پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سینیٹ میں احتجاج

23

اسلام آباد: حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا اور سپیکر کی ڈائس کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی کی۔ 
تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا گیا، ارکان نے چیئرمین سینیٹ کی ڈائس کے سامنے جمع ہو کر امپورٹڈ حکومت نا منظور کے نعرے بھی لگائے۔ 
ذرائع کے مطابق احتجاج ریکارڈ کروانے کے دوران عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سابق وزیرخزانہ کہہ رہے تھے کہ سخت فیصلے کر لینے چاہیے، کل کہا جارہا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام فوری بحال کیا جائے، آج ان کی باتوں میں 180 زاوئیے کی تبدیلی آ گئی ہے۔ 
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر عوام پر بم گرا دیا گیا اور بجلی کی قیمت میں انہوں نے گزشتہ روز 47 فیصد اضافہ کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وژن تھا کہ عا آدمی پر کسی صورت بھی بوجھ نہیں ڈالنا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ 60 فیصد ڈیزل پاکستان کی مقامی ریفائنری بناتی ہے جو پہلے 18 اور اب 70 فیصد مارجن لے رہی ہے جبکہ ہمارے دور میں ڈیزل کا مارجن 14روپے تھا جبکہ گزشتہ سات روز کے دوران پیٹرول 60 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا، جب تک یہ عوام کے مفاد کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے سب ان کو ڈانڈا ماریں گے۔ 

تبصرے بند ہیں.