وزیراعظم کا عمران خان کے الزام پر سپریم کورٹ کا فل بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ

16

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے الزامات پر سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوسناک واقعے پر الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہئے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان پر حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اللہ تعالی عمران نیازی سمیت تمام زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے اور واقعے میں جاں بحق ہونے والے کی مغفرت فرمائے۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اس واقعے کی مذمت کی جبکہ میں نے اس واقعے کے بعد اپنی پریس کانفرنس ملتوی کر دی تھی، افسوسناک واقعے پر گھٹیا الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہیے مگر جھوٹ اور گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں ہونے والے واقعے کی ہم سب نے مذمت کی لیکن مجھ پر، وزیر داخلہ پر اور ادارے کے ایک افسر پر جھوٹا الزام لگایا گیا، سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف گندی اور فحش گالیاں چلنے پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سر سے پاؤں تک جھوٹ کا مجسمہ ہے، پنجاب حکومت، پولیس، سپیشل برانچ اور آئی بی تمہاری ہے، عمران پر حملے کی تحقیقات کرائیں، اگر عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر نہیں کٹ رہی تو پنجاب حکومت سے پوچھیں،حملہ آور کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنا جرم قبول کر رہا ہے۔
ویراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر عمران خان کے پاس ثبوت ہیں، تو مجھے ایک منٹ وزیراعظم رہنے کا حق نہیں ہے، ثبوت ہیں تو قوم کے سامنے لائیں مگر ماضی کی طرح جھوٹ نہ بولیں، خان صاحب اپنی مرضی کی ایف آئی آر کٹوانا چاہتے ہیں تو کٹوالیں، یہ تین گھنٹے کا سفر کر کے شوکت خانم ہسپتال کیوں پہنچے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کسی سرکاری ہسپتال میں کیوں نہیں گئے؟ آج قوم اس دوراہے پر ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ہو گا، آپ نے این سی اے کا فیصلہ تو مانا نہیں سکاٹ لینڈ یارڈ کا مانیں گے؟ عمران خان میں نے سچ بول دیا تو آپ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس الزام کے بعد عدالتیں خاموش بیٹھیں گی تو ملک کے ساتھ زیادتی ہو گی، اگر دور دور تک سازش کا رتی برابر بھی ثبوت مل جائے تو مستعفی ہو جاؤں گا، چیف جسٹس پاکستان سے کہتا ہوں فل کورٹ کمیشن بنائیں اور اس ضمن میں چیف جسٹس بندیال صاحب سے تحریری درخواست کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر ہی قوم کا اعتماد ہو گا لیکن اگر آپ نے میری درخواست منظور نہ کی تو آنے والے وقتوں میں یہ سوال اٹھتے رہیں گے، آپ جب بھی مجھے حکم دیں گے پیش ہو جاو¿ں گا، یہی فل کورٹ ارشد شریف کیس کی بھی تحقیقات کرے۔

تبصرے بند ہیں.