پاکستان: اصلی وطن کے جعلی لوگ

18

ہم بھی عجیب لوگ ہیںکہ ایٹم بم اصلی بناتے ہیں اورزندگی بچانے والی ادویات جعلی۔ محبت چھپ کرکرتے ہیں لیکن قتل سرعام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ کیا عجیب معاشرہ ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لیکن اس ریاست میں چلنے والے چکلوں کے بارے میں کوئی دریافت نہیں کرتاکہ وہاں بیٹھنے والی کس کی بیٹیاں ہیں ؟ایک شخص پرندے آزاد کروا کر ثواب لے رہا ہے لیکن اُنہیں قید کرنے والے گنہگار کو کوئی نہیں روکتا ۔ ملاوٹ کرنے والے ہم میں سے نہیں لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ و ہ ہم میں سے ہی ہیں ۔رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں لیکن راشی اور مرتشی کو ایسا کرنے کی اجازت دینے والے اہم عہدوں پرفائز اورقابلِ عزت ہیں ۔ہم پہلے بچوں کو محبت سے بولنا سکھاتے ہیں اورپھر نفرت سے خاموش کروا دیتے ہیں ۔ پہلے سوال اٹھانے کی تربیت دیتے ہیں اورپھر سوال اٹھانے والے کوزیر عتاب لے آتے ہیں ۔ آئین توڑنے والے جرنیلوں کواعزاز کے ساتھ دفن کرتے ہیں لیکن منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دے کر رات کی تاریکی میں دفنا دیا جاتا ہے ۔چورکو سب پکڑلیتے ہیں لیکن ڈاکو کو پروٹوکول دیاجاتا ہے ۔ زیادہ پڑھنے والوں کو پاگل تصور کیا جاتا ہے حالانکہ پاگل نہ پڑھنے والا ہوتا ہے۔اپنا وطن زرعی معاشرہ ہے لیکن ہمارے اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر روٹی میسر نہیں ۔تعلیم بے رحم نج کاروں کے سپرد ہے جن کیلئے بچہ نفع یا نقصان ہے یہی حالت صحت کی ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ۔ لاہورمیں کارڈیالوجی کی وارڈ دیکھنے والا خود دل کے مریض بن جاتا ہے لیکن ہماری سابق پروفیسر ڈاکٹر صوبائی وزیر گائنی کے ہسپتال بنا تی رہی ہے جیسے سارے پاکستان کی مائیں بچے لاہور آ کر پیدا کرتی رہی ہیں۔جن کے پاس پیسہ ہے انہیں بھوک نہیں لگتی اورجنہیں بھوک لگتی ہے اُن کے پاس کھانے کوکچھ نہیں ۔ بچوں کا دودھ ڈاکٹر تجویز کرتا ہے لیکن اُسے میڈیکل ائٹم میں شمار نہیں کیا جاتا تاکہ من مرضی کا ریٹ لے کر ما ں باپ کو لوٹا جا سکے ۔ لوگ قاتل سے کم اور محافظ سے زیادہ ڈرتے ہیں ۔ رات گئے تھانوں کے دروازے مدعی او ر ملزم دونوں کیلئے بند ہوجاتے ہیں البتہ لین دینے کرنے والوں کو ہمیشہ کھلے ملتے ہیں ۔ کلرک کام کرتے نہیں اور آفیسر کام کرنے کیلئے بنے نہیں ہوتے ۔ ججوں کو 10 سال کی ملازمت کے بعد ہی بڑی پینشن اور سہولتوں سے نوازدیا جاتا ہے۔ جرنیلوں کا سارا ملک ہے ۔ صحافی کسی کو جوابدے نہیں ۔سیاستدانوں کا کو بال بیکا نہیں کرسکتا ۔پاکستان بھر کا پیٹ بھرنے اورضروریات زندگی عام آدمی تک پہنچانے والے
مزدور اورکسان غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اُن کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ۔ نل میں پانی نہیں آتا لیکن بل لازمی اورمقررہ وقت پر مل جاتا ہے ۔ سیوریج کی صفائی کے پیسے پانی کے بل میں کاٹے جاتے ہیں لیکن سیوریج عوا م ،واساملازمین کو پیسے دے کر صاف کرواتی ہے۔بجلی واپڈا ملازمین کی مرضی و منشا ءسے چوری ہوتی ہے لیکن خمیازہ غریب آدمی کو بھگتناپڑ رہا ہے ۔ یہ ہے وہ پاکستان جسے قائد اوراقبال کا پاکستان بنانے کیلئے 75 سال سے سیاستدانوں ، سول اورملٹری بیوروکریسی ، جاگیردار وں ، سرمایہ داروں ، گدی نشینوں ، ریاستی ملاﺅں اور غیرتعلیم یافتہ سیاسی ورکروں نے شب و روز محنت کی ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اگر وہ پاکستان بن جاتاتو خدا جانے اُس کی شکل کیسی ہوتی۔ پاکستان ایک 75 سالہ بزرگ ہے جومسلسل نازک موڑ سے گزر رہا ہے جس کی عمر کم از کم ایک صدی معلوم پڑتی ہے لیکن شاید موڑ ختم ہونے سے پہلے ہم پاکستان کے ساتھ مزید بُرا کربیٹھیں گے ۔ یہی دکھائی اورسنائی دے رہا ہے ۔ خداکا شکرہے کہ میں عمرا ن خان کی حکومت کا حصہ نہیں رہا ورنہ شاید میں بھی آج یہ لکھنے کے قابل نہ ہوتا کہ پاکستان کے سب حکمران تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ ہمارے بچے بھی آدم علیہ سلام کی نسل ہیں اوریہ بالادست طبقہ کیوں سوچ رہا ہے کہ اگرہمارے بچے غیرمحفوظ ہوں گے تو ان کے بچوں کو کوئی محفوظ کمیں گاہ میسرآ جائے گی ۔ عمران خان کو لانے والوں نے ابھی تک اُسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ اُس کے موٹو اورشیروکھلے عام ریاستی ملازمین کو نگران حکومت کا حصہ بننے پر موت کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن مجال ہے کسی ریاستی ادارے کے کان پر جوں تک بھی رینگی ہو۔ شاید یہ ایک 23مارچ 1971ءکا انتظار کررہے ہیں ۔ عمران خان کے نزدیک آرمی چیف میر جعفر ہے ، چیف جسٹس بکاﺅ ہے ،چیف الیکشن کمیشن گھٹیا انسان ہے ، اُس کے مخالفین چور ، ڈاکو ، لٹیر ے اور غدار ہیں لیکن عمران نیازی کے ساتھی مومنین کی وہ جماعت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے خاتمے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ درحقیقت عمران خان اتنا بہادر نہیں جتنے بزدل اُس کے مخالفین ہیں ۔
گزشتہ رات تقریبا 60 سال پرانی حبیب جالب کی نظم نظر سے گزری جس کے پہلے دومصرعے تھے
بیس روپے من ہے آٹا
اُس پر بھی ہے سناٹا
یعنی 60 سال پہلے بھی جب آٹا صرف 50 پیسے کا ایک سیر(تقریبا کلو) تھا ہمارے بزرگوں کی قوت خرید اُس وقت بھی نہیں تھی یعنی اس حکمران طبقے نے ہمارے ماں باپ اورباپ دادا کو بھی اذیت میں مبتلا رکھا ہے ۔اسی لئے توہمارا شاعر جالب چیخ رہا تھا کہ اتنا مہنگا آٹا ہونے کے باوجود لوگ خاموش کیوں ہیں ؟ جالب اگر آج زندہ ہوتاتو مہنگائی سے مرجاتاکہ آج ضروریات زندگی ، زندگی کی قیمت پر بھی میسر نہیں ہو رہیں ۔پاکستانی معاشرے پر ایک سناٹا چھایا ہے ، ایسا سناٹا کہ تارے چلنے اوردل دھڑکنیں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں لیکن یہاں ضرورت ہے اُن سیاسی ورکروں کے اتحاد کی جو ہراُس مقام سے بصدشان گزرجائیں جہاں سورماﺅں نے دہائیاں دی ہوتی ہے ۔پاکستان کی مٹی اپنے حقیقی بیٹوں کے پاوں چومنے کیلئے بے تاب ہے کہ فراڈیوں اورنوسربازوں نے اسے رسوا کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہمارے پاس وقت کم ہے کہ ہرروز ریاست پر عدمِ اعتماد میں اضافہ کررہا ہے اوراس عدمِ اعتماد کو ہوا دینے کیلئے ہمیں بھارت یا اسرائیل کی ضرورت نہیں پاکستان میں عمران خان کی موجودگی ہی کافی ہے لیکن معیشت جس مقام پر پہنچ چکی ہے وہاں موجودہ حکمرانوںسے درست نہ ہوئی تو پھر یہ کسی کے بس کا بھی روگ نہیں رہے گی۔بجلی کے چند گھنٹوں کے ڈاﺅن فال نے ہمارے معاشرے کو ہلا کر رکھا دیا ہے لیکن سوچیں وہ جو پاکستان کو سری لنکا بنتے دیکھنے کے تمنائی ہیں اُن کا حوصلہ کتنا بڑا ہے ۔جو یہ بھی نہیں جانتے کہ اگر ایسے حالات خدا نخواستہ پاکستان میں ہوئے تو پہلی بار اس خطے میں مسلمان ، مسلمان کو لوٹ لے گا ۔ ڈاؤن فال کے دوران سوشل میڈیا کہ تحریکی مجاہدین نے جس بے شرمی کے ساتھ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا پروپیگنڈا کیا وہ انتہائی شرمناک اورقابل نفرت ہے لیکن کیا  کیا جائے بچے بڑوں سے سیکھتے ہیں اوربڑے ابھی بڑے نہیں ہوئے ۔
پاکستان اس وقت ماضی کے واقعات کو دہرانے کی پوزیشن نہیں کیوں کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ماضی تبدیل نہیں کرسکتے لیکن ہم مستقبل بدل سکتے ہیں اگر ہم اپنا آج بہتر کرنے کی کوشش کریں تو اُس کے اثرات مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ورنہ ایک بے رحم اور ذلت آمیز موت ہم سب کی منتظرہے ۔ آنے والی نسلیں اپنی میر جعفر اور نواب سراج الدولہ الگ الگ کر لیں گی اس کیلئے ہمیں آج پریشان ہونے کی ضرورت نہیں البتہ ہمیں نیک نیتی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا ہو گی جو ہم نے آج تک نہیں کی اور اس میں اُن سب کا کردار یکساں ہے جنہیں عوام نے پاکستان چلانے کی ذمہ داری دی لیکن انہوں نے پاکستان کو چلتا کیا لیکن اب حالات ایسے نہیں ۔ اب تو آپ نے صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے پاکستان کیلئے لڑنا ہے یا پاکستان سے۔ لیکن میں یہی سوچ رہا ہوں کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں لوگ محبت چھپ کر اور قتل سرعام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔

تبصرے بند ہیں.