بھول بھلیاں

163

عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے روز کوئی نہ کوئی تماشا لگا دیا جاتا ہے ۔ بہت سارے ایسے معاملات جو پہلے ہی سے کافی حد تک واضح تھے اب ‘‘ دھماکے دار ‘‘ بریکنگ نیوز کے ذریعے سامنے لائے جارہے ہیں ۔ قانون شکنی کی وارداتوں کو میڈیا کے ذریعے بے نقاب کرنے میں کوئی ہرج نہیں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب ملک میں ہر طرح کے قوانین موجود ہیں تو ان پر عمل درآمد کرتے ہوئے کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ؟ پچھلے دنوں سابق خاتون اوّل بشریٰ بی بی کی آڈیو ٹیپ سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک پیج کے سابق سوشل میڈیا انچارج ڈاکٹر ارسلان خالد کو ہدایات دے رہی ہے کہ کرپشن سمیت دوسرے متنازعہ معاملات اٹھانے والوں کو غدار قرار دینے کے لیے مہم چلائی جائے۔ یقیناً یہ بہت سنگین معاملہ ہے جب کسی شہری پر غداری کا لیبل لگا دیا تو اس کی جان اور مال دونوں خطرے میں آجاتے ہیں ۔ کیا ہمارے اداروں ، میڈیا حلقوں اور متعلقہ افراد کی بڑی تعداد کو پہلے سے علم نہیں تھا کہ ہائبرڈ نظام حکومت میں بشریٰ بی بی کا رول کیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی پاکپتن کا ڈی پی او ٹرانسفر کراکے واضح پیغام دے دیا گیا تھا کہ اختیار کس کے پاس ہے ، حکومت چلانے کا انداز کیا ہوگا ۔ ایک پیج کے اقتدار کے دوران ہی جب میڈیا پر بدترین دبائو تھا ، اسی طرح کی خبریں سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں کہ ڈمی وزیر اعلی عثمان بزدار کو آگے رکھ کر حکومت بنی گالہ سے چلائی جارہی ہے ۔ بنی گالہ میں کیا ہورہا تھا وہ بھی ڈھکا چھپا نہیں ۔پی ٹی آئی کی سابق ایم پی اے عظمی کار دار نے اب بتایا ہے کہ عمران خان  کے موبائل فونز تک بشریٰ بی بی کے کنٹرول میں تھے ۔فائلوں پر دستخط کرانے سے لے کر کس سے بات کرنی ہے ،کس سے ملاقات کرنی ہے، کس کوانکارکرنا ہے ،کس کو ٹالنا ہے اسکا فیصلہ بشری بی بی ہی کرتی تھیں۔ پنجاب حکومت کا اصل  کنٹرول فرح گوگی کے پاس تھا۔ گوگی خود بھی کسی کی فرنٹ پرسن تھی۔ گوگی کے ملک سے فرار کے بعد مزید داستانیں سامنے آرہی ہیں ۔ ایک اعلیٰ افسر نے انہی دنوں میڈیا کو خود رابطہ کرکے بتایا کہ دیگر محکموں کی طرح پنجاب پولیس میں تقرر و تبادلے بھی مکمل طور پر گوگی کی صوابدید پر تھے ۔ کون نہیں جانتا کہ پی ٹی آئی کی چار سالہ حکومت کے دوران مانیکا فیملی نے صرف اقتدار کا پورا لطف  اٹھایا بلکہ بے تحاشا دولت بھی بنائی ۔ پنجاب کی  کئی کاروباری شخصیات یہ گلہ کرتی پائی جاتی تھیں کہ کئی معاملات میں مانیکاز کو رام کرنا پڑتا ہے ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ سے واضح ہدایات تھیں کہ مانیکا فیملی کا کوئی کام رکنا نہیں چاہئے  ۔ دلچسپ واقعہ ہے کہ خاور مانیکا پنجاب کے ایک افسر سے کام کرانے
گئے جب انہیں بتایا گیا کہ قواعد و ضوابط پورا کئے بغیر ایسا ممکن نہیں تو حیران ہوکر بولے اگر ہماری اپنی حکومت میں بھی ہمارے کام نہیں ہونے تو پھر کب ہوں گے ؟ اب بات چل ہی پڑی تو یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران خان کی طرح بشری بی بی بھی ایک پیج کا ہی ایک کردار  تھیں ۔ ایک سینئر تجزیہ کار نے ایک باران کے حوالے سے کوئی بات کی تو اس میڈیا ہاؤس کی انتظامیہ کو طاقتور ادارے کے اہم افسر کا فون آگیا ، کہا گیا کہ پھر ایسا ہوا تو یاد رکھیں اس تجزیہ کار کی بیوی اور بیٹی کے متعلق بہت سی باتیں ہوسکتی ہیں ۔ اب وہ پہلے والے حالات نہیں رہے تو ریکارڈ کو درست کرنا ضروری ہے ۔ طاقت کا یہ عالم تھا کہ جب ایک میڈیا ٹائیکون سے ہیرے وصول کرنے پر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے توجہ دلوائی تو ان کا تبادلہ ہوگیا ۔بشریٰ بی بی کی لیک ہونے والی آڈیو سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ پارٹی اور حکومتی معاملات ہی نہیں پی ٹی آئی سوشل میڈیا کو بھی گائیڈ لائن دیتی تھیں ۔ اچھی بات ہے ایک خاتون کو اپنے شریک حیات کا ہر شعبے میں ساتھ دینا چاہیے ۔ لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان دنوں پاکستان کی فوجی قیادت کے خلاف جو منظم مہم چلائی جارہی ہے ،اس کے پیچھے کون ہے ؟ اداروں کے پاس اس حوالے نہ صرف مکمل معلومات بلکہ شواہد بھی موجود ہیں ۔ اب خود عمران خان کی ایک آڈیو سامنے لائے جانے کا امکان ہے جس میں وہ اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے متعلق پاکستانی سفیر کے مراسلے سے خوب کھیلا جائے اور ہر طرف سازش ہونے کا شور مچا دیا جائے۔ ویسے اس میں بھی کوئی نئی بات نہیں۔ معاملہ پھر وہی ہے کہ کوئی قانونی کارروائی ہوگی یا قوم کو ایسے ہی بھول بھلیوں میں گھمایا جاتا رہے گا ۔ اب تک کا تجزیہ تو یہی ہے پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی گئی ہے لیکن اسے ماضی کی حکومتوں کی طرح نشانہ نہیں بنایا جارہا ۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ بہت محنت، بھاری سرمایہ اور وسائل کے بے دریغ استعمال کے بعد تیار کی جانے والی اس پارٹی کو ایک موثر پریشر گروپ کے طور پر برقرار رکھا جائے ۔ اسی لیے ہر طرح کے زبانی کلامی حملوں ، ضد اور ہٹ دھرمی کے باوجود ہاتھ ہلکا رکھا جارہا ہے ۔ لیکن ایسا کب تک چلے گا ؟ عمران خان اور ان کی پارٹی کے دیگر لیڈروں کوابھی سے سوچ لینا چاہئے ۔ ریاست نے اپنا موڈ بدل لیا تو بہت مشکل ہو جائے گی ۔ اقتدار جانے کے بعد عمران خان نفسیاتی طور پر شدید کرب سے گزر رہے ہیں ۔ ایسی دھمکیاں دینا کہ ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو سب کے نام بتا دیں گے شکست خوردہ ذہن کی عکاسی ہے۔ کپتان کو اندازہ ہی نہیں ہورہا یا پھر ان کے دائیں بائیں موجود خوشامدی انہیں راستے سے بھٹکا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اپنے ترکش کے تمام تیر چلا چکے۔ حکومت سے فراغت کے بعد وہ جلسوں میں آرمی چیف کے خلاف ہر طرح کے الزامات لگا چکے ہیں۔ ان کا سوشل میڈیا سیل ڈی جی آئی ایس آئی اورسینئر  موسٹ جرنیلوں کے خلاف مہم چلا چکے ہیں ۔ سو ان کے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں ۔ ایلیٹ کلاس ،  ریٹائرڈ فوجی افسروں اور آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی چھتر چھایا سے محروم ہونے والے ‘‘ جانباز ‘‘ اینکروں پر مشتمل انکا بچا کھچا لشکر تتر بیتر ہوچکا ۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پر دبائو ہے۔ کسی حد تک اختلاف رائے ضرور ہوسکتا ہے مگر ہر گزرتے  دن کے ساتھ یہ تاثر زائل ہوتا نظر آرہا ہے ۔ تازہ ترین واقعات اس کی علامت ہیں کہ عمران خان اپنے لیے ریاست کی جانب سے طے کردہ نئے کردار کے مطابق کام کرنے پر تیار نہ ہوئے تو حکومت کو فری ہینڈ دے دیا جائے ۔ پھر عمران خان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ماضی میں گھربھجوائی جانے والی حکومتوں کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے ۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ دونوں صورتوں میں عوام کا مقدر بھول بھلیاں ہیں ۔ ابھی دور تک منزل تو کیا راستے کے بھی آثار نہیں۔

تبصرے بند ہیں.