جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا

8

اگرحکومت نے عوامی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہوتا تو پھر عوام کی غالب اکثریت اس کے ساتھ کھڑی ہوتی مگر اس نے تو آئی ایم ایف کو راضی رکھنے کے لیے اس نے جو کہا اس پر من و عن عمل درآمد کر دیا جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی اور وہ حکومت کو بد دعائیں دینے لگا۔ یوں حزب اختلاف کو شور مچانے اور تحریک عدم اعتماد لانیکا موقع مل گیا اسے اس بات پر بھی ایسا کرنا پڑا ہے کہ عمران خان وزیر اعظم پاکستان اسے مسلسل چور ڈاکو کہتے چلے آ رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسے این آر او نہیں دوں گا عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں تو اپنے مسائل کے حل سے غرض ہے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں انصاف ملے تھانے پٹوارخانے اور دوسرے سرکار کے ادارے رشوت نہ لیں وہ اپنے فرائض کو پہچانیں مگر حکومت اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکی لہٰذا آج اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ چکی ہے جس سے بچنے کے لئے وہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ عمران خان خود استعفیٰ دیتے اور اپنے کارکنوں میں جاکر اپنی مظلومیت کا رونا روتے تو ان کو کچھ ہمدردیاں مل جاتیں مگر جوں جوں وقت گزر رہا ہے ان کے ساتھیوں اور کارکنان میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جب انہوں نے اس نظام کو بدلا ہی نہیں جس کا وعدہ کیا گیا تھا تو وہ کیسے ان کے ساتھ چل سکتے ہیں مگر وہ فی الحال فلور کراسنگ کے خوف میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اور نہیں چاہتے پی ٹی آئی کوچھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں شامل ہوں کہ جس میں ان کی گنجائش ہے حزب اختلاف کی جماعتوں نے انہیں اشارہ بھی دے دیا ہے مگر وہ مجبور ہیں۔ بہرحال عمران خان کہتے ہیں کہ وہ آخری گیند تک کھیلیں گے وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں انہیں یقین ہے کہ وہ ضرور جیتیں گے یہ بات وہ اس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اپنے اختیارات کے ذریعے بازی پلٹ سکتے ہیں مگر حزب اختلاف نے طے کر لیا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو اقتدار سے محروم کرکے رہے گی کیونکہ اس نے ملک میں افراتفری پھیلا رکھی ہے اس کے کے وزیر مشیر بدزبانی کی حد پار کر گئے ہیں انہیں بولنا آتا ہے نہ حکمرانی کرنا آتی چلئے سخت لہجے بھی ہوتے ہیں
مگر عوام کو تو ریلیف دیتے لوٹ مار نہ کرتے معیشت کا ستیاناس نہ کیا ہوتا تو بھی وہ صبر کرتی مگر اس نے توسیدھی سیدھی تباہی کر دی ہے۔ ’’جاویدخیالوی کے مطابق حکومت اگر دانائی سے کام لیتی تو وہ حزب اختلاف سے تعلق خوشگوار بناتی اس کو ہر وقت کرپٹ کرپٹ نہ کہتی این آر او کی رٹ نہ لگائے رکھتی اپنے منشور پر نظر رکھتی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتی مگر اس نے ایک ہی راگ الاپنا ضروری سمجھا جس کی وجہ سے نوبت تحریک عدم اعتماد تک پہنچ گئی ۔ پھر اس کو اس کی خارجہ پالیسی پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا اور مغرب کی بھی آشیر باد نہ ہوتی مگر اس نے سنجیدہ فہمی کا مظاہرہ نہیں کیا اور پھٹ پڑی اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی جسے ہر کوئی ناپسند کر رہا ہے اور اس کے نتائج مجموعی طور سے منفی برآمد ہو گئے‘‘ اب بھی وقت ہے عمران خان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ حکومت میں رہتے ہیں یا نہیں صورت حال کو خراب ہونے سے بچائیں اگر وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں جس کا امکان کم ہے تو بھی وہ صورتحال کو خراب نہ ہونے دیں یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو چھوڑیں گے نہیں سراسر غلط ہے انہیں سیاست کرنی چاہیے سینہ زوری نہیں یہ طرز سیاست کسی سیاست دان و حکمران کی نہیں پھر وہ کس برتے پر کہتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں ان کی تو انہوں نے چیخیں نکلوا دی ہیں کارکنوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے زیادہ تر حکومتی عہدے پیراشوٹرز کو دیئے گئے جو ان کے خلاف اپنی نجی محفلوں میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اڑانیں بھرنے کی تیاری کر رہے ہیں بلکہ بھر چکے ہیں لہٰذا انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے وہ ایک ملک کے سربراہ ہیں کسی ایک کرکٹ ٹیم کے کپتان نہیں کہ سختی نرمی سے کام چل جائے گا لہٰذا وہ سلطان راہی کی طرح بھڑک بازی کو چھوڑ کر ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح عوام سے مخاطب ہوں یہ ان کے فائدے میں ہے اگر انہیں سیانے سمجھاتے ہیں تو انہیں ان کا سمجھایا ماننا پڑے گا لہٰذا بہتر نہیں کہ وہ اپنے آپ ہی حالات کے مطابق لب ولہجہ اختیار کریں حزب اختلاف کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لانے اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ غیرسیاسی طرز عمل اپنائے کیونکہ وہ نئی نہیں اس کے پاس سیاست کاری کا وسیع تجربہ ہے۔ بہرکیف فریقین آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پا رہے پچیس اور ستائس مارچ کو جلسے کرنے جا رہے ہیں جس کے متعلق ان سطور کی اشاعت کے وقت شائد عدالت عظمیٰ کوئی فیصلہ دے چکی ہوگی کہ کون جلسہ کر سکتا ہے اور کون نہیں یا پھر دونوں ہی نہیں۔ فی الحال دونوں ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنا اپنا شو دکھانا چاہتے ہیں مگر اس سے کیا ہوگا نتیجہ تو ایوان کے اندر سے ہی سامنے آنا ہے اس حوالے سے سبھی مطمئن ہیں مگر کامیابی ایک کو ہی ملنی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق عمران خان اقتدارسے الگ ہو کر عوام میں آ جاتے ہیں تو ان کو اپنی جماعت کو مضبوط بنانے کے لیے کافی مدد مل سکتی ہے اگرچہ انہوں نے عوام کو رلا دیا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر پھر بھی وہ لوگوں کے ہمدردیاں حاصل کر سکیں گے پھر فصلی بٹیروں سے بھی انہیں نجات مل سکتی ہے کیونکہ ان کے کارکنان جنہیں سیاست کاری کا بہت تجربہ ہے ان کے گرد ہوں گے تو وہ پوری یکسوئی اور سنجیدگی سے معاملات کو دیکھ سکیں گے مگر کہتے ہیں وہ مشوروں کو نہیں مانتے اپنی مرضی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کی چولیں ہل گئی ہیں انہیں معیشت چلانی آئی نہ اور نہ ہی سیاست کرنا آیا۔ جب انہوں نے میڈیا سے رخ موڑنے کا آغاز کیا توان کی تھوڑی بہت جو کارکردگی تھی وہ بھی سامنے نہیں آ سکی اس وقت بھی وہ اپنے پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے روزنامہ ’’نئی بات‘‘ اور ’’نیو‘‘ ٹی وی چینل کے اشتہارات بند کر دیے ہیں کیوں ؟ کیونکہ وہ تنقید کرتے ہیں ویسے لوگ جب نکو نک آئے ہوئے ہیں تو انہیں کوئی کیا بتائے گا وہ سب کچھ خود محسوس کر اور دیکھ رہے ہیں لہٰذا ’’نئی بات‘‘ کے اشتہارات بحال کیے جائیں اور خوامخواہ اپنے سیاسی مخالفین کی تنقید سے بچا جائے۔ حرف آخر یہ کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی کہ اب دونوں فریق آپس میں لڑنے بھڑنے پر آگئے ہیں مگر کسی کو بھی عوام کا کوئی خیال نہیں بس زبانی کلامی سبھی ان کے ہمدرد ہیں مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں لہٰذا عوام کو جذباتی نہیں ہونا کسی کو کسی سے ناراض بھی نہیں ہونا جب یہ حکمران چاہتے ہیں مل بیٹھتے ہیں تو وہ کیوں نہیں‘ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا!۔

تبصرے بند ہیں.