راولپنڈی کی "توپی رکھـــ”…!

120

"رکھ "کا لفظ زیادہ تر پنجابی میں اور شائد کچھ کچھ اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی سرکاری جنگل کے ہیں جس میں ہر طرح کے درخت ، خود رو پودے اور جھاڑیاں ہی نہیں ہوتی ہیں بلکہ کئی طرح کے جنگلی جانور جن میں گیدڑ اور لومڑ وغیرہ عام ہوتے ہیں، بسیرا بھی کرتے ہیں۔ بعض جنگلوں کو بھیڑیے بھی اپنا مسکن بنائے ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان جنگلوں کے درختوں پر پرندے وغیرہ بھی بڑی تعداد میں چہچہاتے رہتے ہیں۔ پنڈی بلکہ پوٹھوہار کے سطح مرتفع کے علاقے میں ایک زمانے میں اس طرح کے سرکاری جنگل یا” رکھیں”کافی تعداد میںموجود تھیں۔ پنڈی میں جہلم روڈ (جی ٹی روڈ) میں سی او ڈی کے بالمقابل” توپی رکھ” کے نام سے ایک وسیع سرکاری جنگل تھا جسے تقریباً چھ دہائیاں قبل ایوب پارک کا نام دے دیا گیا۔ یہ کیسے ہوا ؟اس کی تفصیل جاننے سے قبل تھوڑا سا مزید ذکر یہ کرتے ہیں کہ "رکھ”یا "رکھیں”کیوں بنائی یا قائم کی جاتی تھیں، ان میں درختوں اور جنگلی حیات کی حفاظت کا کیا انتظام ہوتا تھااور ان سے کیا فوائد حاصل کیے جاتے تھے؟
میں اگر اپنے ذہن کے نہا ںخانے میں موجود اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادوں کو کریدوں  تو مجھے یاد پڑتا ہے۔ جب میں اپنے گاؤں میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو ہمارے گاؤں میں تین "رکھیں”موجود تھیں۔ ایک گاؤں کے مشرق اور شمال مشرق میں دریائے سواں کے کنارے پر بیلے میں پھیلی ہوئی تھی ۔ ایک گاؤں کے جنوب میں کسیوں ، ٹبوں ، ٹیلوں اور غیر ہموار زمین پر مشتمل "رکھ”تھی اور ایک گاؤں کے مغرب میں سواں کے کنارے سے ہٹ کر سرکنڈوں والے بیلے اور شیشم کے گھنے درختوں کے جھنڈوں پر مشتمل ـ "رکھ” تھی ۔ گاؤں کے مشرق اور شمال مشرق میں دریائے سواں کے کنارے واقع بیلے میں  "رکھ” بڑی اور دیہہ شملات پر مشتمل گاؤں کی دونوں بڑی برادریوں اعوانوں اور بدہالوں کی ملکیت تھی۔ اس میں سرکنڈے کا بیلہ تھا تو شیشم کے درختوں کے جھنڈ اور کھٹے میٹھے بیروں والی جھاڑیاں بھی تھیں۔ جھاڑیاں اور سرکنڈے اتنے گھنے اور باہم جڑے ہوتے تھے کہ ان میں سے گزرنا محال تھا۔ یہاں تک کہ کوئی جانور وغیرہ گھاس چرنے کے لیے ادھر آنکلتے تو انکا ڈھونڈنا یا پیچھا کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ گاؤں کے جنوب میں ٹبوں ، ٹیلوں اور کسوں پر مشتمل  "رکھ”ایک محدود رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جو گاؤں کی ایک بزرگ اور نمایاں شخصیت ملک شاہ نواز مرحوم جو بعد میں یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہے کے گھرانے کی ملکیت تھی۔ اس "رکھ” میں جنگلی جھاڑیوں کے علاوہ کیکر اور پھلاہیوں کے درخت بکثرت پائے جاتے تھے۔ گاؤں کے مغرب میں واقع "رکھ” جو دریائے سواں کے کنارے تک پھیلے ہوئے سرکنڈوں کے بیلے اور شیشم کے درختوں کے گھنے جھنڈوں پر مشتمل تھی۔ یہ "رکھ” بھی بزرگوارم ملک شاہ نواز مرحوم کے گھرانے کی ملکیت تھی۔ اس "رکھ” کے جنوب میں ہمارے خاندان کا وسیع رقبے پر پھیلا ہوا بیلہ تھا اور اب بھی ہے۔ لیکن ہمارے بزرگوں نے اسے بطور سرکاری "رکھ” محکمہ جنگلات کی تحویل میں دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے بیلہ جو مال مویشیوں کے لیے چراگاہ کی حیثیت رکھتا ہے اس کی یہ حیثیت ختم
ہو جائے گی اور مال مویشیوں کے چرنے چرانے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔
جیسا میں نے کہا یہ "رکھ” یا "رکھیں”اگرچہ نجی اراضی پر قائم کی گئی تھیں تاہم ان کی نگرانی اور دیکھ بھال صوبائی محکمہ جنگلات کی ذمہ داری تھی۔ اس کا طریقہ کار غالباً یہ تھا کہ اراضی مالکان اور محکمہ جنگلات کے درمیان طے پاتا تھا کہ مقررہ معیاد کے لیے "رکھ” کے لیے مخصوص اراضی محکمہ جنگلات کی تحویل میں رہے گی۔ اس دوران اراضی مالکان "رکھ”کے لیے  مخصوص رقبے پر اپنے مالکانہ حقوق نہیں جتائیں گے۔ محکمہ جنگلات "رکھ” کے لیے مخصوص رقبے میں شیشم ، کیکر اور پھلاہی وغیرہ کے درخت لگا کر ان کی دیکھ بھال، نگرانی اور حفاظت کی ذمہ داری ادا کریں گے اور "رکھ” سے گھاس وغیرہ نیلام کرنے سے جو آمدن ہوگی وہ محکمہ جنگلات کے حصے میں آئے گی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہمارے گاؤں میں محکمہ جنگلات کا ایک گارڈ یا سپاہی ان "رکھوں ”  کی نگرانی کے لیے تعینا ت تھا ۔ اگر کوئی شخص "رکھوں” کے درخت یا گھاس وغیرہ کاٹنے کا مرتکب پایا جاتا تو محکمہ جنگلات کا سپاہی اس کا باقاعدہ چالان کر دیا کرتا تھا جس کا مرتکب شخص کو جرمانہ بھرنا پڑتا تھا ۔ گاؤں کی "رکھوں”کا ذکر یہ کہہ کر تمام کیا جاتا ہے کہ دس بارہ سال کے بعد یہ "رکھیں”واپس مالکان کو مل گئیں۔ مشرقی "رکھ”کے درختوں کو کٹوا کر نیلام کر دیا گیا۔ بیلہ بھی ختم ہو گیا اب وہاں مزروعہ زمین ہے۔ جنوبی رکھ بھی کب کی ختم ہو گئی اور مغربی رکھ بھی واپس مالکان کو مل گئی جنہوں نے وہاں پر لگائے گئے شیشم کے درختوں کے جھنڈ نیلام کر دیے ۔ اب یہ بھی مزروعہ زمین ہے۔
واپس پنڈی کی "توپی رکھ”کی طرف آتے ہیں۔ جیسے شروع میں کہا گیا کہ ,60 65برس قبل  "توپی رکھ”سے اس کا نام تبدیل کرکے اسے ایوب نیشنل پارک کا نام دے دیا گیا تھا۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ "توپی رکھ” کا یہ علاقہ پنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں آتا ہے۔ پچھلی صدی کی 60کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جب ملک میں فیلڈ مارشل ایوب خان کا مارشل لاء نافذ تھا تو اس وقت کے راولپنڈی کینٹ بورڈ کے ایگزیکٹیو آفیسر جناب زندہ خان محمود کی تحریک پر "توپی رکھ”کا نام تبدیل کرکے اسے ایوب نیشنل پارک بنا دیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ "توپی رکھ”کے بالمقابل جی ٹی روڈ کی دوسری طرف کم اُونچائی والی ایک پہاڑی کی ڈھلان پر جنرل ایوب خان کا گھر بنا ہوا تھا جو اب بھی موجود ہے۔
تقریباً 60برس قبل "توپی رکھ”کا نام تبدیل کرکے ایوب نیشنل پارک رکھا گیا تو یہ نام اُس وقت سے مستعمل اور زبان زد خاص و عام ہے۔ تاہم آرمی ہیرٹیج فاؤنڈیشن کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اُنھوں نے ایوب نیشنل پارک کے پرانے نام "توپی رکھ”کو بھی زندہ کر دیا ہے۔ اس کی تفصیل ذرا آگے چل کر آئے گی ۔ اس سے پہلے ایوب نیشنل پارک (توپی رکھ)کی وسعت، پھیلاؤ اور محلِ وقوع کا تھوڑا سا ذکر کرتے ہیں۔ پنڈی ضلع کچہری سے جہلم روڈ (جی ٹی روڈ) پر آگے چلیں تو تقریباً دو اڑھائی سو میٹر کے فاصلے پر سڑک کے بائیں کنارے آرمی ہاؤس کی عمارت اپنی مسجد سمیت بنی ہوئی ہے۔ اس عمارت کو ایک لحاظ سے تاریخی گردانا جا سکتا ہے کہ مارچ 1976ء میں جنرل محمد ضیاء الحق بطور چیف آف آرمی سٹاف اپنی تعیناتی کے بعد سے 17اگست 1988ء کو اپنی شہادت کے وقت تک تقریبا ً  ساڑھے بارہ سال اسی گھر میں مقیم رہے۔ اس وقت راولپنڈی کی پریذیڈنسی خالی تھی اور اسلام آباد میں ایوانِ صدر کی پرشکوہ وسیع و عریض عمارت بھی پایہ تکمیل تک پہنچ چکی تھی۔لیکن جنرل محمد ضیاء الحق نے آرمی ہاؤس کو ہی اپنا مسکن بنائے رکھا۔ خیر یہ ذکر ایک جملہ معترضہ سمجھ لیجئے ۔
آرمی ہاؤس کے جانبِ مشرقی سڑک کے پار کچھ فاصلے پر راولپنڈی کا گالف کلب کب سے قائم ہے ۔ یہیں سے "توپی رکھ”یا موجودہ ایوب نیشنل پارک شروع ہو جاتا ہے۔ یہ جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ بائیں طرف تقریباً اڑھائی تین کلو میٹرآگے تک پھیلا ہوا ہے۔ راولپنڈی گالف کلب میں گالف کے لیے وسیع سبزہ زار اور درخت وغیرہ ہیں تو اس کے اندر ایک نئی مارکی اور پہلے سے بنا ہوا ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے کرایہ پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ گالف کلب کے گیٹ سے تقریباً نصف کلو میٹر یا اُس سے کچھ کم یا زیادہ فاصلے پر سڑک کے بائیں کنارے ایک بڑا گیٹ موجود ہے جس پر "توپی رکھ” (Topi Rakh) کے الفاظ موٹے موٹے حروف میں جڑے اور چمکتے نظر آتے ہیں۔ ایوب نیشنل پارک کا یہ وہ حصہ ہے جسے اس کی انتظامیہ آرمی ہیریٹج فاؤنڈیشن نے دوبارہ "توپی رکھ”کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ اس گیٹ کے اندر جائیں تو یہاں آرمی ہیریٹج فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام گلیکسی نام کی ایک بڑی اور ایک دوسری اُس سے کچھ چھوٹی مارکیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہ مارکیاں آرمی ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی آمدنی کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ ان کے سامنے پارکنگ کے لیے وسیع پختہ لان ہیں تو ان سے آگے درختوں کے جھنڈ ، واکنگ ٹریک اور سیر کے لیے مخصوص جگہیں بھی ہیں۔ ایوب نیشنل پارک کے توپی رکھ والے گیٹ سے جی ٹی روڈ پر کوئی ایک آدھ کلو میٹر آگے چلیں تو ایک اور بڑا گیٹ آتا ہے جسے ایوب نیشنل پارک کا مین یا بڑا گیٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس گیٹ کے باہر سڑک کے کنارے جنگلی جانوروں کے مجسمے (Statues)وغیرہ رکھے ہوئے ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ اندر چڑیا گھر اور سیر کی دوسری جگہیں بھی موجود ہیں۔ اس گیٹ کے اندر داخل ہوں تو دائیں بائیں مختلف سیرگاہیں، گھاس کے سر سبز قطعات شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے مخصوص جگہیں اور آگے چل کر چڑیا گھر (Zoo)اور دو جھیلیں اور ریسٹورنٹ وغیرہ بنے ہوئے ہیں۔ سیر اور تفریح کے لیے لوگ اپنے بچوں سمیت ادھر کا رُخ کرتے ہیں۔ ایوب پارک کے مین گیٹ سے باہر نکلیں اور جی ٹی روڈ کے ساتھ آگے چلیں تو یہاں پر دو بڑے گراؤنڈ بھی ہیں۔ ایک ہاکی آسٹروٹرف گراؤنڈ جو لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد(مرحوم) جو ماڑی پیٹرولیم کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے ہیں اور کسی زمانے میں آرمی ہاکی ٹیم کے کپتان بھی تھے نے بنوایا ہے۔ دوسرا کرکٹ گراؤنڈ ہے جس میں فلش لائٹس کا انتظام بھی ہے۔ ایوب نیشنل پارک کی حدود  شفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں جبکہ اس کی مشرقی سمت میں گلستان کالونی کی وسیع آبادی پھیلی ہوئی ہے۔

تبصرے بند ہیں.