کو بار بار سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں شاید وہ کسی ملک میں دو پہاڑوں کے درمیان قید ہے اور حضرت ذوالقرنین نے ان کے گرد سیسہ پلائی دیوار کھڑی کر دی تھی یہ خیال اس لےے آیا کہ کپتان کی بار بار کال کے باوجود ہزار پندرہ سو سے زائد عوام سڑکوں پر نہیں آئے۔ کپتان چاروں طرف سے مایوس ہو کر زمان پارک میں بیٹھے ہیں۔ ”تھکن کے ساتھ اداسی بھی لے کر لوٹ آئے“ کی کیفیت سے دوچار ہیں اب ان کا واحد سہارا عدلیہ ہے۔ رات دن عدلیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ملک کو تباہی سے بچا لیں، وہ عدلیہ کو آخری پناہ گاہ سمجھ رہے ہیں، حکومت کے ہر اقدام کے خلاف درخواستیں دائر ہیں، اس سلسلہ میں جانے کیوں ان کا رخ لاہور ہائیکورٹ کی طرف ہوتا ہے۔ فواد چودھری کی گرفتاری پر بھی لاہور لائیکورٹ کے فاضل جسٹس دن بھر پیش کرنے کی ہدایات دیتے رہے اور بالآخر اس اطلاع کے بعد کہ فواد کی گرفتاری ایف آئی آر کے تحت باقاعدہ مقدمہ کے اندراج پر ہوئی ہے۔ انہوں نے حبس بے جا کی درخواست خارج کی۔ سارے کیسز عدالتوں میں ہیں کپتان زخمی ٹانگ لےے گھر پر موجود کسی عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، الیکشن کمیشن کی ناقابل ضمانت وارنٹ کی دھمکی کا بھی کوئی اثر نہیں شاید یقین ہے کہ پہلے کی طرح گھر بیٹھے ضمانت ہو جائے گی ایک دل جلے نے کہا کہ ریاست مدینہ میں تو گھر بیٹھے ضمانتیں نہیں ہوتی تھیں۔ اسمبلیوں کی تحلیل اور قومی اسمبلی سے استعفوں پر پی ٹی آئی کے اتحادی بھی دکھی ہیں۔ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے برملا کہا کہ کپتان کو ان کے اپنے میر جعفر اور میر صادق نے ڈبو دیا۔ دائیں طرف بیٹھے میر جعفر جھوٹ بھی سچ کی طرح بڑے اعتماد سے بولتے ہیں جبکہ بائیں طرف کے میر صادق کا تو گزارا ہی جھوٹ پر ہے۔ انہوں نے اچھے بھلے لیڈر کو بھی جھوٹ پر لگا دیا۔ انہوں نے اپنی ”قوم“ سے خطاب کرتے ہوئے اپنا شاید آخری کارڈ شو کیا کہ آصف زرداری نے ایک دہشت گرد تنظیم کو میرے قتل کی ”سپاری“ دے دی ہے۔ میں نے اپنی ویڈیو تیار کر کے باہر بھیج دی ہے۔ ”یہ ویڈیو تو بہت پہلے تیار کی گئی تھی اس میں چار نام تھے، اب آصف زرداری کا پانچواں نام شامل ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس لینا چھوڑ رکھا ہے ورنہ اس کی تحقیقات کے لیے فل بنچ بنایا جا سکتا تھا لیڈر کی زندگی کا معاملہ ہے، جیتے جی نتھارا ہو جائے تو بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ 70 سالہ کپتان کو محفوظ رکھے انہوں نے ابھی مزید بیس تیس سال وزیر اعظم رہنے کا تہیہ کر رکھا ہے اپنے شیخ رشید بھی گیٹ کی ملازمت ختم ہونے کے نئی نئی پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہیں، لندن سے واپسی پر بلا سوچے سمجھے کہہ دیا کہ کپتان کو زہر دیے جانے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف زمان پارک میں ملاقات کے دوران کپتان سے کہا کہ آپ کی ٹانگ دو تین روز میں ٹھیک ہو جائے گی، آپ کراچی سے پشاور تک ٹرین مارچ کریں، زہر کون دے گا۔ کپتان تو گھر پر ہیں۔ اس کو ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب تک لندن میں تھے تو بیانیہ مختلف تھا، میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست پیچھے رہ گئی اب ریاست بچانے کا وقت ہے۔ جب شہباز شریف نے یہی بات کہی تھی تو مذاق میں اڑا دی گئی تھی۔ دو رائے نہیں جہاں کپتان پر سیاست کرنا اور سیاست مشکل ہوتا جا رہا ہے وہاں ملک کی معیشت بچانا اور ملک کو تباہی سے نکالنا بے حد مشکل نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا موقف بجا کہ وہ 3 سال 7 ماہ اور 21 دن کی سابق حکومت کی معاشی تباہی کا ملبہ اٹھا رہی ہے لیکن وہ خود بھی 8 ماہ سے اندھیروں میں ہی بھٹک رہی ہے۔ ڈالر کو اسحاق ڈار کی پروا نہیں وہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ کے پی کے راستے افغانستان سمگل ہو رہا ہے۔ اب اطلاع ہے کہ رئیل سٹیٹ کے بجائے ارب پتی پارٹیوں نے ڈالر جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ بات سچ ہے تو انتہائی خطرناک اور ملک دشمن رجحانات پر مبنی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر معاہدہ بھی عوام دشمنی لیکن مجبوری مہنگائی بے قابو ہو جائے گی جو فیصلے سے محروم حکومت کے لیے نا ممکن دکھائی دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ سب کچھ ملک میں عدم استحکام اور افراتفری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پیچھے کون ہے اس کا تعین اب معزز عدلیہ کو کرنا ہو گا۔ سارے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور آخری مراحل میں یا فیصلوں کے منتظر ہیں۔ سیاسی منظر نامے کی گرہیں کھولنے کی تدبیریں کی جا رہی ہیں۔ 10 فروری تک کچھ نہ کچھ ہو رہے گا۔ الیکشن کے لیے 70 ارب درکار ہیں۔ کہاں سے آئیں گے۔ اب تو گروی رکھنے کو بھی کچھ نہیں بچا جو بچا ہے وہ لٹا نہیں سکتے، خدانخواستہ نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس لیے فیصلہ ہو گیا ہے سیاسی حماقتیں کرنے والوں نے اپنے پاو¿ں پر کلہاڑا نہیں کلہاڑے پر پاو¿ں مارا ہے۔ ان کی آزادی کے دن کم رہ گئے ہیں محبت اب نہیں ہو گی بلکہ چند دن بعد بھی نہیں ہو گی۔

تبصرے بند ہیں.