اسلام کا فلسفہ قربانی

389

قرآنی آیات و احادیث کے مطالعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح قربانی کا مقصد جانور قربان کرکے گوشت کی تقسیم ہے۔ اسی طرح قربانی کی اصل روح اور فلسفے کا حصول بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حقیقی پرستار اور سچا عابد وہی ہے جو اپنی خلاف شرع قوتوں، ناجائز آرزوؤں اور تمناؤں اور نفس امارہ کی، خواہشات کو رضائے الہٰی کے حصول اور اطاعت الہٰی میں ذبح کر ڈالے۔ قربانی کی اصل روح یہی ہے اور اس کا مقصد دل کو بیدار کرنا اور جذبہ محبت کو پروان چڑھانا ہے۔
قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ؐ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)آپ ؐ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘
عید کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا اور قربانی دینا ایک ظاہری عمل ہے، اس کا ایک باطن بھی ہے اور وہ ’’تقویٰ‘‘ ہے. چنانچہ قرآن حکیم میں قربانی کے حکم کیساتھ متنبہ کر دیا گیا کہ:
’’اللہ تک نہیں پہنچتا ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون ہاں اس تک رسائی ہے تمہارے تقویٰ کی‘‘۔
اگر تقویٰ اور روح تقویٰ موجود نہیں ، اگر یہ ارادہ اور عزم نہیں کہ ہم اللہ کے دین کے لئے اپنی مالی و جانی قربانی کے لئے تیار ہیں تو اللہ کے ہاں کچھ بھی نہیں پہنچے گا یعنی ہمارے نامہ اعمال میں کسی اجروثواب کا اندراج نہیں ہو گا ۔ گوشت ہم کھا لیں گے ، کچھ دوست احباب کو بھیج دیں گے، کچھ غرباء کھانے کو لے جائیں گے، کھالیں بھی کوئی جماعت یا دارالعلوم والے لے جائیں گے لیکن اللہ تک کچھ نہیں پہنچے گا اگر وہ روح بھی موجود نہیں ہے وہ روح کیا ہے؟ وہ امتحان ، آزمائش اور ابتلاء ہے اور اس میں کامیابی کا وہ تسلسل ہے جس میں سے سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کی پوری زندگی عبارت ہے۔
سابق انبیا کرام کی شریعتوں میں قربانی کا تسلسل حضرت عیسیٰؑ کی بعثت تک پہنچتا ہے۔ عیسائی قربانی کرتے تھے۔ بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ ملتا ہے جس میں انھوں نے بیٹے کو قربانی کے لیے چنا۔ بائبل اس کا نام حضرت اسحاقؑ بتاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم کے مطابق وہ حضرت اسماعیلؑ تھے۔ دین اسلام میں 10 ذوالحجہ کو قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ دیگر مذاہب کے برعکس اس مذہب میں ہر صاحب نصاب خود قربانی کرسکتا ہے۔ قربانی 10، 11، 12 ذوالحجہ کو کسی بھی دن کی جاسکتی ہے۔ اس مذہب میں قربانی کے واضح احکام ملتے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے ’’اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کرکے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو تم خود (بھی) اس میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو
(بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤ۔ ہرگز نہ (تو) اللہ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے، اس طرح (اللہ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اللہ کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں‘‘۔
عیدالاضحی پر کی جانے والی قربانی ہمیں درس دیتی ہے کہ ہر مسلمان کی خوشی و مسرت عیش و عشرت، امن و سکون، اضطراب و پریشانی اور محبت و نفرت سب رضائے الہٰی کے تابع ہونی چاہئے۔ مسلمان کا جینا، مرنا اس کی نماز اور روزے سب اللہ کے لیے ہو۔ اس سے مقصود رضائے الہٰی کا حصول ہونا چاہیے۔ بلاشبہ قربانی کا مقصد اللہ کی رضا جوئی ہے لیکن امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام پچھلی امتوں پر قربانی کے حوالے سے اس پر سبقت لے گئی کہ یہ کام ہمارے دین کے کاموں میں شمار کیا گیا ہے۔ مسلمان کی روح قربانی سے پاکیزگی حاصل کرتی ہے۔
ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سوچیں ، غور کریں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ کیا واقعتاً ہم اللہ کی راہ میں اپنے جذبات و احساسات کی قربانی دے سکتے ہیں ؟ کیا واقعتاً ہم اپنی محبوب ترین اشیاء  اللہ کی راہ میں قربان کر سکتے ہیں ؟ کیا واقعتاً ہم اللہ کے دین کی خاطر اپنے وقت کا ایثار کر سکتے ہیں ؟ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کو اللہ اور اس کے دین کے لئے قربان کر سکتے ہیں ؟  اپنے رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کے دین کی خاطر قربان کر سکتے ہیں ؟ اگر ہم یہ سب کر سکتے ہیں تو عید الاضحی کے موقع پر یہ قربانی بھی اللہ کو پسند اور اگر ہم اللہ کے دین کے لئے کوئی ایثار کر نے کے لئے تیا ر نہیں تو جانوروں کی یہ قربانی ایک خول اور ڈھانچہ ہے جس میں کوئی روح نہیں . بقول علامہ اقبالؒ
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی یہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین ِ غزالی نہ رہیٍٍ!

تبصرے بند ہیں.