عالمی مندی اور ہمارے ایک صوبے کا بجٹ

14

یہ خبر کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ پچھلے ہفتے امریکا اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ملکوں کی سٹاک مارکیٹیں شدید مندی کے بعد کریش کر گئیں۔ امریکی ایس اینڈ پی میں 3.9 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ فرانس اور جرمنی کی مارکیٹوں میں دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادھر بٹ کوائن کی قیمت بھی 18 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ امریکی سرمایہ کار شرح سود میں اضافے کے خدشات سے خوفزدہ ہیں۔ امریکا میں مہنگائی40 برس میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 70 فیصد امریکی اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگلے برس امریکی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مہنگائی اور کساد بازاری کے خدشات کے باعث عالمی سٹاک مارکیٹس میں بھونچال پیدا ہو گیا۔ بڑے پیمانے پر شیئرز کی فروخت کا دباؤ بڑھا تو مارکیٹیں کریش ہو گئیں۔ ادھر ایک ہفتے میں کرپٹو مارکیٹ سے بھی 200 ارب ڈالر نکل گئے، فروری 2021 کے بعد پہلی بار کرپٹو کیپٹلائزیشن ایک کھرب ڈالر سے سے نیچے آ گئی۔ اس سے بھی عالمی سطح پر افواہ سازیوں نے جنم لیا۔ البتہ پاکستان میں منگل کے روز غیر متوقع طور پر سٹاک مارکیٹ میں تیزی رہی۔ البتہ ڈالر کی قدر میں اضافہ جاری رہا۔ جس کی وجہ سے مہنگائی کا گراف بھی اوپر کی جانب رہا۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ادھر یہ خبر بھی میڈیا میں آئی ہے کہ دنیا کے 500 امیر ترین افراد 2022 کے چھ ماہ کے دوران 14 کھرب ڈالر سے محروم ہو چکے ہیں جب کہ 13جون کو ایک دن میں ہی انھیں 206 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، یہ بات بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شرح سود اور مہنگائی میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر مالیاتی مارکیٹوں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ ان اشاریوں کو دیکھا جائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر معاشی سست روی کی رفتار بڑھ جائے گی۔ جس کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل موجودہ عالمی مالیاتی سسٹم اور اس سے جڑی معیشتوں کا بحران ہے۔ مسلسل جنگوں خانہ جنگیوں اور ترقی یافتہ ملکوں کے درمیان تجارتی آویزش نے عالمی معیشت کو بحران کا شکار کیا ہے۔ دنیا کے غریب ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ چند ایک افریقی ممالک کو چھوڑ کر پورا براعظم افریقہ بدترین معاشی پسماندگی سے دوچار ہے۔ ایشیا کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے۔ ایشیا میں جاپان، جنوبی کوریا، چین، تائیوان، سنگا پور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کے علاوہ پورا براعظم ایشیا بھی خانہ جنگی اور پسماندگی کا شکار ہے۔ پاکستان بھی ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے۔ اسی ابتر صورتِ حال میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منگل کو سندھ اسمبلی میں مالی سال 2022-23 کے لیے 33 ارب 84 کروڑ روپے خسارے پر مشتمل 17 کھرب، 13 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، سرکاری ملازمین کے گزشتہ چھ سال کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 اضافہ ہو گا۔ بجٹ میں 3653 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں۔ پولیس کانسٹیبل کا گریڈ 5 سے بڑھا کر 7 کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پولیس کانسٹیبلز یقینی طور پر خوش ہوں گے۔ صوبائی بجٹ میں تعلیم کے لیے 326.80 ارب روپے، صحت کے لیے 206.98 ارب روپے اور امن و امان کے لیے 124.873 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ کے غریب عوام کے لیے 26.85 ارب روپے کا ریلیف پیکیج، کاروباری لاگت کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کاٹن سیس، پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کو معطل کرنے، کھانے پینے کی اشیا کی گھروں پر ڈلیوری کرنے والے پلیٹ فارمز کے لیے کمیشن چارجز پر سیلز ٹیکس کی شرح آئندہ دو سال کے لیے 13سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے دیگر شعبوں پر کمیشن ایجنٹس پر صوبائی سیلز ٹیکس 13 فیصد برقرار رکھنے، برآمدی شعبہ کے لیے انفراسٹرکچر سیس کی چھوٹ کی تجویز بھی بجٹ میں شامل کی گئی۔ کراچی میں مجموعی ترقیاتی اخراجات 118ارب روپے ہوں گے، کراچی کے لیے نئی پرانی 18 سکیموں کے لیے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے ترقیاتی بجٹ کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔ کراچی کے مسائل کیا ہیں، اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب ان مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ کراچی سے جو ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے، اگر اسے ہی کراچی کی ترقی پر خرچ کر دیا جائے تو اس کے اچھے نتائج نکلیں گے کیونکہ کراچی شہر سے تو ٹریفک چالان کی مد میں اچھا خاصا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے اور سندھ حکومت اسے تسلیم بھی کرتی ہے۔ بجٹ میں سندھ کے کسانوں کو 3 ارب روپے سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ سندھ کا کسان اور ہاری سبسڈی کا مستحق ہے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ سندھ میں چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مزید مراعات کا اعلان کرے۔ انھیں سستی بجلی فراہم کی جائے اور ٹریکٹرز اور دوسری زرعی مشینوں میں استعمال ہونے والا ڈیزل یا پٹرول بھی سستا فراہم کرے۔ سندھ کی زراعت کو بچانے کے لیے پانی کے ذخائر تعمیر کرنا اشد ضروری ہے۔ سندھ حکومت کو مجموعی بجٹ میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے منصوبوں کے لیے رقم مختص کرنی چاہیے تاکہ اس اہم ترین منصوبے پر کام کا آغاز ہو سکے۔ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بنایا جائے اگر تھوڑا تھوڑا بجٹ بھی اس منصوبے پر بلا رکاوٹ مسلسل خرچ کیا جائے تو دس برس میں کراچی ٹھٹھہ اور دیگر ساحلی علاقوںکے مکینوں کے لیے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا بلکہ سمندری پانی کو زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جا سکے گا۔ سندھ کے بجٹ میں غریبوں کے لیے ہاؤسنگ یونٹس بنانے کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ یہ بجٹ سندھ کے عوام کی سماجی بہبود، غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک ترقیاتی بجٹ ہے۔ بجٹ میں مجموعی آمدنی کا تخمینہ 16 کھرب 79 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ صوبہ کے نان ٹیکس اور ٹیکس آمدن کا تخمینہ 374 ارب 50 کروڑ روپے لگایا گیا جس میں 167 ارب روپے کے صوبائی محاصل، خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس وصولیوں کا تخمینہ 180 ارب روپے جب کہ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 27 ارب روپے لگایا گیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے وفاقی حکومت سے سندھ کو 1055 ارب روپے موصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا۔ سندھ کو آئندہ مالی سال میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 91.46 ارب روپے، وفاقی گرانٹس کی مد میں 6 ارب روپے جب کہ غیر ملکی گرانٹس کی مد میں 8ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سندھ حکومت بینکوں سے 45ارب روپے لے گی محصولات اور صوبائی سیلز ٹیکس کی مد میں 79ارب روپے زائد وصول کیے جائیں گے۔ وفاق سے ترقیاتی کاموں کے لیے 6 ارب روپے کی گرانٹ ملے گی اس طرح صوبے میں مجموعی طور پر ترقیاتی کاموں پر 459 ارب روپے خرچ ہوں گے جو مالی سال 2021-22 کے مجموعی ترقیاتی اخراجات 269 ارب 63 کروڑ روپے سے 190ارب روپے زیادہ ہیں۔ بجٹ میں سندھ کے سات اضلاع میں نئی یونیورسٹیز یا یونیورسٹی کیمپس بھی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں سندھ حکومت نے ایک متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر معاشی بحران نہ ہوتا تو شاید ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جاتا۔ بہرحال حالات جیسے بھی ہوں کچھ شعبے ایسے ہیں جن پر زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر کراچی اور حیدر آباد سندھ کے بڑے شہر ہیں۔ ان شہروں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ حکومت عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا شعبہ فعال کرے۔ ٹرانسپورٹ کو صرف نجی شعبے کے حوالے کرنے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اگر کراچی میں نجی ٹرانسپورٹ کے متوازی پبلک ٹرانسپورٹ چلے تو اس سے شہریوں کو بھی سہولت ملے گی اور نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔

تبصرے بند ہیں.