آخر کب تک

14

ایک اور ہنستا مسکراتا چہرہ چھپ گیا۔آخر کب تک اس ملک کو بچانے کے لیے قوم کے بیٹے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔جب بھی اس ملک کو قربانی کی ضرورت پڑتی ہے تو غیور عوام ہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، یا ہماری پاک آرمی کے جوان جام شہادت نوش کرتے ہیں۔میرا،ایک سادہ سا سوال ہے، کیاکبھی جمہوریت کے جو ٹھیکیدار یا کسی سیاست دان کے کسی بچے کو شہادت ملی اس ملک کو یا جمہوریت کو بچانے میں؟
یقینا آپ سب کا جواب نفی میں ہو گا۔پچھلے دنوں ٹی ایل پی کے کارکنان شہید ہوئے جن کو میڈیا پہ دکھانا مناسب نہیں سمجھا مگر انڈین میڈیا تواتر سے اُن کو ہر طریقے سے دکھاتا ہے اور اس بات کو ہوا دیتا ہے کہ دیکھو پاکستان میں بھی مسلمانوں کا یہ حال ہے اور وہ غیر محفوظ ہیں اُن کو شہ ملتی ہے اور وہ اپنے ملک میں پھر مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں میرا اداروں اور خصوصاً اپنے سیاسی حکمرانوں سے کہنا ہے کہ ایسے کاموں سے اجتناب کیا جائے توکہ دوسرے ممالک ہم پہ انگلی اُٹھانے کا موقع نہ ملے مگر نہیں اُن کے خون کو تو شاید خون نہیں پانی سمجھا جا رہا ہے۔لاکھ اختلاف ہوں اُن کے ساتھ مگر وہ محب وطن پاکستانی تو ہیں ہماری پوری قوم آج سوچنے پہ مجبور ہو چُکی ہے کہ ہم آزاد ملک میں غلام ہیں۔ یہ ملک ہمارا گھر ہے اس کی حفاظت کرنا صرف پاک آرمی پر فرض نہیں بلکہ یہ کام ہر پاکستانی پہ لاگو ہوتا ہے۔یہ بات تو بچے بچے کو معلوم ہے کہ یہ ملک دو قومی نظریے پہ حاصل کیا گیا،اب دو قومی نظریے میں کیا تھا کہ ایک ہم ایسا ملک حاصل کریں جس میں ایک تو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہو اور دوسرا بولنے کی آزادی ہو (freedom of speech)۔مگر ہمارے آزاد ملک میں بدقسمتی سے دونوں کام نہیں ہیں جو سچ بولتا ہے اس کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے  سینئر صحافی ارشد شریف کی شہادت کی وجہ سے پوری قوم سوگوار ہے۔اس موضوع پہ مختلف اہم نوعیت کے قومی امور پر جو تفصیلی گفتگو کی جا رہی ہے اس میں سیاسی بیانیوں اور مقتدر حلقوں پر ہونے والی بحث ہی مسلسل دکھائی جا رہی ہے۔مگر میں اس کالم میں چند اہم سوالات پہ روشنی ڈالنا چاہوں گی شاید اُن کی روشنی میں ہم اُن حقائق تک پہنچ سکیں کہ ارشد شریف کو قتل کرنے کے پیچھے محرکات کیا کیا ہیں۔ ایک کس کے کہنے پہ وہ فوری طور پہ پشاور شفٹ ہوا اور پشاور کے وزیر اعلیٰ محمود خان سے ملاقات کی اور پھر وہیں سے اسے ڈائریکٹ دبئی روانہ کیا گیا۔ دوسرا دبئی سے کینیا کیوں بھجوایا گیا۔ تیسرا سلمان اقبال نے کس کے دباؤ میں آکے اس بات کا اعلان کیا کہ ہمارا تعلق ارشد شریف سے بالکل نہیں ہے۔ چوتھا مین اور اہم پوائنٹ وہ یہ کہ عمران خان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اُن کو خبر تھی کہ ارشد شریف کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔عمران خان ہمارے سابق وزیر  اعظم بھی رہ چکے ہیں وہ ایک مضبوط شخصیت کے مالک ہیں پھر کیوں وہ اس کی یہاں حفاظت نہیں کر سکے اور اگر اُن کو معلوم تھا تو کیوں نہ سکیورٹی اداروں کو بروقت انفارم کیا گیا۔ ایک مزید اہم پہلو وہ یہ کہ ارشد شریف کچھ اہم انکشافات کرنے والا تھا ادارے غیر جانب اور شفاف طریقے سے تحقیق کریں یا تو جن لوگوں کو وہ بے نقاب کرنے والا تھا وہ محرکات اس قتل کا موجب بنے۔
فیصل واوڈا نے الگ سے پریس کانفرنس میں اپنا پنڈورا باکس کھول دیا۔میرا یہ کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں کے پی کے،کے وزیراعلیٰ محمود خان،سلیمان اقبال،فیصل واوڈا اور عمران خان اور اُن وزراء کو شامل تفتیش کیا جائے جن کے رابطے میں مسلسل ارشد شریف تھا،تاکہ اُس کا قتل ایک پہیلی نہ بن کے رہ جائے بلکہ اُن لوگوں تک رسائی کی جا سکے جو اس سارے معاملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے سچ کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے کہ اُس انسان کے لیے زمین بھی تنگ کر دی جاتی ہے۔ہمارے ہاں صحافی تو بہت ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو صرف نام کے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انویسٹی گیٹر صحافی بالکل نہیں ہیں۔ ارشد شریف ایک ایسا صحافی تھا جو حقیقی معنوں میں فرنٹ پہ ثبوت رکھ کے بات کیا کرتا تھا۔جو سچ میں انویسٹی گیٹر صحافی تھا۔ہمارے ملک میں سیاستدان ایک ایسا طبقہ ہے جو اپنا منصب سنبھالتے ہیں تو انہیں فوری طور پہ سکیورٹی کے لیے نفری دے دی جاتی ہے مگر اس طرح سے سکیورٹی کے لیے اگر کسی ایسے صحافی جو کہ اپنے ملک و قوم کی بہتری کے لیے اہم رول پلے کر رہے ہیں اُن کو فراہم نہیں کی جاتی بلکہ اُن کے لیے پوری دنیا میں زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ اس ساری سیاسی کھینچا تانی میں اداروں کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے میں سب سیاسی حکمرانوں کو اس بات کا احساس اپنے کالم کے ذ ریعے دلانا چاہوں گی کہ سیاست کریں پہلوؤں اور مسائل کو ڈسکس کیجیے خدارا ہمارے اداروں کو نشانہ مت بنائیں کیونکہ 22کروڑ عوام نے اسی ملک میں رہنا ہے آپ لوگوں نے تو موسمی رہنا ہے اقتدار کرنا ہے اور چلے جانا ہے آپ سب کی فیملیز ملک سے باہر محفوظ ہیں یہاں اس عوام کے بارے میں سوچئے!
اس سے پہلے اگست میں بھی سوشل میڈیا  پہ عسکری اداروں کے خلاف منظم مہم چلی جس کے بعد حکومت نے کریک ڈاؤن کرکے چند افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔جو اپنے محدود سیاسی مفادات کے لیے ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں اور جذبات اور وقتی مفادات کی مد سے مغلوب ہوکرریڈ لائن عبور کر جاتے ہیں لہٰذا نوجوانوں کو منفی مہمات سے دور رکھنے کا طریقہ صرف یہی ہے کہ سچ کو فروغ دیا جائے تا کہ حقیقت، قیاس، گمان اور رائے میں تفریق کی جا سکے۔ سیاسی مقبولیت کا زور قومی ترقی پہ صرف ہوتو قابل تقلید لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم اسے تخریبی مقاصد کے لیے بروئے کار نہ لایا جائے۔سیاسی اختلافات صرف سیاسی ہی رکھے جائیں اُنہیں ملک دشمنی اور غداری سے نہ تعبیر کیا جائے اور بامعنی اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ مکالمے کے ذریعے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

تبصرے بند ہیں.