معاشی، بد معاشی اور شب خون کا اعلان

7

پورا ملک سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور آگ کی لپیٹ میں، توقع نہیں تھی کہ کپتان اقتدار سے محرومی کے بعد اتنے خطرناک ہو سکتے ہیں کہ پورا ملک داؤ پر لگا دیں گے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد برسر اقتدار آنے والی مخلوط حکومت دو ماہ بعد بھی عدم استحکام کا شکار نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پاؤں رکاب میں۔ آنے والوں کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین سال میں اتنی معاشی بدمعاشیاں ہوئی ہیں کہ ہاتھ سے پھسلتی رسی کا سرا نہیں مل رہا۔ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر، اب بھی بے قابو، مہنگائی نہیں سونامی کہیے، آٹا، گھی، دالیں، بجلی، گیس، پٹرول ہر چیز عوام کی دسترس سے دور، زرعی اور صنعتی شعبہ زبوں حالی کا شکار، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 ہفتوں کے دوران اضافہ نے عوام کا بھرکس نکال دیا۔ ملکی روپے کی قدر تیزی سے روز بروز گھٹ رہی ہے۔ لوگ بر ملا کہنے لگے ہیں کہ یہ سلسلہ غربت کے خاتمہ پر ختم ہو گا یا غریب کے خاتمہ پر غریب بھیک مانگنے پر مجبور، مڈل کلاس قرضے لینے پر اتر آئی، خاندانوں کے سربراہ ڈکیتیوں اور چھینا جھپٹی پر مجبور، ملک کا اس سونامی سے بچ جانا معجزہ ہی ہو گا۔ آنے والے گڈ گورنس سے نا بلد، مہنگائی روکنے کے لیے کوئی ٹاکس فورس موجود نہیں۔ رات دن تقریریں پریس کانفرنس نت نئے بیانیے اور اس پر کپتان کا خوف سر پر سوار کسی نے سچ کہا تھا جب گھر میں آگ لگی تو جو سامان بچا تھا جلنے سے وہ سامان بھی ان سے بچ نہ سکا جو آگ بجھانے آئے تھے کپتان سیاسی شعلوں کو ہوا دینے میں مصروف۔ مہنگائی کی آگ گھروں کو جلانے میں لگی ہے۔ ادھر ملک بھر کے جنگلات نا معلوم ہاتھوں کی آگ سے جل کر تباہ ہو رہے ہیں۔ 10  جون سے اب تک 75 مقامات اور ہرے بھرے پھل دار جنگلات میں آگ لگ چکی، گرمی اور حدت میں اضافہ بر حق مگر اس سے پہلے 74 سال میں اتنی تباہی نہیں ہوئی سنجیدہ مزاجوں نے اسے معاشی بد معاشی کا نام دیا۔ اب تک صرف 24 افراد گرفتار کیے جا سکے آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ تباہی کی کئی جہتیں سامنے ہیں قرضے 47 ہزار ارب، کپتان نے اپنے دور میں کل قرضوں کا 79 فیصد لیا۔ آج تک نہ بتا سکے کہ اربوں کھربوں روپے کہاں لگائے انہیں ابتدا ہی سے بیرونی قرضوں کی سہولت حاصل ہو گئی۔ ذرا سی عقل، سیاسی سوجھ بوجھ اور مالیاتی تجربے اور اہلیت سے کام لیتے تو مہنگائی نہ بڑھتی، مگر روز اول سے نا تجربہ کار ٹیم سمیت چور ڈاکو کی گردان کرنے کی وجہ سے اس طرف دھیان ہی نہ گیا۔ ’’جو سمجھنی تھی وہی بات نہ سمجھی اس نے‘‘ ایک ارب کے وی وی آئی پی کے طیارے 74 ارب ڈالر کی درآمدات، جبکہ صرف 24 ارب کی برآمدات پٹرول، ڈیزل، بجلی گیس سمیت کسی جانب توجہ کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ کھیل ہی کھیل میں بے وقت نہ مارے جاتے سانپ کا زہر اگر پہلے نکالا ہوتا مگر آستین کے سانپ تو خود ہی پالے گئے اب تک ارد گرد پھن پھیلائے
پھنکار رہے ہیں۔ اس سارے جھمیلے میں ملک ہر جہت سے عدم استحکام کا شکار ہوا۔ مرے پر سو درے، اقتدار سے باہر آتے ہی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ بلند چیخ و پکار لانگ مارچ کی کال پہلا لانگ مارچ ناکام ہوا تو 19 جون (گزشتہ روز کے لیے شب خون مارنے کی کال تمام سیاسی حربے ناکام، اداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی تمام کوشش لا حاصل امریکی سازش قتل کے منصوبے سمیت تمام بیانیے جھوٹ کا پلندہ اور سیاسی ڈرامے ثابت ہوئے۔ سارے گیٹ بند شیخ رشید، پرویز خٹک اور اسد عمر کی ساری کوششیں ناکام اپنوں نے منہ موڑ لیا۔ ٹیلیفون بند، بیساکھیاں ہٹا لی گئیں۔ ہاتھ سے عدلیہ کا مورچہ بھی گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے دو ٹوک بیان نے امریکی سازش کے غبارے سے ہوا نکال دی اس بیان کے خلاف چند اینکرز اور جعلی لیڈروں کی چیخ و پکار بھی کام نہ آئی۔ ادھر ادھر سے امداد ملنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں، چوروں، ڈاکوؤں کی تکرار پر اعتبار ختم ہوا وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی ضمانتوں کی توثیق کا کیا مطلب ہے سارے مقدمات زیر التوا، میسج پہنچ گیا بلکہ پہنچا دیا گیا کہ اب (BEHAVE) کرنا ہے جو کچھ ہو رہا ہے معاشی بد معاشی کے بعد یہی ہونا تھا صرف قبلہ تبدیل ہوا راتوں رات لوگوں کی کایا کلپ ہو گئی۔ چودھری، ملک، شیخ اور دیگر کو کیا ہو گیا کہ وہ بنی گالہ کی اندرونی کہانیاں سنانے لگے۔ واش روم میں تجوریوں کی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں 5 قیراط کی انگوٹھی لندن میں ضبط شدہ 50 ارب کی واپسی اور بندر بانٹ پر غور کرنے کی اب بھی فرصت نہیں حالانکہ ہونے لگی ہیں نظم تیرے گھر کی سازشیں، مقبولیت کا خناس اب بھی سر میں سمایا ہوا ہے۔ پہلے لانگ مارچ کی ناکامی سے خناس دماغ سے نہیں نکلا سینئر تجزیہ کار جن کے ہاتھ عوام کی نبض پر ہیں کہتے ہیں کہ کپتان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔ لوگ اس تمام تباہی کا ذمہ دار کپتان اور ان کے ساتھیوں کو قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جمعہ کے روز احتجاج کی کال پر ملک بھر سے چند سو افراد کے سوا کوئی نہ نکلا۔ نچ پنجابن نچ کے گیت گانے والے بچ پنجابن بچ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ کپتان دو تہائی اکثریت کے خواہاں جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت مشیروں کو خدشہ ہے کہ انتخابات جب بھی ہوئے انہیں 50 سے کم سیٹیں نہیں ملنی چاہئیں ورنہ دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ سینئر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کے پی کے سے 30 کے قریب سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ پنجاب پر سکوت طاری ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کا نعرہ لگا کر کپتان کے دامن میں پناہ لینے والے خسرو پرویز غائب ہو گئے۔ پنجاب کے صدر مستعفیٰ، پورا نظم بدنظمی کا شکار، کراچی کے حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی غائب، سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں گتھم گتھا تھی۔ شب خون کے اعلان سے مقبولیت کا تراشا ہوا بت بھی ٹوٹ جائے گا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل، حکومت مستحکم، کپتان جس صدارتی نظام کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے خواب بکھر گیا فوری الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دیتے آئندہ سال اگست میں ہو گئے تو کپتان کی قسمت ورنہ آئین میں ایک سال توسیع کی گنجائش موجود ہے۔ موجودہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ سو فیصد درست لیکن اگر ریت میں منہ چھپانے کے بجائے حالات کی کڑی دھوپ میں جم کر کھڑے رہنے اور ریت کے بت بنانے کے بجائے کپڑے بیچنے جیسی تقریروں اور مایوسی پھیلانے والے وزیر خزانہ کے بیانات کے بجائے ارد گرد کے دوستوں سے رابطوں میں تیزی لائی جائے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ اکتوبر نومبر سے پہلے ڈالر سمیت مہنگائی کے منہ زور جن کو کسی بوتل میں قید کیا جا سکے گا۔ ماہرین معاشیات کی متفقہ رائے ہے کہ آئی ایم ایف اگلی قسط نہ بھی دے تب بھی ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تاہم وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو غیر محتاط بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ چین نے ایک فیصد شرح سود پر قرضہ منظور کر لیا ہے۔ سابق حکومت کو اس نے 4.4 فیصد پر قرضہ دیا تھا۔ سعودی عرب، ترکی، عرب امارات جیسے دوست آگے بڑھیں گے اور سب سے زیادہ حکمرانوں کی نیتیں صاف رہیں تو معاشی مشکلات پر قابو پایا جا سکے گا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ہمیں اپنے ملک کے 23 کروڑ عوام پر فخر ہے کہ وہ 74 سال کے کھیل تماشوں سے مایوس نہیں سیاستدانوں کے مظالم اور لگائے گئے زخم سہہ رہے ہیں مگر اب تک ان کے جمہوری خواب ختم نہیں ہوئے۔ اسرار الحق مجاز نے برسوں پہلے کہا تھا۔ بہ ایں سیل غم و سیل حوادث میرا سر ہے کہ اب بھی خم نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.