تجارت کیا ہے؟

21

کل کراچی سے محسن آئے تھے، بغرضِ ملاقات…. تقریب بہرملاقات یہ تھی کہ ایک جاپانی کمپنی میں کام کرتے ہیں، اور کمپنی کے کام کے سلسلے میں لاہور آئے تھے۔ روحانی بندہ تجارتی اسفار کو بھی اپنے روحانی سفر کا حصہ بنا لیتا ہے۔ دینی بندہ وہ ہے جو دنیا کو دین سنوارنے کا ذریعہ بنائے، دنیا کا بندہ وہ ہے جو دین کو بھی دنیا بنانے کے لیے جھونک دے…. جو اپنی روحانی شناخت کو دنیا سمیٹنے کا ذریعہ بنائے…. جو دینی شناخت کے تحت حاصل ہونے والی عزت و شہرت کو دنیاوی منصب کے حصول کے لیے پیش کر دے۔ الغرض جسم کی دنیا میں ٹھہرنے کے لیے اپنی روح کا سودا کرنے والا…. اپنی سوچ اور قلم کا سودا کرنے والا شخص…. بدترین دنیا دار ہوتا ہے، اور روح کی لطافت و پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے جسم اور جسمانی تقاضوں کو قربان کرنے والا دین دار ہوتا ہے۔ بات کہیں اور نکل گئی…. محسن کی بات ہو رہی تھی…. اللہ اسے محسنین میں شامل کرے۔ یوسف واصفی نے محسن کے لیے کھانے کا بندوبست کیا تھا، کھانے کی میز پر محسن بتا رہا تھا کہ تجارت کا فن میں نے جاپانیوں سے سیکھا ہے۔ تجارتی معاملات میں سچ بولنا اور بروقت وعدے کی تکمیل کرنا جاپانیوں پر ختم ہے۔ محسن بتا رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو شرح منافع کا کوئی اصول ضابطہ مقرر ہی نہیں ہے، جس قدر بھی جس کا داو¿ چلتا ہے، منافع اچک لیتا ہے لیکن جاپانیوں کے ہاں شرح منافع بھی طے ہوتی ہے۔
یوسف واصفی کہنے لگے کہ تجارت کے اصولوں پر بہت کم لکھا گیا ہے، اسلام کے تجارتی اصولوں پر ہمیں بہت کم تعلیم ملتی ہے۔ میں نے عرض کیا، تعلیم تو وافر ہے، ہم اسے عام نہیں کرتے…. تعلیم عام کرنے کے لیے اس پر عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ تعلیم و تبلیغ قول اور عمل دونوں طلب کرتی ہے۔ تجارت کے مبادیات کے متعلق اس سے بڑھ کر اور کیا تعلیم ہو گی ہے کہ احادیث میں بتایا گیا ہے ”ایک دیانت دار تاجر بروزِ حشر انبیا اور صدیقین کے ساتھ اٹھایا جائے گا“ تجارت میں دھوکہ دینے والے پر اس سے زیادہ کیا وعید ہو سکتی ہے کہ خبردار کیا گیا ہے”دھوکہ دینے والا، ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے“ اگر ایک امتی اپنے نبی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سزا ہو سکتی ہے کہ محبوب کسی کو اپنے محبین کی فہرست سے نکال باہر کرے۔ تجارت میں استحصال کی نفی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ لعنت رحمت کا الٹ ہے۔ اب اس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ذخیرہ اندوز رحمت اور برکت سے کس قدر دور ہے۔ تجارتی عمل میں چیزوں کا اکٹھا کرنا اور انہیں گودام میں جمع کرنا ذخیرہ اندوزی نہیں، بلکہ ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ طلب اور رسد کا توازن خراب کرنے کے لیے کسی چیز کو ذخیرہ کر کے اس کی مصنوعی قلت پیدا کر دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع اکٹھا کیا جا سکے۔ یہ منافع نہیں، بلکہ استحصال ہے۔ اس کے لیے شریعت میں ایک مخصوص اصطلاح ”احتکار“ استعمال ہوتی ہے۔ استحصال کی نفی میں اسلام کا اس سے بڑا اقدام اور کیا ہو گا کہ سود کی قطعی ممانعت کر دی گئی ہے۔ قرآن میں واضح طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ اگر تم سود نہیں چھوڑتے تو اللہ اور رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔ قرآن میں یہ
بھی کہا گیا ہے کہ سود اور چیز ہے اور تجارت اور چیز۔ سود کو تجارت اور تجارت کو سود نہ بنایا جائے۔ استحصال کی نفی میں یہاں تک حکم جاری کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا آڑھتی نہ بنے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، شہری اگر دیہاتی کا مڈل مین بنے گا تو دیہاتی کا استحصال ہو جائے گا۔ دیہاتی کو معلوم نہیں کہ اس کی محنت سے اگائی ہوئی فصل شہر کی مارکیٹ میں کس بھاؤ بکتی ہے۔ اس طرح محنت کا استحصال ہو جائے گا اور چرب زبانی منافع سمیٹ لے گی۔ اس میں عوام الناس کا بھی استحصال ہے کہ انہیں غذائی اجناس مہنگے داموں میسر آئیں گی۔ ذخیرہ اندوزی کی طرح منافع اندوزی بھی استحصال ہے۔ منافع لینے میں اور منافع لے اڑنے میں فرق ہے۔ ایک صورت تجارت ہے، دوسری صورت دھوکہ دہی کی ہے۔ اپنی خدمات کے عوض ایک معقول شرح کے ساتھ منافع حاصل کرنا تاجر کا حق ہے لیکن بے تحاشا منافع لینا موقع سے فایدہ اٹھانے کی طرح ہے…. اور یہ استحصال کی ایک صورت ہے۔
ہمارے ہاں تجارت استحصال بن چکی ہے۔ استحصال کا مطلب یہ ہے کہ ایک تاجر مخصوص سامانِ رسد لے کر امکانات کے بازار میں پھندا لگا کر بیٹھ جائے اور جو شکار اس کے پھندے میں پھنس جائے، اس کی جیب خالی کرا لے…. یہ راہزنی کی ایک قسم ہے۔ ادویات کی قلت میں ادویات کا بلیک میں بکنا، گاڑیوں کی طلب زیادہ ہونے کی صورت میں گاڑیوں پر ”اون“ ڈیمانڈ کرنا، غذائی اجناس کا ذخیرہ کرنا اور پھر مہنگی ہونے کے بعد بیچنا، یہ سب استحصال کی اقسام میں سے ہیں۔ ہمارے ہاں غذائی اجناس سے لے کر روز مرہ استعمال کی چیزوں تک یوں ہوتا ہے کہ چند تاجر آپس میں مل کر ایک جنس بازار سے یک مشت خرید لیتے ہیں، اس طرح اس کی مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے، اور پھر وہ من مانی قمیت وصول کرتے ہیں۔ چند اجناس پر چند ایک تاجروں کی اجارہ داری ہو جاتی ہے، وہ آپس میں منافع کی ”شرح“ بھی طے کر لیتے ہیں۔ اب ضرورت مند وہی شے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ پر خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ مافیاز کی مناپلی ہے۔ عوام کو ایسے قمار بازوں اور مافیائی تاجروں سے نجات دلانا حکومت اور ریاست کا فرض ہوتا ہے، لیکن کیا کریں کہ حکومت اپنے چند ووٹوں کے لیے ان ہی مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنی رہتی ہے۔ حکم ہے کہ تاجر کو حکومت نہ دو، وہ حکومت کے زور پر تجارت کرے گا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ تاجر پیشہ لوگ ہی سیاست میں آ جاتے ہیں اور پھر حکومت کا حصہ بن کر اپنے لیے قوانین میں ترمیم کر لیتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کو قانونی تحفظ مل جاتا ہے۔
تجارت کے نام پر ہر شعبے میں استحصال ہو رہا ہے۔ ہمارے طبی شعبے میں استحصال کی صورت یہ ہے کہ مریض کو اس کے مرض سے بے خبر رکھا جائے، یا ضرورت سے زیادہ اتنا ڈرا دیا جائے کہ وہ اپنی جیب خالی کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک اسّی برس کے بزرگ کو دو دو ماہ تک وینٹی لیٹر پر رکھنا اور اس کی مد میں لواحقین سے پیسے بٹور لینا استحصال ہے۔ یہاں لواحقین کو بے خبر رکھ کر ان کا استحصال کیا گیا ہے۔ ایک مریض کی میت کو واجبات وصول ہونے تک روک لینا لواحقین کا جذباتی استحصال ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں فیس کی مد میں والدین کا بھرپور استحصال ہوتا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں لاکھوں روپے فیس وصول کرنا اور اس فیس کے تعین کے لیے تمام یونیورسٹیوں کا آپس میں یونین بنا لینا، کورونا کے دوران میں آن لائن کلاسوں کی فیس بھی اسی شرح سے وصول کر لینا، یہ سب والدین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے طور طریقے ہیں۔ تعلیم اور علاج ریاست میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور اسے یہ حق بغیر کسی معاوضے کے حاصل ہونا چاہیے۔ سچ پوچھیں تو تعلیم اور علاج کو ایک کاروبار بنا لینا دین کو بیچنے کے مترادف ہے۔
تجارت دراصل خدمات کا شعبہ ہے۔ ایک تاجر معاشرے کی خدمت کرتا ہے، مصنوعات پیدا کرنے سے لے کر انہیں جائے رسد پر مہیا کرنے تک سارا کام خدمات کے زمرے میں آتا ہے۔ خدمت کا صلہ منافع کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے…. بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اگر تجارت کی نیت خدمت ہو گی تو اس میں لامحالہ برکت اور رحمت ہو گی، اسی لیے تجارت کو پسند فرمایا گیا ہے۔ تجارت کی نیت اگر حصول زر اور ارتکازِ زر پر مرتکز ہو گی تو یہ استحصال کے طور طریقوں میں شامل ہو گی۔ بلاشبہ اعمال نیتوں کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ اب یہ فرد پر ہے کہ وہ استحصالی قوتوں کا نمائندہ بنتا ہے یا اپنے رب کا بندہ بن کر کارِ رحمت و ربوبیت کا حصہ بنتا ہے۔
قبل از اعلانِ نبوت سرکارِ دو عالم کے متعلق روایت کی جاتی ہے کہ آپ ایک تجارتی قافلہ لے کر گئے جس میں غذائی اجناس بھی موجود تھیں۔ راستے میں بارش نے آ لیا، غلہ بھیگ گیا۔ اگلے دن تجارت گاہ میں خریدنے والوں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ ایک تاجر اپنے غذائی اجناس الگ الگ کر رہا ہے، بارش میں بھیگ جانے والا غلہ کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ خشک سامان مروجہ تجارتی نرخ پر۔ معلوم ہوا کہ بھیگ جانے والا کم قیمت پر اس لیے فروخت کیا جا رہا ہے کہ بھیگا ہوا غلہ وزن میں بڑھ جاتا ہے اور اس کی میعاد بھی کم رہ جاتی ہے، اس لیے اسے خریدنے والا خسارے میں رہ جائے گا۔ وہ ہستی جو کل جہان کے انسانوں کو خسارے سے بچانے کے لیے آئی ہے، اسے کیسے گوارا ہو کہ اس کے ساتھ تجارت میں کوئی خسارے میں رہ جائے۔ تاریخ کی آنکھ نے اشیائے تجارت کی ایکسپائری ڈیٹ اور اس کے مطابق قیمت کا تصور پہلی مرتبہ دیکھا۔ ثابت ہوا کہ تجارت میں گاہک کو نقصان سے بچانا بھی تجارت کے اصولوں میں شامل ہے۔ اسی لیے حدیثِ مبارکہ تعلیم دی جاتی ہے کہ کسی مسلمان تاجر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی چیز فروخت کرتے ہوئے اس کے نقائص گاہک کو نہ بتلائے۔ فرمایا گیا کہ اس تاجر کو اللہ رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے جو اپنے گاہک کی خریدی ہوئی چیز خوشدلی سے واپس لے لے۔ ظاہر ہے ایک ایمان دار تاجر ہی اپنی فروخت شدہ شے کو واپس لے گا، جبکہ دھوکہ دینے والا اس سے گریز کرے گا۔
رسولِ رحمت کے نام لیوا دیکھیں کہ ان کا اندازِ تجارت معاشرے میں پیامِ رحمت لے کر آ رہا ہے یا سامانِ زحمت؟ دین لانے والے نے لین دین کے سب اصول بتا دیے ہیں، ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر رحمت و ربوبیت کا عملی نمونہ بن کر بھی دکھا دیا ہے۔ اب یہ ہماری کم فہمی ہے کہ ہم سنت کو اخلاق اور کردار سے نکال کر لباس کی تراش خراش تک محدود کر لیں…. اور دین کو معاملات سے نکال کر عبادات تک محدود سمجھ لیں۔

تبصرے بند ہیں.