ذاتی زندگی برائے فروخت

10

نہ جانے روکتا ہے کون دل کو لطف محفل سے” طے شدہ خوشحال زندگی کا تا حال جو تصور بنتا ہے اس میں اسباب زندگی میسر کر کے حرم ،جھگی ، حجرہ یا آشیانہ میں سمیٹ کر اہل حرم سے معاملہ ہے لوگ ذات اورذات سے منسلک رشتوں (جسے ذاتی زندگی کا نام دیا جاتا تھا) میں ملبوس اورمحبوس رہنے ہی کو حاصل عمر سمجھتے ہیں یا سمجھتے رہے ہیں عین فطری تقاضوں کے مطابق جس میں چڑیا بھی دانا دنکا چن کر گھونسلہ میں سر شام چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کی اس کی زندگی دوران خانہ ہی رہتی ہے۔اسی طرح لوگ اپنی ذاتی زندگی کے تصرف اور تعیشات کے لیے نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں تآنکہ اپنی کھڑکیاں اور دروازے بندکر کے داخلی زندگی کو لوگوں سے اخفاءکر سکیں۔ یعنی روزی روٹی محنت شاقہ سے کشید کرکے ذات کی جھونپڑی میں قیام میسر آجائے ۔ گزشتہ دہائی جہاں دیگر حیران کن تبدیلیوں کی ماخذرہی ہے۔ وہیں اس نے لوگوں کی دہلیزوں کو بھی عبور کر لیا ہے انٹرنیٹ باقاعدہ وہ روزن ہے جس سے آپ کسی کی ذاتی زندگی کی لائیو وڈیو دیکھ سکتے ہیں اب راز و نیاز اور دل کی باتیں خواب و خیال ہوئیں اب تو کوئی کیا کھا رہا ہے کیا پی رہا ہے تشہیر کے بغیرہضم ہی نہیں کر سکتا لوگ نہانے سونے جاگنے کے سٹےٹس تک لٹا کر ہی کام کرتے ہیں اس میں منافقت کا سب سے بڑا قلعہ پہلے مارک زکر برگ نے فیس بک بنا کر سر کیا اور لوگوں کے اس شور کا قلع قمع کیا جس میں وہ اپنے والدین کو بھی یہ کہہ کر داخل نہیں ہونے دے رہے This is my life مارک ذکر برگ نے ثابت کیا کہ یہ محض منافقت اور دروغ گوئی تھی لوگ تو تشہیر کے شوق میں مرے جا رہے تھے ہجر و وصال کے معاملات ڈیٹ اور بریک کے نام پر چل پھر میں برقی رو پر دوڑتے ملکوں ملکوں پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے بھی باتیں نکلتی تھیں رسوائیوں کے ڈھول بجتے تھے مگر اس میںرسوا ہونے والوں کی رضا شامل نہیں ہوتی تھی اسکے جسے تبدیلی کہیے وہ یہ کہ لوگ خود اپنی انتہائی ذاتی وڈیوز بنا کر مختلف برقی آلات پر پوسٹ کر رہے ہیں اور اگر کسی اور جانب سے بھی پوسٹ ہو جائیں تو چنداں برا نہیں منایا جاتا اس رسوائی یا شہرت کی پرنٹ فارم میں ابھی چار چھ برس پہلے لوگ کالم لکھ کر رات ہی سے احباب کو میسج کرنا شروع کر دیتے تھے کہ صبح میرا کالم آرہا ہے ذرا سرکاری اداروں کے سر برا ہوںکو تو شیر کرو یہی لوگ جب الیکٹرانک میڈیا پر گئے ہیں تو شہرت کو ہر رنگ میں قبول کر رہے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی میراوٹس اپ بو جھل ملتا ہے پندرہ بیس کالم پڑے ہوتے ہیں ادبی گروپ علیحدہ فون ڈیٹا تباہ کرنے کے درپے رہتے ہیںیہ سب بھی قابل قبول ہوتا مگر جیسے ہی فیس بک کھولتے ہیں وہی کالم صاحب کا لم کیمرے کے سامنے بیٹھ کر پڑھ بھی رہے ہوتے ہیں چلیں یہ تو پروفیشل شہرت ہو گئی جوشاید باعث تعلقات و باعث ثروت ہو مگر چلانے کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے اب مجبوریوں کا سلسلہ ایسے دراز ہو گا معلوم نہ تھا کہ اداکاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والی خواتین تو کیمرے کے سامنے رہنے پر مجبور ہیں لوگ ا±ن کے کھانے پینے پہننے اور ملنے کے انداز میں دلچسپی رکھتے ہیں تو وہ بھی نت نئے ملبوسات میں فوٹو ویڈیوسیشن کروانے پرمعمور ہیں ۔ لے دے کے ہماری گھریلو خواتین اس مرض سے محفوظ تھیں ان کے چہرے پرائی نظروں کی نحوست سے محفوظ اور شاداب نظر آتے تھے لیکن یہ کیا ہوا؟ یہ وی لاگ کیا بلا ہے یا مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس اور حتیٰ کہ کچے گھروں اور جھونپڑیوں تک میںبیٹھی خواتین نے موبائل پر اپنی پوری پوری زندگیاںرکھ دی ہیں۔
وہ کب سو کر اٹھی ہیں ان کے بچے نے کیا کھایا ہے ان کا میکہ کیا ہے ان کے سسرال میں کون کون ہے گھر کے نقشے میں کتنے کمرے ہیں کچن کا راستہ کیسے گلی سے ملتا ہے بیرونی وعقبی راستہ کیسے گھر کے اندر لے جائے گا۔ ڈاکوؤں کو کس طرف سے گھر میں آنے میں آسانی ملے گی چور کدھر سے دیوار پھلانگنے میں آسانی محسوس کریںگے یہ بیبیاں سب بتاتی ہیں اگربچے بھی اغوا کرنے کا کس اغوا کار گروپ کو خیال ہو تو یہ اپنے بچوں کے سکول آنے جانے کھانے پینے گھر میں مرد کی موجودگی اور تنہائی کے وقت کا سب بتاتی ہیں۔ کئی بیبیاں تو شوہر کے خراٹوں اس کی تنخواہ یو ٹیوب سے ملنے والی آمدنی اپنی کمیٹیاں اور کئی ایک تو ساس نندوں کی شکایتیں بھی کرتی ہیں کئی بے نیاز بیبیاں کیمرے کے شوق میں بکھرے ہوئے گھر اینٹوں ،کیچڑاورگندے مندے بچوں سے بھرے گھر کی بدسلیقگی اوراپنے پھوہڑپن کوبلاجھجک سکرین پرپوسٹ کردیتی ہیں۔
مجھے جہاں تک یاد ہے گھرکی مرمت کا کوئی بھی کام ہوتا ہم اپنے پرانے کا ریگر کا انتظار کیا کرتے بھلے بجلی کے قمقمے بجھے رہیں یا نلکے خراب مگر نئے جذبے اور ہر ایرے غیرے کو گھر کا نقشہ نہ دکھایا جاتا یہ تسلسل ہمارے گھروں میں تو ابھی تک جاری ہے۔ میرا یقین ہے کہ چوری ڈاکے کی جتنی رفتار بڑھ گئی ہے اس میں چوروں ڈاکوو¿ں کے علاوہ ان نادان بیبیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو سونے کے کڑے گھڑوا کر گلی گلی بتا کر آتی ہیں اب تو قصہ ہی چوپٹ سونے کے سیٹ خریدتے ہوئے بھی یہ بیبیاں اپنے ناظرین کو سونے کی دکان سے براہ راست زیور دکھا کر پوچھتی ہیں کہ یہ والا لوں یا دوسرے والا فیصلہ آپ کریں۔ کمال یہ کہ گھر میں فیصلہ کرنے والے سارے ختم ہو گئے جواب سڑکوں پر پھرنے والے آپ کے فیصلے کریں گے۔
یہ کب ہوا کیسے ہوا پہلے لوگ ایک دوسرے سے بچھڑے پھر سب نے اس وچھوڑے کا خلا بین الاقوامی رشتے داریوں میں ڈھوند لیاسچ تو یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی خواہشات کے ہاتھوں اتنے تنگ دست ہو گئے ہیں کہ ذاتی زندگی کو بیچنے لگ گئے ہیں۔ وہ ذاتی زندگی جس کو الگ تھلگ رکھنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلے جاتے ہیں اب چوراہے پہ دھری ہے حیرت یہ کہ بیبیاں بابے بچے جوان شوہر سب اپنے دن رات بیچ رہے ہیںجب آگ گھر کے اندر ہی دہکا کرتی تھی تو گلزاز جیسے شاعر نے کہا۔
” سبھی نے زندگی چولہے پہ رکھی ہے
ابلی ہانڈیاں اور اتنی ساری …
مگر اب ابلنے کی نوبت نہیں آتی لوگ اپنے ذاتی معاملات کو اگل رہے ہیں۔ ہرغم الیکٹرانک سکرین پر سجا ہوا ہے ہر خوشی میںفیس بک پر دھمالیں ڈالتی ہے ہم کتنی دعوتوں میں جاتے ہیں اب ا±ن کا تذکرہ تعریف کے ساتھ نہ کریں تو آگے کی دعوت مشکوک ہو جاتی ہے اس ضمن میں مشاعرے کی دعوتیں سب سے اہم ہیں۔ ہر مشاعرہ دعوتی یا جوابی دعوت کے طور پر ظہور پذیر ہوتا ہے پذیرائی کے جواب میں پذیرائی اور ذلت کے جواب میں ذلت اب صدمات کے جواب میں خاموشی مفقود ہے اب خوشیاں بھی ناچ رہی ہیں اور غم بھی دھمالیں ڈال رہے ہیں۔ صرف اہل سیاست کی وڈیوز ہی نہیں اچھل رہیں عام عوام بھی چولہا چو کا بستر بھانڈے لے کر سکرین پر آبیٹھی ہے اب تو ایک بی بی ہسپتال سے اپنے خاوند کے ڈائلس بھی دکھواتی ہے اور بچوں کا سکول بھی حیرت ہے۔

تبصرے بند ہیں.