پنجاب پبلک سروس کمیشن

42

پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ملک ظفر اقبال کہہ رہے تھے کہ یہ ادارے میں تبدیلی ہی ہے کہ ایک وقت تھا کہ آپ کو یہاں گھسنے تک نہیں دیا جا رہا تھا اور ایک وقت ہے کہ آپ یہاں کمیٹی روم میں ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ان بے شمار اقدامات سے آگاہ کر رہے تھے جن کے ذریعے پی پی ایس سی کے معاملات میں شفافیت لائی جارہی ہے۔ وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے بیس ارکا ن اور چھ سو کے لگ بھگ ملازمین کے ساتھ اس کی خدمات کا موازنہ وفاقی اور دیگر صوبوں کے سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے والے کمیشنوں کے ساتھ کر رہے تھے اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں وہ واقعی دوسروں سے بہت آگے تھے۔
مجھے یادآیا کہ میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے اندر گھسنے کی کوشش کیوں کر رہا تھا۔ میں نے کون سا وہاں سے سونے کی کوئی کان نکالنی تھی۔ بات یہ تھی کہ پبلک سروس کمیشن کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں وہ نوجوان مظاہرے کر رہے تھے جنہوں نے تحصیلدار سمیت دیگر پوسٹوں کے لئے امتحانات دئیے تھے مگر سابق وزیراعلیٰ کے قبیلے والوں سمیت بہت ساروں کے نام ان ملازمتوں کی فروخت میں آ رہے تھے۔ کمیشن کے سیکرٹری کے ضلعے سے بھرتی ہونے والوں کے اعداد و شمار بھی حیران کن تھے جیسے وہاں ذہین اور ٹیلنٹڈ لوگوں کا کوئی ٹرک الٹ گیا ہو۔ یہ محض ہوائی باتیں نہیں تھیں بلکہ پرچے لیک ہونے اور فروخت ہونے پراینٹی کرپشن نے پرچے درج بھی کئے تھے اور بندے گرفتار بھی کئے تھے۔ یہ میری صحافتی ذمہ داری تھی جب میں ان الزامات کو سکرین پر پیش کر رہا ہوں تو کمیشن کا موقف بھی دوں۔ میں نے وہاں سٹاف سے درخواست کی کہ وہ چئیرمین یا سیکرٹری سے بات کروا دے۔ سٹاف مجھے اندر لے کر بھی گیا مگر اس وقت کے چئیرمین اور سیکرٹری نے موقف دینے سے انکار کر دیا بلکہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز سے شکایت کی کہ یہ ہمارا موقف معلوم کرنا چاہتا ہے۔ میںہمیشہ سے قائل ہوں کہ بات کرنے سے انکار وہی کرتا ہے جس کے پاس سوالوں کے جواب نہیں ہوتے ۔ میرے پاس موجود صحافتی پلیٹ فارم آج بھی ا س وقت کےچیئرمین اور سیکرٹری کے لئے دستیاب ہیں اگر وہ وضاحت کرنا چاہیں کہ انہوں نے ایک ایک کروڑ میں نوکریاں فروخت ہونے کے سکینڈل پر ادارے میں کیا کارروائی کی اور یہ بھی بتائیں کہ وہ تمام ملزم آسانی سے ضمانتوں پر کیسے رہا ہو گئے؟پنجاب پبلک سروس کمیشن کے معاملات میں شفافیت آج سے پچیس برس پہلے لائی گئی تھی جب شہباز شریف وزیراعلیٰ بنے تھے۔ انہوں نے عام امتحانی نظام کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کو بھی فول پروف بنایا تھا اور یہ معاملہ پنجاب کی تاریخ کے نااہل ا ور کرپٹ ترین وزیراعلیٰ کے مسلط ہونے تک ٹھیک ٹھاک چلتارہا تھا۔
قومی ادارے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہوتے۔ یہاں پر لوگ خدمت کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس کا معاوضہ لیتے ہیں۔ وہ لوگ قوم کے مجرم ہیں جو اپنے ادوار میں اداروں کی ساکھ تباہ کر کے گھروں کو چلے جاتے ہیںاور ظاہر ہے کہ وہ یہ کام اپنے کچھ مذموم مقاصد کے لئے ہی کرتے ہوں گے۔ میں تمام صحافیوں کی نہ گارنٹی دیتا ہوں اور نہ ہی ذمہ داری لیتا ہوں مگر ہمارے نوے فیصد صحافی سوال اس لئے اٹھاتے ہیں تاکہ اداروں میں معاملات بہتر ہوں۔ جب آپ اداروں کوجواب دینے کی پابندی سے آزاد کر دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں سوال زندہ رہ جاتے ہیں جو ہمیشہ سانپوں کی طرح ڈستے رہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ موجودہ چئیرمین بہت ساری اصلاحات کر رہے ہیں سوائے اس کے کہ ہمارا نوے سال کی تاریخ رکھنے والا ایک ادارہ قوم کے اعتماد پر پورا اترے۔ گذشتہ برس فروری میں مقرر ہونے والے چئیرمین کے پاس بتانے کے لئے بہت کچھ تھا۔ وہ تقریبا ایک گھنٹہ تک مسلسل ان اصلاحات کے بارے بتاتے رہے جو ادارے میں کی جارہی ہیں۔ ڈیٹا بنک کی حفاظت کے لئے نئے قواعد وضوابط بنائے گئے ہیں۔ دو سو نئے جیمرز خریدے گئے ہیں تاکہ امتحانات میں موبائل فون کا استعمال بالکل ہی ممکن نہ ہوسکے۔ جہاں ایک طرف ادارے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی آر او کا تقرر کیا گیا ہے وہاں جدید ٹیلی فون ایکسچینج میں کال ریکارڈ کرنے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ ای میل وغیرہ کے ذریعے بھی امیدواروں کے سوالوں کے جواب دئیے جاتے ہیں۔ جہاں صحافیوں کے ساتھ کوارڈی نیشن کو بہتر بنایا جا رہا ہے وہاں تمام محکموں کے سیکرٹریوں کے ساتھ بھی میٹنگ کی گئی ہے تاکہ ادارہ زیادہ بہتر طریقے سے امیدواروں کا چناو کر سکے، وغیرہ وغیرہ۔
بڑے بڑے سکینڈلز اس وقت بنتے ہیں جب چھوٹے چھوٹے سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ جیسے اس وقت پنجاب کے پولیس کی نوکری کے لئے اہل نوجوان چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ کورونا کے دوران سرکاری ملازمتوں کی عدم فراہمی پر انہیں اسی طرح عمر میں دو برس کی رعائیت دی جائے جس طرح باقی تمام ملازمتوں میں دی گئی ہے۔ کچھ نوجوانوں نے یہ تاثر دیا کہ یہ رعائیت پنجاب پبلک سروس کمیشن نے دینی ہے مگر یہ بات درست نہیں ۔ پبلک سروس کمیشن خود سے ملازمتیں پیدا کرنے اور ان کی شرائط طے کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔ ملازمتوں کی تخلیق اور ان کی اہلیت کا تعین متعلقہ محکمے ہی کرتے ہیں اور اس سے پبلک سروس کمیشن کو آگا ہ کر دیتے ہیں۔ پنجاب کے ہزاروں نوجوان ( جن میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدے دار بھی شامل ہیں) توڑی جانے والی حکومت میں عمر سرفراز چیمہ اور راجا بشارت کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دروازہ بھی کھٹکھٹاتے رہے مگر انہیں یہ رعائیت نہیں ملی جس کا خاتمہ ایک خصوصی حکم نامے سے کیا گیا ہے مگر انہیں ٹھینگا دکھا دیا گیا۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے اس بات کی خصوصی وضاحت کی گئی کہ حکومت جن بھی شرائط و ضوابط پر نوکریاں دینے کا کہے گی کمیشن اس کے مطابق ہی عمل کرنے کا مینڈیٹ رکھتا ہے۔ اب اگر محکمہ تعلیم میں سوا لاکھ اساتذہ کم ہیں یا ڈاکٹروں کے ایم بی بی ایس کرنے والے کئی بیچ نوکریوں سے محروم رہے ہیں تواس میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا کوئی قصور نہیں ہے، یہ فیصلے حکومت نے کرنے ہوتے ہیں۔
میرا پنجاب پبلک سروس کمیشن کے علاوہ بھی دیگر اداروں سے کہنا ہے کہ جب وہ پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں تو اس ڈیلنگ میں بہت سارے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان سوالوںکے جواب دئیے جانے بہت ضروری ہیں تاکہ اداروں کی ساکھ اور ان پر اعتماد بحال رہے۔مجھے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چئیرمین کی طرف سے اصلاحات پر خوشی ہوئی ورنہ میں نے اس ادارے کو کرپشن میں پولیس اور ریونیو ڈپیارٹمنٹ کے برابر ہی سمجھ لیا تھا۔ اللہ کرے کہ موجودہ چئیرمین جو اصلاحات کررہے ہیں وہ جلد از جلد مکمل ہوں، اب کبھی پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ملنے والی نوکریاں فروخت نہ ہوں اور اگر کوئی ایسی قبیح حرکت کرے تو اسے عبرتناک سزا ملے۔

تبصرے بند ہیں.