عدم برداشت

13

عدم برداشت بنیادی طور پر کسی چیز میں برداشت کی کمی کا نام ہے جب کسی بھی شے کی برداشت ہمت سے کوئی قوت بڑھ جائے عدم برداشت کی صورت واضح ہو جاتی ہے۔ معاشرے میں جس طرف نگاہ دوڑائی جائے ہر ایک خود غرضی کا خول چڑھائے مشینی طرزِ زندگی گزارتا نظر آتا ہے۔ آج کا انسان معاشرتی ادب و آداب سے یکسر ناواقف دکھائی دیتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی خوب صورتی میانہ روی، تحمل مزاجی، رواداری اور عدل و انصاف کی فراہمی میں ہے۔ اگر معاشرے میں ان چیزوں کا فقدان ہو گا تو شدت پسندی، جارحانہ پن، غصہ، عدم برداشت اور لاقانونیت وجود میں آئیں گے۔
برداشت کرنے کی ہمت اللہ پاک بھی کسی کسی کو دیتا ہے، میرے ملک کے سیاستدان برداشت اور شفقت سے بالکل محروم ہیں۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہی ساتھ عوام میں بھی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم سیاسی پارٹیوں کی بات کریں تو سب سے زیادہ عدم برداشت آج کل ان میں دیکھی جا رہی ہے اور ان کی وجہ سے ہی عدم برداشت عوام میں بھی منتقل ہو رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں عدم برداشت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے سیاسی کیریئر میں شکست کا سامنا کرتے ہیں جب بھی کسی پارٹی کو شکست ہوتی ہے تو اس کے پاس انتشار پھیلانے کے علاوہ کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی میڈیا پر آ کر کہتے ہیں کہ ہمیں شکست اس لیے ہوئی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے تو کبھی کہتے ہیں ہمارے ساتھ الیکشن کمیشن نے زیادتی کی ہے تو کبھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دیتے ہیں۔ میں کسی بھی ایک پارٹی کی بات نہیں کر رہی میرے ملک میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں اس وقت موجود ہیں ان سب کا یہی حال ہے یہی چیزیں انہوں نے عوام میں منتقل کر دی ہیں۔ ماشاء اللہ سے عوام بھی تحمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے اس حد تک عوام کو پریشان کر چکے ہیں صادق اور امین کے لقب پر ان کو اب خود پتہ نہیں چلتا کہ وہ جگہ دیکھتے ہیں نہ ہی مقدس جگہ کا پاس رکھتے ہیں بلکہ چور ڈاکو غدار کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اس کی جیتی جاگتی مثال مسجد نبویؐ میں ہونے والا واقعہ ہے۔
عدم برداشت ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ آئے روز اخبار میں اس طرح کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ استاد نے شاگرد کو زد و کوب کیا تو کہیں شاگرد نے استاد کو قتل کر دیا، کہیں گھریلو ملازمین پر تشدد جاری ہے تو کہیں بنتِ حوا ظلم و ستم کی نذر ہو رہی ہے۔ کہیں سیاسی مخالفین ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں اور کبھی شہری سیاستدانوں کو عوامی مقامات پر گھیر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں موٹروے پر قیام و طعام کے ایریا موجود نجی ریسٹورنٹ پر پی ایم این کے رہنما احسن اقبال کے ساتھ ہونے والا واقعہ ہی دیکھ لیجئے اور پھر چند ماہ پہلے پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری کے ساتھ جو عوام نے کیا وہی دیکھ لیجئے۔ 2018 میں بلاول بھٹو کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام میں جانا اور عوام کی جانب سے پتھراؤ کرنا برتن بجا کے پانی دو کے نعرے لگانا تو یہ عوام میں جو سیاستدانوں سے عدم برداشت منتقل ہوا ہے صاف واضح ہے اور تو اور کہیں مذہبی جماعتوں کے نمائندے ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے میں مصروف ہیں۔ عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ آزمائش کے وقت بارگاہ الٰہی میں صبر و شکر کرنے کے بجائے ہم اس کے سامنے بھی شکوؤں کی طویل فہرست لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ الغرض کہیں خالق سے شکوہ کناں ہیں تو کہیں مخلوق سے تعلقات کشید کیے بیٹھے ہیں۔ ہم یہ تک بھول چکے ہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، آج انسان کا خون پانی سے بھی ارزاں ہے اور ان تمام برائیوں کی وجہ اخلاقیات اور اسلامی اقدار و روایات سے منہ موڑ لینا ہے۔
میں سمجھتی ہوں جتنے بھی معاملات اس وقت ملک میں چل رہے ہیں ان سب کے پیچھے کوئی طاقت نہیں بلکہ ہمارے ملک کے سیاستدان ہیں جو اپنی شکست کو برداشت نہیں کرتے اور میڈیا پر آ کر رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں دیکھیں جناب ہر سیاستدان اپنے دور اقتدار کو جمہوریت کا نام دیتا ہے یاد رکھیں اگر ہمارے ملک میں جمہوری نظام ہیں تو جمہوری معاشروں میں شکست اور فتح بھی۔ ہر کوئی اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہلواتا ہے اور کہتا ہے شاید میرے ملک کے سیاستدانوں کو عوامی لیڈر کے معنی نہیں پتا شاید یہ اقتدار کی کرسی پہ بیٹھے ہوئے شخص کو عوامی لیڈر سمجھتے ہیں مگر ایسا بالکل نہیں آپ سب کو اپنا برین واش کرنے کی ضرورت ہے جمہوری معاشروں میں عوامی لیڈر وہ ہوتے ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی عوام کے لیے خدمات سرانجام دیتا ہے مگر اس ملک میں کوئی بھی اپوزیشن کی سیٹ پر بیٹھنے کو تیار ہی نہیں اپوزیشن کی سیٹ بیٹھنا اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے سیاستدان دماغ سے ہی پیدل ہو جاتے ہیں کیوں کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اپوزیشن میں بیٹھ جاتی ہے تو اقتدار میں آئے اس حکومت کے راستے میں ایسے خلل پیدا کرتی ہے کہ اس حکومت کا کام کرنا ہی محال کر دیتی ہے اور اپوزیشن میں بیٹھے لوگ ایسی گفتگو کرتے ہیں جس سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اپنے حلقوں میں بھی جانا پسند نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے حلقے کے عوام کو کہہ دیتے ہیں کہ ہماری حکومت نہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ میری اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھا اپنے ملک کے سیاست دانوں کا حال ہے کوئی ایم پی اے، ایم این اے جب اپنے حلقے سے منتخب ہوتا ہے اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کی پارٹی اقتدار میں آئی ہے کہ نہیں اس پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ حلقہ کے عوام کی خدمت کرے۔ مگر یہاں پر یہ حال ہے کہ منتخب ایم این اے کی پارٹی اقتدار میں نہیں آتی تو حلقے کے عوام سے کہتا ہے کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، بے شک اس کو فنڈ ہی کیوں نہ ملتے ہوں مگر وہ اقتدار میں آئی اس حکومت کو گندا کرنے کے لیے اور اپوزیشن بیٹھی اپنی پارٹی کو اچھا دکھانے کے لیے کام نہیں کراتا بہت ہی کم ایم پی اے ایم این اے ہونگے جو کام کرا دیتے ہوں گے ورنہ عوام کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔
یہ کہنا چاہوں گا کہ خدارا خوف کریں حالات آپ دیکھ رہے ہیں ملک کے جو کراچی میں فساد ہوا اگر میرے ملک کے سیاست دانوں نے عدم برداشت کا مظاہرہ بند نہ کیا تو عوام کا ردعمل ان کے گلے کا طوق بن جائے گا ایک دوسرے کے مزاحیہ نام لکھنا بند کریں ریاست مدینہ کے دعویداروں کی آج کل گفتگو سنتی ہوں دوسری پارٹیوں کے لوگوں کے رکھے ہوئے نام بہت فخر سے لیتے ہیں مگر شاید یہ بھول گئے ہیں کہ خدا کو یہ سخت ناپسند ہے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں جو ہماری سیاسی جماعتوں نے باتیں کیں وہ سوشل میڈیا پر عوام کا ردعمل دیکھ لیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ لہٰذا یہ معاملات اسی وقت حل ہوں گے جب آپ لوگوں میں برداشت آئے گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ عوام کو اب سیاسی پارٹی کا پتہ چل چکا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں
برداشت کی حدوں سے میرا دل گزر گیا
آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا

تبصرے بند ہیں.