سیلاب اورسیاست

14

دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں اب تک یہی دیکھتے آئے ہیں اور پرکھوں سے یہی روایت چلی آ رہی ہے کہ خوشی میں نہ سہی لیکن غم کی گھڑی میں اختلافات تو کیا لوگ دشمنیاں تک بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے مشرف دور میں 2005میں جب تاریخ کا تباہ کن زلزلہ آیا تو پوری قوم نے متحد ہو کر اس نا گہانی آفت کا مقابلہ کیا تھا ۔ مرنے والوں کو تو کوئی واپس نہیں لا سکتا تھا لیکن جو بچ گئے تھے ان کی مدد اور بحالی کے لئے جس جذبہ سے کام کیا گیا اس نے ثابت کیا کہ ہم ایک قوم ہیں ۔ اسی طرح 2010میں بھی سیلاب نے خیبر پختون خوا ، پنجاب اور سندھ میں بڑی تباہی پھلائی تھی ۔ اس وقت بھی ملک میں یقینا سیاسی اختلافات تھے اور مرکز اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت تھی تو خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی لیکن اس وقت بھی قوم متحد تھی اور یہ شاید آخری موقع تھا جب قوم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا تھا ۔سیاسی اور مذہبی اختلافات پہلے بھی تھے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی دنیا کے ہر معاشرے میں ہوتے اور یہی اختلافات در حقیقت مہذب انسانی معاشروں کا حسن کہلاتے ہیں لیکن پر امن بقائے باہمی کے تمام اصولوں کو پامال کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں ایسا زہر گھول دیا گیاہے اور قوم کو اس طرح تقسیم کر دیا گیا ہے کہ بدقسمتی سے ہم مصیبت کی اس گھڑی میں بھی ایک قوم نہیں بن سکے ۔
1973کے سیلاب کا یاد نہیں ہے لیکن سنتے ہیں کہ اس نے بھی بڑی تباہی مچائی تھی اس کے بعد 1988اور پھر1992میں بھی سیلاب آئے لیکن کم شدت کے تھے ۔2010کا سیلاب زیادہ شدت کا تھا لیکن وہ لوگ جنھوں نے 1973سے لے کر اب تک کے تمام سیلاب دیکھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیلاب اپنی شدت اور حجم کے اعتبار سے گذشتہ تمام سیلابوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتنی بڑی نا گہانی آفت کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا دیا جاتا لیکن شومئی قسمت کہ ایسا نہیں ہو سکا اور بات کسی کی حمایت یا مخالفت کی نہیں ہے بلکہ جو نظر آ رہا ہے اس میں میاں شہباز شریف متحرک نظر آ رہے ہیں یا پھر بلاول بھٹو سمیت سندھ کی پوری کابینہ سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آ رہی ہے ۔یقینا پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کہ جہاں سب سے زیادہ تباہی آئی کی حکومتیں بھی کام کر رہی ہوں گی لیکن جو نظروں کے سامنے ہے ہم نے وہ بیان کر دیا ۔اس دوران کچھ لوگوں یا یہ کہہ لیں کہ کچھ سیاسی جماعتوں کا کردار ایسا ہی رہا ہے کہ ” کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا “ خود تو کچھ نہیں کر رہے لیکن جو کام کر رہے ہیں ان پر بے جا تنقید ، تمسخر اڑانااور یہاں تک کہ جو کام دوسرے کر
رہے ہیں ان پر اپنا لیبل لگا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا ایسا ہونا تو نہیں چاہئے لیکن چلیں اسے سیاسی خرافات سمجھ کر چھوڑ دیں لیکن جس بات کا افسوس ہوا وہ یہ کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی تک تو پہنچا دیا گیا ہے لیکن کم از کم اس کو ملک دشمنی تک تو نہ لے کر جائیں ۔ تحریک انصاف کی ایک خاتون کی جہلم جلسہ کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے کہ جس میں وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنی ترسیلات زر اس چور حکومت کو نہ بھیجیں ۔ کس قدر سفاکیت ہے جو المناک مناظر میڈیا دکھا رہا ہے اور اس سیلاب کی وجہ سے جو انسانی المیے جنم لے رہے ہیں کیا کوئی ہوشمند انسان اس طرح کی بات کر سکتا ہے اور پھر سٹیج پر عمران خان سمیت پارٹی کی پوری قیادت بیٹھی ہوئی تھی کسی نے اس بات پر معذرت نہیں کی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قدر زیادہ بارشیں ہوئی ہیں ان سے تباہی کی داستانیں رقم ہونا ہی تھیں لیکن جتنی تباہی ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ پروپیگنڈا کر کے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے حالانکہ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں ان کی اپنی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ بد قسمت باپ کے پانچ بیٹے گھنٹوں مدد کے لئے پکارتے رہے لیکن متعلقہ صوبائی حکومت اور ادارے ان تک رسائی میں ناکام رہے اور وہ بیچارے لقمہ اجل بن گئے ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں تو ہمیں صرف ایک کام کرنا چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہو سیلاب متاثرین کی مدد کر دیں اور تنقید کریں لیکن مثبت تنقیدکریں صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے تنقید نہیں کرنی چاہئے لیکن کاش کوئی اس بات کو سمجھتا ۔ خیبر پختونخوا نے اس نازک موقع پر وفاق کو جو خط لکھا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل نہیں کریں گے کیا یہ ملک دشمنی نہیں ہے اور اس ملک دشمنی میں اگر کسی کو کوئی شبہ تھا تو شوکت ترین کی تیمور جھگڑا اور محسن لغاری سے ٹیلی فونک گفتگو کے منظر عام پر آنے سے یقینا وہ شک دور ہو جانا چاہئے جس میں وہ محسن لغاری کو بھی خیبر پختون خوا کی طرح خط لکھنے کا کہہ رہے ہیں اور جب محسن لغاری پوچھتے ہیں کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو گا تو شوکت ترین کہتے ہیں کہ جس طرح یہ چیئر مین اور دیگر کو ٹریٹ کر رہے ہیں اس سے نقصان نہیں ہو رہا ۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔ گفتگو میں اسی حوالے سے اور بھی بہت کچھ ہے جس کا خلاصہ یہی ہے کہ آئی ایم ایف سے جو رقم ملنی ہے وہ نہ مل سکے ۔ قارئین اس صورت حال پر دل خون کے آنسو نہ روئے تو اور کیا کرے ۔
حیراں ہوں، دل کو روو¿ں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
کیا یہ سیاست ہے یا ملک دشمنی ہے اسد عمر نے اس کی وضاحت پیش کی کہ یہ کٹ اور پیسٹ کی گئی آڈیو ہے لیکن اس کا کیا کریں کہ گذشتہ جمعرات کو کامران شاہد کے پروگرام میں فواد چودھری نے یہی باتیں کی لیکن ملک و قوم کے بد خواہوں کی خواہشات کے باوجود بھی آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے ایک ارب 10کروڑ کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ۔ کہتے ہیں کہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے اور پھر سیلاب نے جو تباہی مچا رکھی ہے اس مصیبت کی گھڑی میں دنیا میں پاکستان کو قرض دینے کی مخالفت ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کی ہے یا پھر تحریک انصاف نے مخالفت کی ہے ۔ نریندر مودی تو دشمن ملک کا وزیر اعظم ہے لیکن کیا عمران خان یا تحریک انصاف کے کسی رہنما کو سیلاب متاثرین کی حالت زار پر ترس نہیں آیا ۔ خان صاحب تو اپنے مخالفین پر غداری کا الزام لگاتے تھے لیکن جو حقائق سامنے آ رہے ہیں کہ جن کی تردید بھی ممکن نہیں اس سے تو کسی اور کا نہیں بلکہ خان صاحب کا دامن داغدار نظر آتا ہے ۔سیانے کہتے ہیں کہ جھوٹ پھیلتا بڑی تیزی سے لیکن اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے اور اس کا بھانڈا ایک دن پھوٹنا ہی ہوتا ہے اور یہ تو شاید قرب قیامت کا زمانہ ہے کہ بہت جلد ہر بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے خان صاحب کی شخصیت کے کافی پرت کھل چکے ہیں اور امید ہے کہ جو رہ گئے ہیں وہ بھی بے نقاب ہو جائیں گے ۔

تبصرے بند ہیں.